سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ڈرون حملے قابل مذمت: پاکستان

398413 2110932215


پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتے کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔

جمعرات کی صبح ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں تیل کی پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ڈرون عراق سے لانچ کیے گئے تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

سعودی عرب نے حملوں کے ایک روز بعد جمعے کو پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا، جبکہ حملوں کے فوراً بعد ہنگامی اور ماہر تکنیکی ٹیمیں پائپ لائن کی سکیورٹی اور حفاظت کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مصروف ہیں۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک بیان میں کہا، ’پاکستان سعودی عرب کی ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر کیے گئے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے، جن کے نتیجے میں پائپ لائن کو نقصان پہنچا اور شہری زخمی ہوئے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ان حملوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون کے ساتھ ساتھ برادر ملک سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔‘

سجاد حیدر خان نے سعودی عرب کی علاقائی خودمختاری، سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’پاکستان خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے حصول کے لیے مخلصانہ کوششیں کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی جاری رکھے گا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پائپ لائن کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب چند روز قبل شمالی یمن کے بیشتر حصے پر قابض حوثیوں نے منگل کو ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران پر ڈرونز اور میزائل داغے تھے۔ اس گروپ نے توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد شہری زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

دفاعی معاہدہ

گذشتہ ماہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں ایک اہم سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

رواں ہفتے حوثیوں کے حملوں کے بعد پاکستان کے وزیر دفاع نے خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب کے خلاف جارحیت کی صورت میں سہ فریقی دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے۔

پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ ستمبر 2025 میں دوطرفہ دفاعی معاہدہ بھی کیا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط سکیورٹی تعاون کو باضابطہ شکل دی گئی۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور متعدد دیگر شعبوں میں بھی قریبی اور دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ