وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت کیش لیس معیشت اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کی معیشت کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر مبنی نظام میں تبدیل کرنے کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے معاشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کو کیش لیس نظام پر منتقل کرنے سے پائیدار معاشی ترقی ہوگی اور شفافیت کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے QR کوڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے فعال مرچنٹس کی تعداد میں ایک سال میں 300 فیصد اضافے پر ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مرچنٹس کو مزید راغب کرنے کے لیے آگاہی مہم مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ جون 2025 سے جون 2026 تک ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرنے والے مرچنٹس کی تعداد بڑھ کر 20 لاکھ 3 ہزار ہو چکی ہے۔ نادرا کی 99 فیصد ادائیگیاں ڈیجیٹائز ہو چکی ہیں جبکہ کیش ادائیگیاں 71 فیصد سے کم ہو کر صرف 1 فیصد رہ گئی ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ایک کروڑ مستفیدین کو تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔
بریفنگ کے مطابق موبائل بینکنگ ایپ استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک سال میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 13 کروڑ 70 لاکھ ہو گئی ہے۔ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران 11.9 ارب ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں، جبکہ بیرونِ ملک سے موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کا 92 فیصد ڈیجیٹل ذرائع سے وصول ہوا۔
وزیراعظم نے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو کیش لیس معیشت کے فروغ میں بھرپور کردار ادا کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کیش لیس اکانومی سے متعلق تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن جاری ہے اور حتمی رپورٹ سفارشات کے ساتھ نومبر 2026 میں پیش کی جائے گی۔
پاکستان بینکنگ ایسوسی ایشن نے رکن بینکوں کو RAAST سمیت ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے اہداف دیے ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزرا احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، چیئرمین نادرا اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے۔

