اسلام آباد:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نہ نکالنے پر توہین عدالت کیس میں ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کو طلب کرلیا۔
جسٹس اعظم خان نے افنان خان، خرم شہزاد اور ہادی حسین کی درخواستوں پر احکامات جاری کیے۔
سماعت کے دوران اسسٹنٹ اٹارنی جنرل راجہ ضمیر الدین اور درخواست گزاروں کے وکیل پیش ہوئے۔ وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد نہیں ہوا ، درخواست گزاروں کے نام تاحال پی سی ایل پر ہیں، جس کے باعث توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔
عدالت نے ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کو طلب کرتے ہوئے سماعت میں ڈویژن بنچ کے بعد تک وقفہ کردیا۔
بعد ازاں جسٹس اعظم خان نے دوبارہ سماعت کی، جس میں ڈی جی پاسپورٹ اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس اعظم خان نے رندھاوا سے استفسار کیا کہ کبھی فہرست مانگی ہے کہ کتنی توہین عدالت کی درخواستیں زیر سماعت ہیں؟ جسٹس اعظم خان نے کہا کہ صرف ان کی عدالت میں 16 توہین عدالت کی درخواستیں زیر سماعت ہیں، جبکہ ہائیکورٹ میں 100 سے زائد درخواستیں ہیں۔
وکیل نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے ایک کمیٹی بنائی ہے، جو ہائیکورٹ کے حکم کو دیکھے گی۔ جسٹس اعظم خان نے کہا کہ اگر ایسا کوئی قانون ہے تو انہیں بتایا جائے۔ وکیل کے مطابق کمیٹی کا کام پی سی ایل سے نام نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ کرنا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے کہا کہ حکم پر عملدرآمد نہ ہونے پر توہین عدالت کا نوٹس کریں گے۔ وکیل نے بتایا کہ اس عدالت میں آنے والے کیسز کمیٹی کے سامنے رکھے گئے ہیں اور کمیٹی نے 346 کیسز کا فیصلہ کیا ہے، مینٹس آف میٹنگ کا انتظار ہے۔
جسٹس اعظم خان نے کہا کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ عدالت کا فیصلہ کمیٹی اسکروٹنی کرے گی۔ ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے وکیل نے عدالت سے 2 دن کا وقت مانگا، جبکہ بتایا کہ افنان خان کے فیصلے پر عملدرآمد ہوگیا ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ پرائیویٹ کونسل کسی سرکاری ادارے کی طرف سے پیش نہیں ہوسکتا۔ اسٹیٹ کونسل موجود ہے تو پرائیویٹ کونسل کیسے پیش ہوسکتا ہے؟ وکیل نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ تھا کہ نام فوری طور پر پی سی ایل سے نکالا جائے، یہ بیوروکریٹک شفل اور عدالتی حکم کا مذاق ہے۔
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے پیر تک عدالتی حکم پر عملدرآمد کی ہدایت کردی۔ جسٹس اعظم خان نے کہا کہ پیر تک وقت دے رہے ہیں، عملدرآمد رپورٹ پیش کریں، پھر فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ توہین عدالت کا نوٹس دیا تو کوئی غیر مشروط معافی نہیں مانی جائے گی۔ عدالت نے کیس کی سماعت پیر تک ملتوی کردی۔

