اگلے مہینے سے لوگوں اور تاجروں (مرچنٹ) کے درمیان ہونے والے 2,000 روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر نیا چارج – مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ لاگو ہوگا۔ اب تک یو پی آئی لین دین پر اس طرح کا کوئی چارج نہیں لیا جاتا تھا۔ تاہم، لوگوں کے درمیان ہونے والے لین دین پر فی الحال کوئی چارج نہیں ہوگا۔

نئی دہلی: حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے مہینے سے لوگوں اور تاجروں کے درمیان ہونے والے 2,000 روپے سے زیادہ کے یو پی آئی لین دین پر مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی ار) لاگو ہوگا۔ یہ فیصلہ اس قانون کی پارلیامنٹ سے منظوری کے ایک ماہ بعد کیا گیا ہے، جس کے ذریعے اس طرح کے چارج لگانے کی اجازت دی گئی تھی۔
اب تک یو پی آئی لین دین پر اس طرح کا کوئی چارج نہیں لگتا تھا۔ یہ نیا چارج 15 اکتوبر سےلاگو ہوگا، تاہم لوگوں کے درمیان ہونے والے لین دین پر کوئی چارج نہیں لگےگا۔
نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا(این پی سی آئی) نے منگل کو کہا کہ اس چارج سے حاصل ہونے والی رقم یو پی آئی کو بہتر بنانے اور اس کی سکیورٹی مضبوط کرنے کے لیے استعمال کی جا سکے گی۔
فرد کی طرف سے تاجر کو کیے جانے والے 2,000 روپے تک کے یو پی آئی ادائیگی پر کوئی چارج نہیں ہوگا۔ تاہم اس سے زیادہ کی ادائیگی پر 0.4 فیصد ایم ڈی آرلگےگا، زیادہ سے زیادہ وصولی فی لین دین 300 روپےہوگی۔
ریلوے، ٹیلی کمیونی کیشن، ایندھن اور انشورنس جیسے ضروری اور کم منافع والے سیکٹر کے تاجروں کو کی جانے والی ایسی ادائیگی پر فی لین دین 5 روپے کاطے شدہ ایم ڈی آر لگے گا۔
میوچوئل فنڈ، سیکیورٹیز، اسٹاک بروکروں اور ڈیلروں کو کی جانے والی ادائیگیوں پر 0.02 فیصد ایم ڈی آر لگے گا۔ اس کی زیادہ سے زیادہ حد بھی فی لین دین 300 روپے ہوگی۔
بتایا گیا ہے کہ سڑک کنارے سامان فروخت کرنے والے دکانداروں سمیت چھوٹے تاجروں کو ایم ڈی ار سےچھوٹ ملے گی، بشرطیکہ انہیں صارفین سے یو پی آئی کے ذریعے ہر ماہ 1 لاکھ روپے سے کم موصول ہوں۔ تاجروں سے وصول کیا جانے والے ایم ڈی آرکو بینکوں، ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والے اور یو پی آئی ایپ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا۔
مرکزی وزارت خزانہ نے منگل کو کہا کہ بینکوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تاجر ایم ڈی آرکا چارج صارفین پر نہ ڈالیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق، یہ چارج تاجروں سے ہونے والے تقریباً 4 فیصد لین دین پر لاگو ہوگا۔ متعدد خبروں کے مطابق، 2,000 روپے سے زیادہ کے فرد سے تاجر کو کیے جانے والے یو پی آئی ادائیگیوں کی تعداد ایسے تمام لین دین کا تقریباً 4 فیصد ہے، لیکن مجموعی لین دین کی مالیت میں ان کی حصہ داری 67 فیصد ہے۔
حکومت نے کہا ہے کہ چھوٹے تاجروں میں یو پی آئی کوبڑھاوا دینے کے لیے ایک الگ فنڈ بھی بنایا جائے گا۔ ایم ڈی آر سے حاصل ہونے والی مجموعی رقم کا 5 فیصد اس فنڈ میں ڈالا جائے گا۔
اس ہفتے کے شروع میں وزارت خزانہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، جس سے نئی ایم ڈی آر پالیسی نافذ کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ گزشتہ مہینے پارلیامنٹ نے ٹیکسیشن اینڈ ادر لاز (امینڈمنٹ) بل منظور کیا تھا، جس نے اس طرح کا چارج لگانے کا راستہ صاف کیا۔
’ہندوستانی تاجروں کو غیر ملکی پلیٹ فارم کا خرچ کیوں اٹھانا چاہیے؟‘
گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشی ایٹو کے تجارتی ماہر اجئے شریواستو نے منگل کو کہا کہ ایم ڈی آر سے سب سے زیادہ فائدہ گوگل پے کو ہونے کا امکان ہے، جبکہ فون پے کو بھی فائدہ ہوگا۔ دونوں کمپنیاں غیر ملکی ملکیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے ایک نوٹ میں کہا، ’ہندوستانی تاجروں اور صارفین کو ان غیر ملکی پلیٹ فارم کا خرچ کیوں اٹھانا چاہیے؟‘
یو پی آئی سے ہونے والے مجموعی لین دین کا 80 فیصد ان دونوں کمپنیوں کے توسط سے ہوتا ہے۔
شریواستو نے کہا کہ اس چارج کے بجائے حکومت کو ان کمپنیوں پر شرکت فیس عائد کرنی چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ’نئی پالیسی امریکی شکایتوں کو دور کرنے کے لیے لائی گئی ہے کہ یو پی آئی اور روپے نے ویزا اورماسٹر کارڈکو نقصان پہنچایا ہے۔‘
اپوزیشن نے اٹھائے سوال
حکومت کی جانب سے نئی پالیسی کے اعلان سے پہلے منگل کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے خدشہ ظاہر کیا کہ تاجر آخر کار ایم ڈی آر کی اضافی لاگت صارفین پر ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے ایکس پر لکھا، ’دکانداروں پر لگائے گئے چارج آخرکار کہاں سے آئیں گے؟ قیمتوں میں جڑ کر، براہ راست صارف کی جیب سے۔‘
گاندھی نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ قدم واشنگٹن کو خوش کرنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔
मोदी सरकार ने चुपचाप UPI पर फ़ीस लगाने का रास्ता खोल दिया है।
अब ₹2,000 से ऊपर के merchant UPI लेन-देन पर MDR लगाया जा सकता है। इन ट्रांजैक्शंस की संख्या भले ही सिर्फ़ 5% हो, लेकिन UPI के कुल transaction value का करीब 65% इन्हीं में है।
सरकार कहती है कि ग्राहक से कोई फ़ीस नहीं…
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) September 15, 2026
کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’مہنگائی سے پریشان عوام کو راحت دینے کے بجائے مودی حکومت ہر روز ان کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کا نیا طریقہ تلاش کر رہی ہے۔‘
अब मोदी सरकार की लूट UPI तक पहुँच गई है। “No fees on UPI” को बदलकर अब “₹2,000 तक के UPI transactions पर no fees” कर दिया गया है।
गगनचुंबी महँगाई से आम आदमी की जेब पहले ही खाली है। थोक महँगाई 10% के क़रीब है और भाजपा सरकार ने जनता पर “Digital Payments Tax” लगाकर उनकी बची-कुची,… pic.twitter.com/Fq63eLLFVp
— Mallikarjun Kharge (@kharge) September 15, 2026
پچھلے مہینے دی وائر میں شائع ہوئے ایک مضمون میں اجئے شریواستو نے کہا تھا کہ اگرچہ بینکوں، ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والوں اوراین پی سی آئی کو یو پی آئی کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے بڑی رقم لگانی پڑتی ہے، اس لیے زیرو-ایم ڈی آر پالیسی طویل مدت تک پائیدار نہیں ہو سکتی، لیکن تمام تاجروں پر عمومی چارج عائد کرنا بھی اس مسئلے کا درست حل نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا تھا،’یو پی آئی سسٹم کے لیے رقم جمع کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام تاجروں پر چارج لگانا ضروری ہے۔ اس کے متبادل میں بجٹ سے مالی مدد، حکومتی مراعات، بڑے تجارتی لین دین پر چارج، مالیاتی خدمات سے کراس سبسڈی اور صرف زیادہ کاروبار کرنے والے تاجروں پر لاگو ہونے والے محدود چارج شامل ہو سکتے ہیں۔‘

