’میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک طالبعلم کو اس ملک میں اور کیا جھیلنا باقی رہ گیا ہے؟‘

Satya Niken Cover


دہلی کے ستیہ نکیتن میں رہنے والے طلبہ اس علاقے کا انتخاب اپنی مرضی سے نہیں کرتے۔ ساؤتھ کیمپس کے آس پاس رہنے کے محفوظ اور سستے متبادل محدود ہیں اور ڈی یو کے ہاسٹل میں سیٹیں اتنی کم ہیں کہ زیادہ تر طلبہ نجی پی جی  اور کرایہ کے فلیٹ پر انحصار کرتے ہیں۔ طلبہ کہتے ہیں کہ مسئلہ صرف پرانی یا غیر محفوظ عمارتوں کا ہی نہیں ہے، بلکہ پورے سسٹم کا ہے، جس میں طلبہ کے تحفظ اور ضرورت کو کاروباری مفادات سے کم ترجیح دی جاتی ہے۔

Satya Niken Cover

دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں ایک عمارت کے گرنے سے 7 لوگوں کی موت ہو گئی۔ (تمام تصویریں: شروتی شرما)

نئی دہلی:دہلی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہر سال ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں طلبہ دہلی آتے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد ایسے طلبہ کی ہوتی ہے، جن کے لیے راجدھانی میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ سب سے پہلا چیلنج رہنے کے لیے جگہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔ یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں محدود سیٹوں کی وجہ سے زیادہ تر طلبہ کو پی جی یا کرایہ کے مکانوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جنوبی دہلی کا ستیہ نکیتن ایسے ہی طلبہ کے لیے طویل عرصے سے ایک اہم ٹھکانہ رہا ہے۔

لیکن 6 ستمبر کو ستیہ نکیتن میں پانچ منزلہ پی جی عمارت کے منہدم ہونے کے بعد یہ سوال اچانک کہیں زیادہ سنگین ہو گیا کہ جن جگہوں کو طلبہ اپنا گھر سمجھ کر رہ رہے ہیں، کیا وہ واقعی رہنے کے لیے محفوظ ہیں؟

حادثے میں سرکاری طور پر سات لوگوں کی موت ہوئی ہے اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ عمارت میں بڑی تعداد میں طلبہ رہ رہے تھے، جن میں زیادہ تر دہلی یونیورسٹی کے ساؤتھ کیمپس کے کالجوں میں پڑھتے تھے۔

حادثے کے بعد ستیہ نکیتن کے پی جی میں رہنے والے کئی طلبہ اپناروم چھوڑ کر کسی دوسری جگہ یا رشتہ داروں کے گھروں میں چلے گئے ہیں۔ کچھ طلبہ اب بھی وہیں رہ رہے ہیں، لیکن خوف کے سائے میں۔ ان کے سامنے فوراً کوئی دوسرا متبادل تلاش کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے آس پاس محفوظ اور کفایتی قیمت والی رہائش محدود ہے اور یونیورسٹی کے ہاسٹلوں میں تمام طلبہ کے لیے خاطرخواہ جگہ نہیں ہے۔

ستیہ نکیتن میں رہنے والے طلبہ سے بات چیت میں بار بار ایک ہی بات سامنے آتی ہے؛ وہ یہاں اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مجبوری میں رہتے ہیں۔

Satya Nagar

راحت اور امدادی کارروائیوں میں مصروف دہلی پولیس اور این ڈی آر ایف کی ٹیم۔

جھارکھنڈ کے دھنباد کی رہنے والی نشو دہلی یونیورسٹی کے شری وینکٹیشور کالج میں گریجویشن کے دوسرے سال کی طالبہ ہیں۔ وہ حادثے والی عمارت سے تقریباً سات آٹھ مکان کے فاصلے پر واقع ایک تین منزلہ پی جی میں رہتی ہیں۔ حادثے کے بعد وہ اپنے کمرے میں واپس جانے سے ڈر رہی ہیں اور سوموار کی شام تک وینکٹیشور کالج میں رہ رہی تھیں، جہاں ستیہ نکیتن کے پی جی میں رہنے والے کئی دیگر طلبہ کے لیے عارضی رہائش کا انتظام کیا گیا ہے۔

’میں اس عمارت کے پاس ہی ایک تین منزلہ پی جی میں رہتی ہوں۔ حادثے کے بعد وہاں رہنے والی باقی لڑکیوں میں سے کچھ اپنے رشتہ داروں کے گھروں میں چلی گئیں۔ مجھے بھی وہاں رہنا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا، اس لیے میں کالج آ گئی۔‘ نشو نے دی وائرکو بتایا۔

نشو جس پی جی میں رہتی ہیں، اس میں صرف چار کمرے ہیں۔ وہ نان فوڈ پی جی (جہاں کھانے کا انتظام نہیں ہوتا) کے لیے ہر ماہ 9,000 روپے ادا کرتی ہیں، اور اے سی کی سہولت حاصل کرنے کے لیے الگ سے رقم دینی پڑتی ہے۔ ان کے مطابق، ستیہ نکیتن میں 15 سے 17 ہزار روپے میں ایسے پی جی ملتے ہیں جہاں کھانا تک نہیں ملتا، جبکہ کھانادینے والے پی جی کا کرایہ 24 سے 25 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔

Nishu

وینکٹیشور کالج کی طالبہ نشو۔

وہ کہتی ہیں،’غیر قانونی تعمیرات کے علاوہ اس علاقے کے پی جی کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کرایہ بہت زیادہ ہے، لیکن اس کے مطابق سہولیات نہیں ملتیں۔ کمرے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ واشنگ مشین جیسی بنیادی سہولیات بھی نہیں ہوتیں۔ طلبہ بہت زیادہ پیسے دے رہے ہیں، لیکن اس کے بدلے انہیں مناسب سہولیات نہیں ملتیں۔ سب سے بری بات یہ ہے کہ اس مسئلے کی خبر لینے والا کوئی نہیں ہے۔ ‘

نشو نے یہ بھی الزام لگایا کہ پی جی میں رہنے والے طلبہ کو اگر عمارت یا اس سے متعلق کوئی شکایت ہو تو مالک اکثر اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے۔

’اگر پی جی کے اندر جاری تعمیراتی کام یا عمارت سے متعلق کوئی مسئلہ ہو اور ہم مالک سے شکایت کریں تو وہ ہماری بات سنتے ہیں، لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ ‘

انہوں نے بتایا، ’ اس کے علاوہ پی جی والے ایک یا دو سال کے معاہدہ  پربھی دستخط کرواتے ہیں اور سکیورٹی ڈپازٹ بھی لیتے ہیں۔ ایک بار پیسے ادا کرنے کے بعد طلبہ وہاں رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، چاہے انہیں وہاں کے حالات پسند نہ ہوں۔ ‘

نشو کا کہنا ہے کہ ستیہ نکیتن میں بہت سے پی جی لوگوں کے اپنے گھروں کے اندر ہی بنے ہوئے ہیں اور ان کی جانکاری میں کچھ کے پاس پی جی چلانے کا لائسنس بھی نہیں ہے۔ حادثے کے بعد اب انہیں اس بات کا ڈر زیادہ ستانے لگا ہے کہ جس عمارت کو وہ اپنا گھر سمجھ کر رہ رہی ہیں، وہ حقیقت میں کتنی محفوظ ہے۔

تاہم خوف اور تمام مشکلات کے باوجود نشو فی الحال ستیہ نکیتن میں ہی رہیں گی۔ وہ کہتی ہیں،’میں یہاں ایک سال سے رہ رہی ہوں اور فی الحال شاید یہیں رہنا پڑے گا۔ اتنی جلدی کوئی ایسی جگہ تلاش کرنا آسان نہیں ہے جو لڑکیوں کے لیے محفوظ ہو، آس پاس کا ماحول اچھا ہو اور کرایہ بھی ہماری پہنچ میں ہو۔ اس لیے ابھی میرے پاس فوراً کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔‘

ہم یہاں اپنی مرضی سے نہیں رہتے

ستیہ نکیتن میں رہنے والے طلبہ سے بات چیت میں ایک بات بار بار سامنے آتی ہے، وہ یہ کہ طلبہ اس علاقے کا انتخاب اپنی مرضی سے نہیں کرتے۔ ساؤتھ کیمپس کے آس پاس رہنے کے لیے محفوظ اور سستے متبادل محدود ہیں اور یونیورسٹی کے ہاسٹل میں سیٹیں اتنی کم ہیں کہ زیادہ تر طلبہ کو نجی پی جی اور کرایہ کے فلیٹ پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

موتی لال نہرو کالج کے دوسرے سال کے طالبعلم راج جھارکھنڈ سے دہلی تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں۔ گزشتہ ایک سال سے وہ ستیہ نکیتن میں پی جی میں رہ رہے ہیں۔ ان کے پی جی میں ایک بیڈ کا کرایہ 12 سے 15 ہزار روپے سے کم نہیں ہے اور کھانے پینے کے اخراجات شامل کرنے کے بعد ماہانہ خرچ تقریباً 20 ہزار روپے تک پہنچ جاتا ہے۔

Raj

دہلی یونیورسٹی کے طالبعلم راج۔

حادثے کے دن راج اپنے پی جی میں ہی تھے۔

’اتوار کا دن ہونے کی وجہ سے ہم لوگ اپنے کمروں میں تھے۔ اچانک تیز آواز آئی اور پتھر گرنے لگے۔ میرے دوستوں نے بتایا کہ ہاسٹل ڈیز پی جی گر گیا ہے۔ میں باہر بھاگ کر آیا تو دیکھا کہ پانچ منزلہ عمارت مکمل طور پر گر چکی تھی۔ اس میں موتی لال نہرو کالج کے بھی تقریباً 10 سے 12 لڑکے رہتے تھے اور ان میں سے کئی میرے جاننے والے تھے۔ میں نے انہیں فون کیا، لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا۔ شام تک ان کے فون کی گھنٹی بھی آنی بند ہو گئی اور اس کے بعد سے مجھے کوئی اپڈیٹ نہیں ملی۔ ‘

راج کہتے ہیں کہ واقعہ کے بعد سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ جو طلبہ اپنے خاندان سے سینکڑوں کلومیٹر دور تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں، ان کے پاس محفوظ رہنے کے لیے کیا متبادل ہے۔

’ہماری مجبوری یہ ہے کہ دہلی یونیورسٹی کے آس پاس طلبہ کے لیے خاطرخواہ  ہاسٹل نہیں ہیں۔ ستیہ نکیتن ساؤتھ کیمپس کا ایک بڑا ’اسٹوڈنٹ ہب‘ ہے۔ آس پاس موتی لال نہرو کالج، وینکٹیشور کالج، رام لال کالج سمیت کئی کالج ہیں، لیکن ہاسٹل کی سہولت بہت کم کالجوں میں ہے۔ اس لیے ہمیں کالج کے قریب رہنے کے لیے ستیہ نکیتن جیسے علاقوں میں پی جی لینا پڑتا ہے۔‘

ملک میں طلبہ کی زندگی کی قیمت اور تعلیمی نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے وہ کہتے ہیں،’ایک طالبعلم فیس میں اضافے سے جوجھے، پیپر لیک سے جوجھے اور ان سب کے بعد جب رہنے کی جگہ تلاش کرے تو اسے یہ ڈر بھی رہے کہ جس کمرے میں وہ رہ رہا ہے، کہیں وہی اس کے اوپر نہ گر جائے اور اس کی جان نہ چلی جائے۔ میں حکومت سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک طالبعلم کو اس ملک میں اور کیا کیا جھیلنا  باقی رہ گیا ہے؟ کم از کم حکومت اور ذمہ دار اداروں کو اس معاملے پر کچھ تو کرنا چاہیے۔‘

سومیا سنگھ کا تعلق اتر پردیش سے ہے اور وہ موتی لال نہرو ایوننگ کالج کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں، ’ہم یہاں اپنی مرضی سے نہیں رہتے۔ دہلی یونیورسٹی میں خاطرخواہ  ہاسٹل نہیں ہیں۔ ہر سال ملک کے مختلف حصوں سے طلبہ یہاں تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں اور ان کے پاس کالج کے آس پاس رہنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ اگر کالج ہاسٹل فراہم نہیں کرے گا تو طلبہ مجبوری میں مہنگے پی جی یا فلیٹ لیں گے۔ ‘

بہار کی کیرتی مشرا بھی موتی لال نہرو ایوننگ کالج میں پڑھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ گھر سے دور رہنے والے طلبہ کے لیے یہ ڈر صرف ان کا اپنا نہیں بلکہ ان کے والدین کا بھی ہے۔

Saumya Kirt

موتی لال نہرو کالج کی طالبہ سومیا اور کیرتی۔

’ہم گھر سے دور رہ کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن ہمارے والدین ہم سے دور ہیں۔ وہ چوبیس گھنٹے یہی سوچتے رہتے ہیں کہ ان کے بچے محفوظ ہیں یا نہیں۔ ہم اتنے مہنگے پی جی میں رہتے ہیں، ہزاروں روپے کرایہ دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہماری حفاظت کی کوئی گارنٹی نہیں ہے،‘ وہ کہتی ہیں۔

کیرتی مزید کہتی ہیں،’ایک طالبعلم تعلیم حاصل کرنے کے لیے دہلی آتا ہے اور صرف رہائش کے لیے ہر ماہ 15 سے 22 ہزار روپے تک خرچ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ بجلی، کھانے اور دیگر اخراجات الگ ہیں۔ اتنا مہنگا پی جی لینے کے باوجود اگر طالبعلم کو یہ یقین نہ ہو کہ جس کمرے میں وہ رہ رہا ہے وہ محفوظ ہے اور اس کے اوپر نہیں گرے گا، تو یہ بہت سنگین مسئلہ ہے۔‘

پی جی مالکان کو صرف پیسوں سے مطلب ہے

شری وینکٹیشور کالج کے چوتھے سال کے طالبعلم سنجے ساہو نے اپنے ابتدائی تین سال ستیہ نکیتن میں گزارے ہیں۔ پہلے سال وہ پی جی میں رہے اور اگلے دو سال ایک فلیٹ میں۔ حادثے کے بعد سے وہ وینکٹیشور کالج میں پناہ لیے ہوئے گھبرائے ہوئے طلبہ کے ساتھ تھے۔

ان کے مطابق ستیہ نکیتن کا مسئلہ صرف پرانی یا غیر محفوظ عمارتوں کا نہیں، بلکہ اس پورے ہاؤسنگ سسٹم کا ہے، جس میں طلبہ کی ضروریات کو کاروبار سے کم اہمیت دی جاتی ہے۔

Satya Niketan Building

ستیہ نکیتن میں خستہ حال عمارت۔

’میرے خیال میں سب سے بڑا مسئلہ ذہنیت کا ہے۔ یہاں جو پی جی مالکان ہیں، انہیں اس بات سے زیادہ فرق پڑتا ہے کہ ان کے پاس کتنے پیسے آ رہے ہیں، اس بات سے نہیں کہ طلبہ کس طرح رہ رہے ہیں یا عمارت کی حالت کیا ہے۔ اگر وہ یہ سوچیں کہ یہاں رہنے والے طلبہ ان کے اپنے بچے بھی ہو سکتے ہیں، تو شاید وہ انہیں بہتر اور محفوظ سہولیات فراہم کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔‘

سنجے بتاتے ہیں کہ حادثے کے بعد آس پاس کے پی جی میں رہنے والے طلبہ میں ڈر کا ماحول ہے۔ ان کے مطابق، وینکٹیشور کالج میں اس رات تقریباً 40-50 لڑکیاں اور 30-40 لڑکے رکے تھے۔ بعد میں کئی طلبہ اپنے گھروں یا رشتہ داروں کے یہاں چلے گئے۔

’یہ حادثہ خصوصی طور پر فرسٹ ایئر کے طلبہ کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے وہ اپنا گھر چھوڑ کر کالج آئے تھے اور ان کے سامنے اتنا بڑا حادثہ پیش آ گیا۔ میری ایک طالبعلم سے بات ہوئی، جس کے والدین نے یہاں تک کہہ دیا کہ ڈگری چھوڑ دو اور گھر واپس آ جاؤ، کیونکہ حفاظت زیادہ ضروری ہے۔‘

اگر ڈی یو میں ہاسٹل ہوتا تو پی جی میں کیوں رہتے؟

آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی دہلی یونیورسٹی یونٹ کی صدر سابی اس حادثے کو ایک الگ واقعہ کے طور پر نہیں دیکھتیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ستیہ نکیتن میں اس سے پہلے بھی عمارت گر چکی ہے اور اس کے باوجود طلبہ کی رہائشی حفاظت کے حوالے سے کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہوئی۔

’یہ پہلی بار نہیں ہے۔ 2022 میں بھی ستیہ نکیتن میں ایک عمارت گری تھی، جس میں طلبہ ملبے تلے دب گئے تھے اور ایک طالبعلم کی جان چلی گئی تھی۔ اس کے باوجود آج تک حالات نہیں بدلے ہیں۔ ‘

سابی کے مطابق، طلبہ کا ستیہ نکیتن جیسے علاقوں میں رہنا ان کی پسند نہیں بلکہ ہاسٹل کی کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والی مجبوری ہے۔

’طلبہ اپنی مرضی سے یہاں نہیں رہتے بلکہ مجبوری میں رہتے ہیں، کیونکہ دہلی یونیورسٹی میں خاطرخواہ ہاسٹل ہی نہیں ہیں۔ جب یونیورسٹی کے پاس مناسب تعداد میں ہاسٹل نہیں ہیں تو طلبہ کو ایسی جگہوں پر رہنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے، جہاں انتہائی تنگ گلیاں ہیں اور پرانی عمارتوں کا مناسب حفاظتی آڈٹ تک نہیں ہوا ہے۔ ‘

وہ اسے ادارہ جاتی ناکامی قرار دیتے ہوئے دہلی حکومت، یونیورسٹی انتظامیہ اور طلبہ کی سیاست سے وابستہ اداروں کی جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔

Satya Niketan Protest

اگر یہی مستقبل ہے تو کیسا مستقبل ہے؟

حادثے کے بعد بے گھر طلبہ کی مدد کے لیے کئی طلبہ تنظیمیں اور کالج بھی آگے آئے ہیں۔ ماتا سندری کالج کی طالبہ جسٹن این ایس ایس کی جانب سے ڈونیشن ڈرائیو میں شامل تھیں۔ وہ کھانا، پانی، ٹوائلٹ کا سامان، کپڑے اور دوسری ضروری اشیا لے کر ستیہ نکیتن پہنچی تھیں۔

’اس حادثے کے بعد بہت سے طلبہ بے گھر ہو گئے ہیں۔ کئی بچوں کے پاس ابھی رہنے کی جگہ نہیں ہے اور وہ کالجوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ ہم ان کے لیے کھانا، پانی، کپڑے اور دوسری ضروری چیزیں لے کر آئے ہیں، کیونکہ جو بنیادی سہولیات ان کے پاس ہونی چاہیے تھی، وہ اس حادثے کے بعد ان سے چھن گئی ہیں۔ ‘

جسٹن کہتی ہیں کہ یہ صرف ایک عمارت گرنے کا واقعہ نہیں ہے۔

’میرے لیے یہ صرف ایک حادثہ نہیں ہے، بلکہ یہ پورے ملک کی ناکامی ہے۔ اگر ہندوستان اپنے طلبہ کے لیے کام نہیں کر سکتا تو آخر وہ کس کے لیے کام کر رہا ہے؟ ہم ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ طلبہ ملک کا مستقبل ہیں۔ لیکن اگر یہی ہمارا مستقبل ہے تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کس طرح کے مستقبل کی طرف جا رہے ہیں۔ ‘

حادثے کے بعد اب ’نقل مکانی

دی ہندو کی 9 ستمبر کی رپورٹ کے مطابق، دہلی یونیورسٹی کے 150 سے زیادہ طلبہ غیر معینہ مدت کے احتجاج پر ہیں۔ طلبہ کا الزام ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہو سکتی ہے اور تین چار، یا ممکنہ طور پر اس سے بھی زیادہ، طلبہ اب بھی لاپتہ ہو سکتے ہیں۔ طلبہ نے تمام مہلوکین کی تعداد عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہر متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے معاوضہ، تمام پی جی کا حفاظتی آڈٹ، ذمہ دار لوگوں کے خلاف کارروائی اور دہلی یونیورسٹی میں خاطر خواہ  ہاسٹل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Satya Niketan Protest2

ستیہ نکیتن میں عمارت گرنے پر طلبہ کی ہلاکت کے بعد این ایس یو آئی کے طلبہ احتجاج کرتے ہوئے۔

طلبہ نے بیسمنٹ کے حوالے سے بھی سوال اٹھائے تھے۔ اخبار کے مطابق، دہلی فائر سروس کو سوموار کی رات بیسمنٹ کی دوبارہ تلاشی لینے کے لیے موقع پر جانا پڑا۔ این ڈی آر ایف کی جانب سے امدادی کارروائی ختم کیے جانے کے بعد تمام ایجنسیاں وہاں سے واپس چلی گئی تھیں۔ بعد میں جب یہ سوال اٹھا کہ بیسمنٹ کی مکمل تلاشی لی گئی تھی یا نہیں، تو فائر سروس کے اہلکاروں نے وہاں دوبارہ تلاشی کی۔ حکام کے مطابق، اس تلاشی کے دوران کوئی لاش نہیں ملی۔

دریں اثنا، چار یا اس سے زیادہ منزل والی  پی جی عمارتوں میں رہنے والے طلبہ سے اپنے کمرے خالی کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ ایسی عمارتوں کو انتظامیہ کی جانب سے منہدم کیے جانے کے خدشے کے درمیان طلبہ اپنا سامان لے کر علاقے سے نکل رہے ہیں۔

اس حادثے کے بعد ستیہ نکیتن میں ایک طرف وہ طلبہ ہیں جو ہلاکتوں کی سرکاری تعداد پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ دوسری طرف وہ طلبہ ہیں جو اپنا سامان باندھ کر پی جی خالی کر رہے ہیں، کیونکہ اب انہیں اپنے کمرے کی چہار دیواری پر بھروسہ نہیں رہا۔ اور تیسری طرف وہ طلبہ ہیں جو کالجوں میں عارضی جگہ تلاش کر رہے ہیں، کیونکہ دہلی میں واپس جانے کے لیے ان کے پاس کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں ہے۔

ستیہ نکیتن سے نقل مکانی کرتے طلبہ اس سسٹم کی تصویر پیش کرتے ہیں، جس میں دہلی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آنے والے ہزاروں طلبہ کے لیے محفوظ رہائش آج بھی کوئی سہولت نہیں بلکہ ایک کمیاب متبادل ہے۔

ستیہ نکیتن سے دی وائر کی ویڈیو رپورٹ دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ