صنعا،
یمن میں باغی حوثی تحریک نے بحیرۂ احمر کے پورے یمنی ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق جمعے کی صبح بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز کے خلاف تیز رفتار پیش قدمی کرتے ہوئے حوثیوں نے ساحل پر واقع آخری قصبوں سمیت آبنائے باب المندب کے جزیروں تک بھی قبضہ کر لیا۔
اس پیش قدمی سے حوثیوں کا خلیج عدن اور بحیرۂ احمر کو ملانے والی اہم بحری گزرگاہ باب المندب پر کنٹرول مزید مضبوط ہو گیا ہے، جو آبنائے ہرمز کا متبادل بحری راستہ سمجھا جاتا رہا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق حوثیوں نے العمری چوکی اور جزیرہ زقر پر بھی مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
حکومتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ حوثی جنگجو ساحلی قصبے ذباب اور میون (پیریم) جزیرے تک پہنچ چکے ہیں۔ یمنی حکومت یا سعودی حمایت یافتہ فورسز کی جانب سے فوری تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم مغربی یمن میں شدید لڑائی کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔
دریں اثنا اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے سعودی عرب پر حوثی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 2022ء کے جنگ بندی معاہدے کے بعد پہلی بار یمن دوبارہ وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

