اثرورسوخ بھی کام نہ آیا حسینہ واجدکی فیملی کوایک اور بڑا جھٹکا

news 1789107608 5980



news 1789107608 5980

(احمد منصور)بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بیٹی اور عالمی ادارۂ صحت کی جنوب مشرقی ایشیا کی علاقائی ڈائریکٹر صائمہ واجد نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے رائٹرزکے مطابق بھارتی اثرورسوخ بھی کام نہ آیااور شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد WHO سے مالی کرپشن کے الزام پر مستعفی ہوگئیں،وہ عالمی ادارہ صحت کے علاقائی ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھیں،ان  کا استعفیٰ عالمی ادارۂ صحت اور بنگلہ دیشی حکام کی جانب سے فراڈ اور جعل سازی کے الزامات کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا۔ 
عالمی ادارۂ صحت کی کمیٹی صائمہ واجد کے خلاف فراڈ اور جعل سازی کی تحقیقات کر رہی تھی، تحقیقاتی کمیٹی نے ایک روز قبل انہیں عہدے سے برطرف کرنے کی سفارش کی تھی۔
رائٹرزکے مطابق ڈبلیو ایچ او نے صائمہ واجد پر چین کے سفر سے متعلق مالی فراڈ اور تعلیمی اسناد کے بارے میں غلط بیانی کے الزامات بھی لگائے،انہوں نے دورہ چین کےبعد غلط اخراجات کا بل جمع کروایا، صائمہ واجد کی ڈاکٹریٹ کی اسناد بھی مشکوک نکلیں، ڈبلیو ایچ او نے ان پر بنگلہ دیش میں ایک پلاٹ غیرقانونی طور پر حاصل کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔
رائٹرزکے مطابق بنگلہ دیش کے انسداد بدعنوانی کمیشن نے مارچ 2025 میں صائمہ واجد کے خلاف مبینہ فراڈ اور جعل سازی کے الزامات عائد کیے،وہ 2024 میں پانچ سالہ مدت کیلئے WHO کی جنوب مشرقی ایشیا کی علاقائی ڈائریکٹر مقرر ہوئی تھیں،ان کے مقابلے میں نیپال کے تجربہ کار ڈاکٹر شمبھو پرساد آچاریہ امیدوار تھے، مگر حسینہ کی بیٹی کو منتخب کیا گیا۔
 سیاسی ماہرین کے مطابق وہ بھارتی اثر و رسوخ اور حسینہ واجد سے قربت کے باعث منتخب ہوئیں،عالمی ادارۂ صحت کے اہم عہدے پر سیاسی خاندان سے وابستہ امیدوار کے انتخاب نے میرٹ اور انتخابی عمل کو متنازع بنا دیا،حسینہ حکومت بھارت کی قریبی اتحادی تھی اور صائمہ واجد کا معاملہ نئی دہلی کیلئے بھی سبکی کا باعث بن گیاہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ، شرح سود پر اہم فیصلہ متوقع
ماہرین کے مطابق فراڈ، جعل سازی اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے بعد صائمہ کا استعفیٰ اس انتخابی فیصلے کو مزید متنازع بناتا ہے،یہ  معاملہ سوال اٹھاتا ہے کہ علاقائی اداروں میں انتخاب واقعی پیشہ ورانہ اہلیت پر ہوتا ہے یا سیاسی تعلقات بھی فیصلہ کن ہوتے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ