کوہاٹ پولیس لائنز حملہ: دو سگے بھائی پولیس اہلکار بھی جان سے گئے

398581 632424334


صوبہ خیبرپختونخوا کے جنوبی شہر کوہاٹ میں پولیس لائنز کی مسجد میں جمعے کو خودکش حملے میں لکی مروت سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائی، سی ٹی ڈی انسپکٹر نعمت اللہ اور سب انسپکٹر عصمت اللہ بھی جان سے گئے۔ دونوں اپنے پیچھے 14 بچوں سمیت اہل خانہ کو سوگوار چھوڑ گئے ہیں۔

حملے کے وقت دونوں ڈیوٹی کے دوران نماز کے لیے مسجد میں موجود تھے۔ ان کا تعلق ضلع لکی مروت کے گاؤں آدمزئی سے تھا۔ 

ان کے بھائی سرفراز احمد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’جب جمعے کی نماز کے دوران کوہاٹ پولیس لائنز میں دھماکے کی اطلاع ملی تو میں نے فوراً اپنے دونوں بھائیوں کو فون کیا کہ دیکھوں وہ خیریت سے ہیں یا نہیں، لیکن دونوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ تقریباً ڈھائی بجے مجھے بتایا گیا کہ نعمت اللہ اور عصمت اللہ دونوں جان سے جا چکے ہیں۔‘

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پولیس کا یہ کمپاؤنڈ ضلعی سطح کے پولیس ہیڈ کوارٹر کے طور پر کام کرتا ہے، جہاں کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، سپیشل برانچ اور پولیس کے کئی دیگر یونٹس کے اہم دفاتر واقع ہیں۔ نماز جمعہ کے وقت مسجد میں خودکش حملے کے بعد حملہ آور پولیس لائنز میں داخل ہو گئے، جن کے خلاف سکیورٹی فورسز نے کئی گھنٹوں طویل آپریشن کیا۔

پولیس نے ہفتے کو بتایا کہ حملہ آوروں کے خلاف کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، جس میں آٹھ عسکریت پسند مارے گئے جبکہ 16 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 23 افراد جان سے گئے۔

سرفراز خان نے ٹیلی فون پر بتایا کہ نعمت اللہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں انسپکٹر جبکہ عصمت اللہ سب انسپکٹر تھے اور دونوں بھائی ڈیوٹی پر تھے۔

انہوں نے بتایا کہ نماز جمعہ کے لیے دونوں بھائی پولیس لائنز کی مسجد گئے تھے، جہاں دھماکہ ہوا۔ ’جب مجھے ان کے جان سے جانے کی اطلاع ملی تو میں تقریباً ڈھائی بجے لکی مروت سے کوہاٹ کے لیے روانہ ہوا۔ وہاں پہنچ کر دونوں بھائیوں کی میتیں لیں اور واپس لکی مروت آیا۔‘

دونوں بھائیوں کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ آبائی قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ نمازِ جنازہ میں پولیس حکام، سی ٹی ڈی افسران اور مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نعمت اللہ کی دو بیویاں اور نو بچے ہیں جبکہ عصمت اللہ کی ایک بیوی اور پانچ بچے ہیں۔ یوں دونوں بھائی اپنے پیچھے 14 بچوں کو چھوڑ گئے ہیں۔

سرفراز خان نے بتایا کہ وہ پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں اور ان کے دونوں بھائی پولیس میں ملازم تھے۔

پشاور سینٹرل پولیس آفس کے ترجمان عبدالسلام خالد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس لائنز میں حملے کے بعد تقریباً 20 گھنٹے جاری رہنے والے سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن میں خودکش حملہ آور سمیت آٹھ عسکریت پسند مارے گئے۔

کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والا یہ حملہ جمعے کی نماز کے دوران ہوا، جب پولیس اہلکار مسجد میں موجود تھے۔ پولیس کے مطابق حملے کے بعد پولیس لائنز میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کئی گھنٹے جاری رہا۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اس واقعے سے چند دن پہلے آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے مارے جانے والے پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں مجموعی طور پر 23 نوجوانوں کو پی اے ایس آئی کے تقرری آرڈرز جاری کیے گئے ہیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ