ایران کا امریکہ سے براہ راست رابطہ، جنگ بندی کے خواہاں: ٹرمپ کا دعویٰ

trump hor150826 d 1


واشنگٹن —
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ایران نے واشنگٹن سے براہ راست رابطہ کیا ہے اور معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ انہوں نے موجودہ جنگ کو اپنے اختتام کے قریب قرار دیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ جنگ کے موجودہ مرحلے کو کیسے بیان کریں گے، تو ٹرمپ نے کہا: ’’امید ہے ہم جنگ کے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘‘ نارتھ کیرولائنا میں اترنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، اور ’’ہم دیکھیں گے کہ یہ کیسے آگے بڑھتا ہے۔‘‘
یہ پوچھے جانے پر کہ آیا انہیں ایران سے براہ راست پیغام ملا یا ثالثوں کے ذریعے، ٹرمپ نے کہا کہ انہیں یہ پیغام براہ راست موصول ہوا۔ یہ بیان ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا، جبکہ جون میں دستخط شدہ ایک یادداشت میں اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا گیا تھا، جو ایک وسیع تر امن معاہدے کا حصہ تھا۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے فروری میں ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے تھے، جن میں سرکاری عمارتوں، فوجی تنصیبات، میزائل انفراسٹرکچر اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ تنازع اس کے بعد پورے خطے میں پھیل گیا۔ ایران نے تیل کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز بھی بند کر دی، جس سے عالمی سطح پر تیل کا بحران پیدا ہوا اور خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہوا۔ امریکہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے میں ناکام رہا۔ اس کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں تاحال جاری ہیں۔

متعلقہ پوسٹ