2025 کے انتخابات میں جس  پولنگ بوتھ پر تھے 729 ووٹر، وہاں ڈرافٹ لسٹ میں بچا صرف ایک نام

kamal lal


دہلی میں ایس آئی آرکی ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہونے کے بعد پایا گیا کہ لال قلعہ یمنا برج پولنگ بوتھ پر ایس آئی آر سے پہلے 729 ووٹر تھے، لیکن اب صرف ایک شخص کا نام ہے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ پولنگ بوتھ اس بات کی مثال ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ان غریب لوگوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، جو ایسی عارضی بستیوں میں رہتے ہیں جہاں اکثر توڑ پھوڑ اور انہدام کی کارروائیاں ہوتی رہتی ہیں۔

kamal lal

39 سالہ کمل لال، جو جے جے بیلا اسٹیٹ، وجے گھاٹ کے رہائشی ہیں، ان کا نام بھی 2025 کی ووٹر لسٹ میں تھا، لیکن اب انہیں ’مستقل طور پر منتقل شدہ‘ بتایاگیا ہے۔ (تصویر: شراوستی داس گپتا)

نئی دہلی: دہلی کے چاندنی چوک اسمبلی حلقہ کی رہائشی گائتری دیوی تین دہائیوں سے بھی زیادہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بوتھ لیول ایجنٹ(بی ایل اے)رہی ہیں۔ وہ علاقے میں ووٹر کی پہچان کرنے اور انتخابات سے پہلے اس بات کو یقینی بنانے میں پارٹی کی مدد کرتی رہی ہیں کہ ان کے نام ووٹر لسٹ میں شامل ہوں۔

لیکن 31 اگست کو جب ایس آئی آرکی ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہوئی تو 74 سالہ گائتری دیوی نے خود کو اپنے بوتھ کے تقریباً تمام دیگر ووٹر کے ساتھ فہرست سے باہر پایا۔ فہرست میں صرف ایک ووٹر کا نام شامل تھا۔

gaytri devi

گائتری دیوی دہلی کے چاندنی چوک اسمبلی حلقہ کی رہائشی ہیں اور تین دہائیوں سے زیادہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی بوتھ لیول ایجنٹ(بی ایل اے)رہی ہیں۔ ان کا نام بھی ووٹر لسٹ کی ڈرافٹ فہرست سے غائب ہے۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

لال قلعہ یمنا برج پولنگ بوتھ پرایس آئی آرسے پہلے 729 ووٹر تھے، لیکن اب ڈرافٹ لسٹ میں صرف ایک ووٹر کا نام ہے۔

دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر کی جانب سے اپلوڈ کیے گئے ریکارڈ کے مطابق، 11 اگست کو بوتھ لیول ایجنٹوں (بی ایل اے)کے ساتھ اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر(اے ای آر او)کی میٹنگ میں بتایا گیا کہ ایس آئی آر سے پہلے چاندنی چوک اسمبلی حلقہ کے پارٹ نمبر 33 میں کل 729 ووٹر تھے۔ ایس آئی آر کے بعد ان میں سے صرف ایک ووٹر کا نام ڈرافٹ فہرست میں شامل ہے۔

میٹنگ کی کارروائی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے دوبی ایل اےمیٹنگ میں شریک ہوئے تھے، لیکن دستاویز پر صرف بی جے پی کے بی ایل اےکے دستخط ہیں۔

دستاویز میں مزید بتایا گیا ہے کہ 729 ووٹر میں سے ایک غیر حاضر تھا، 632 دوسری جگہ منتقل ہو چکے تھے، 42 کی موت ہو چکی تھی اور 10 کے نام دہرائے گئے تھے۔ دیگر 43 ووٹر کو ’دیگر‘ کے زمرے میں رکھا گیا ہے، جس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے گنتی فارم پر دستخط کرنے سے انکار کیا، اور وہ لوگ جو انہدام کا شکار علاقوں میں رہتے ہیں وغیرہ۔

ایس آئی آر کے عمل کے دوران بی ایل اےکے طور پر کام نہیں کر رہیں گائتری دیوی ڈرافٹ ووٹر لسٹ کی اے ایس ڈی ڈی (غیر حاضر، منتقل، دہرائے گئے یا فوت شدہ) فہرست میں پانچویں نمبر پر ہیں۔ ان کے نام کے سامنے انہیں مستقل طور پر منتقل شدہ بتایا گیا ہے، حالانکہ وہ کئی دہائیوں سے اسی علاقے میں رہ رہی ہیں۔ انہوں نے 2025 کے دہلی اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ دیا تھا۔ اس وقت وہ بی جے پی کے لیےبی ایل اےکے طور پر کام کر رہی تھیں۔

گائتری دیوی نے دی وائر سے کہا،’میں نے اپنی پوری زندگی یہیں گزاری ہے۔ میرے پاس آدھار، راشن کارڈ، اسکول چھوڑنے کا سرٹیفکیٹ اور زمین سے متعلق دستاویز سمیت تمام کاغذات ہیں۔ میرے والدین مجاہد آزادی تھے اور میری والدہ کو اندرا گاندھی حکومت کے دور میں مجاہدین آزادی سے متعلق پنشن بھی ملتی تھی۔ میرے پاس اس کے بھی کاغذات ہیں۔ اس کے باوجود اب میرا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ کیا اب ہمیں گھس پیٹھیا کہا جائے گا؟‘

چاندنی چوک کےاے ای آر اوسنیل کمار نے کہا کہ پولنگ بوتھ کی ڈرافٹ لسٹ میں صرف ایک ووٹر کا نام شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں 2023 میں انہدامی کارروائی ہوئی تھی۔ تاہم، اگر رہائشی مستقل طور پر وہاں رہنے کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں تو ان کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔

کمار نے دی وائر سے کہا،’اگر وہ مستقل رہائش کا کوئی دستاویز پیش کرتے ہیں، خواہ وہ کرایہ نامہ ہو یا بجلی یا پانی کا بل، تو وہ فارم 6 بھر سکتے ہیں اور حتمی ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کرا سکتے ہیں۔ یہ ابھی صرف ڈرافٹ لسٹ ہے۔‘

کمل لال جے جے بیلا اسٹیٹ وجے گھاٹ کے رہائشی ہیں۔ ان کا نام بھی 2025 کی ووٹر لسٹ میں تھا، لیکن اب انہیں ’مستقل طور پر منتقل شدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

لال نے دی وائر کو بتایا کہ تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے علاقے میں آئے بوتھ لیول آفیسر(بی ایل او)کی 500 سے زائد فارم بھرنے میں مدد کی تھی۔ اس کے باوجود 727 دیگر لوگوں کے ساتھ ان کا نام بھی مسودہ فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔

لال نے کہا،’میں نے جے جے بیلا اسٹیٹ کی 1961، 1975، 2002 اور 2025 کی ووٹر لسٹ دکھائی۔ ہم نے ایس آئی آر کے فارم بھی بھرے تھے اور اس میں اپنے بزرگوں کی معلومات بھی دی تھیں، جن کے نام 2002 کی ووٹر فہرست میں تھے۔ اس کے باوجود ہمارا نام مسودہ فہرست سے ہٹا دیا گیا، کیونکہ ہمیں بتایا گیا کہ 2023 میں علاقے میں انہدامی کارروائی ہوئی تھی، ایسا ہمیں بتایا گیا ہے۔ ‘

اس پولنگ بوتھ سے بڑی تعداد میں نام حذف کیے جانے سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ دستاویزوں کی کمی یا انہدام کی کارروائی کے باعث مستقل رہائش کا ثبوت نہ دے پانے کی وجہ سے ایس آئی آر کے دوران غریب لوگوں کے نام کس طرح ووٹر فہرست سے خارج ہو رہے ہیں۔

آٹھ ستمبر کو دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر(سی ای او)نے ایکس پر ایک ای میل جاری کیا۔ یہ ای میل 2 ستمبر کو ووٹر ادھیکار منچ کی جانب سے بھیجے گئے خط کے جواب میں بھیجا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا ہے کہ منہدم کی جا چکی کالونیوں کے ووٹر فارم 8 کے ذریعے اپنا نام ووٹر فہرست میں شامل کرانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

ای میل میں کہا گیا،’جہاں تک منہدم کی گئی کالونیوں کے ووٹروں کا تعلق ہے، یہ مطلع کیا جاتا ہے کہ کمیشن کی موجودہ ہدایات کے مطابق، گنتی کے فارم ان ووٹروں کو دیے جانے ہیں جو ووٹر فہرست میں درج پتے پر رہتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ عوامی نمائندگی ایکٹ، 1950 کی دفعہ 19 کے مطابق، ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کی بنیادی شرائط میں سے ایک متعلقہ انتخابی حلقے کا عام رہائشی ہونا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی بھی وجہ سے اس انتخابی حلقے کا عام رہائشی نہیں رہا ہے تو وہ فارم 8 کے ذریعے اپنا پتہ تبدیل کرنے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔‘

تاہم، اسی ای میل میں ڈپٹی سی ای او پرشانت کمار پرساد نے کہا کہ اگر کسی ووٹر کا نام مسودہ فہرست میں ’منتقلی یا کسی اور وجہ سے موجود نہیں ہے، تو اسے ایس آئی آر کے دعووں اور اعتراضات درج کرانے کی مدت کے دوران حلف نامے اور ضروری دستاویز کے ساتھ فارم 6 کے ذریعے ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کرانے کے لیے درخواست دینا ہوگی۔ ‘

سماجی کارکن انجلی بھاردواج کا کہنا ہے، ’ایس آئی آر کے تحت رہائش کا ثبوت ضروری ہے، لیکن ان میں سے بہت سے لوگ عارضی جھونپڑیوں میں رہ رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو انہیں ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا کوئی راستہ نکالنا چاہیے، کیونکہ انہوں نے 2025 میں بھی ووٹ دیا تھا۔ اگر کوئی حل نہیں نکالا گیا اور ان کے نام شامل نہیں کیے گئے تو وہ اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو جائیں گے۔‘

بھاردواج نے ووٹر ادھیکار منچ کے اراکین کے ساتھ منگل کو دہلی میں ایس آئی آر کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی۔ رپورٹ میں دہلی کے چیف الیکٹورل آفیسر(سی ای او)کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا تھا اور پایا گیاکہ ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے ہی دہلی کی ووٹر لسٹ سے 11 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کیے جا چکے تھے۔

اکتوبر میں چیف الیکشن کمشنر(سی ای سی)گیانیش کمار نے کہا تھا کہ جن لوگوں کے پاس اپنا گھر نہیں ہے یا جنہیں گھر کا نمبر الاٹ نہیں کیا گیا ہے، انہیں پڑوسی کے گھر کا نمبر یا صفر نمبر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا،’جن لوگوں کے پاس اپنا گھر نہیں ہے یا جنہیں پنچایت یا میونسپل اداروں کے حکام نے گھر کا نمبر الاٹ نہیں کیا ہے، انہیں یا تو کسی پڑوسی کے گھر کا نمبر دیا جاتا ہے یا پھر صفر نمبر دیا جاتا ہے۔‘

جنوری 2025 میں ہوئے خصوصی مختصر نظرثانی کے مطابق، لال قلعہ یمنا برج پولنگ بوتھ پر بھی 909 ووٹر رجسٹرڈ  تھے۔ تاہم، اگست میں اے ای آر او اور بی ایل اے کے اجلاس کی کارروائی میں درج اعداد و شمار کے مطابق، ایس آئی آر سے پہلے یہاں کل 729 ووٹر تھے۔

دی وائر نے دہلی کے سی ای او کو سوالوں کی ایک فہرست بھیجی ہے۔ جواب موصول ہونے پر اس رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

ایس آئی آر کے بعد جاری کیے گئے مسودہ ووٹر لسٹ کے مطابق، دہلی میں رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد 1,45,10,299 سے کم ہو کر 97,53,577 رہ گئی ہے۔ یعنی 47 لاکھ سے زیادہ نام حذف کر دیے گئے ہیں اور ووٹر لسٹ میں تقریباً 33 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہ شہر کے کل ووٹرکا تقریباً ایک تہائی ہے۔ حتمی فہرست میں یہ اعداد و شمار تبدیل ہو سکتے ہیں، لیکن 2025 میں اسمبلی انتخابات ہونے کے باوجود ایس آئی آر کے تیسرے مرحلے کی مسودہ فہرست میں دہلی میں نام حذف کیے جانے کی شرح سب سے زیادہ رہی ہے۔

مسودہ فہرست میں سب سے زیادہ نام ان ریاستوں میں حذف کیے گئے ہیں، جہاں گزشتہ تین برسوں کے دوران انتخابات ہوئے ہیں۔

دی وائر نے پہلے بھی رپورٹ کیا تھا کہ دہلی کی ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے 47.56 لاکھ ناموں میں زیادہ تر کام کاج کرنے والی عمر کے ایسے مرد ہیں، جو عارضی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔ ان میں پوروانچل خطے سے آنے والے مزدوروں کی تعداد غیر متناسب طور پر زیادہ ہے۔ دستیاب آبادیاتی اعداد و شمار سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حذف کیے گئے افراد میں مستقل متوسط طبقے کے مقابلے میں یومیہ یا بلیو کالر کام  کی تلاش کرنے والے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ