آرچ بشپ آف کینٹربری کا احسن اقدام عرفان احمد خان ۔

IMG 20260911 WA0628 3

گیارہ ستمبر جس کو دنیا 9/11  کے نام سے  پکارتی ہے اس روز جو واقعات رونما ہوے  ان کی تاریخ بیان کرتے وقت تاریخ دان مسلمانوں کے بعض طبقات کا ذکر اچھے رنگ میں نہی کرے گا ۔ ہر چند کہ جو روح زمین پر ہوا اسلامی تعلیم اس سے بہت مختلف ہے لیکن قیامت ڈھانے والوں نے اپنے آپ کو فخریہ مسلمان بتایا اور جو گناہ کیا گیا اس کا جواز بھی اسلام کی روح سے پیش کرنے والے تعداد میں کم نہ تھے ۔ ۱۱ ستمبر 2001 نے دنیا بدل دی ۔ دہشت گردی کی بدولت دنیا اپنے کو غیر محفوظ سمجھتی ہے ۔ آزاد اور پر سکون معاشرہ کے لوگوں کو ہر جگہ باوردی سیکورٹی سے واسطہ ہے جس کا ذمہ دار وہ مسلمانوں کو ٹھہراتے ہیں ۔ جبکہ ۱۱ ستمبر کا نقصان مسلمانوں کو زیادہ ہوا ۔ مسلمان عوام الناس اور حکومتیں دنیاکے لئے قابل اعتبار نہی رہے ۔ دنیا میں اس سوچ کی ترویج کرنے والوں میں وہ بھی شامل تھے جنہوں نے اسامہ بن لادن کو سیف اللہ کا خطاب دیا ۔ دنیا نہ تو اسامہ بن لادن کو بھولی ہے اور نہ ہی اس کے گلے میں ہار پہنانے والوں کو ۔ اسی لئے عین ۱۱ ستمبر کے روز جب آرچ بشپ آف کینٹربری کی طرف سے مذہبی ہم اہنگی کا Hubert Walter Award 2026پاکستان کے مولانا طاہر محمود اشرفی کو دیا گیا تو دنیا نے اس کو پسند نہی کیا ۔ احتجاج کی اہو و پکار بلند کرنے والوں میں وائس آف جرمنی بھی شامل تھا ۔ اس لئے اب جبکہ آرچ بشپ آف کینٹربری کی طرف سے طاہر ا شرفی سے اعزاز واپس لے لیا گیا ہے تو ان کے اس اقدام کو سراہنے والوں میں بھی  شامل رہنا چاہتے ہیں ۔ آرچ بشپ کے اس تازہ اقدام کو سراہنے والوں نے طاہر محمود اشرفی کے ایسے جہادی بیانات کے حوالے دئیے ہیں جن سے تہذیبوں کے ڈرمیان ٹکراؤ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے ۔ اسلام کے نام پر جہاد کرنے والوں کو سراہا گیا ہے ۔

مولانا طاہر محمود اشرفی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ایوارڈ لینے کی اس تقریب میں میری بیگم و بیٹی پردہ دار خاتون کی حیثیت میں شامل ہوئی تھیں جس کا بعض لوگوں نے برا منایا ہے ۔ ہم اشرفی صاحب کی اس راے پر تبصرہ نہی کرتے لیکن اگر اشرفی صاحب ایوارڈ واپس لئے جانے والے واقعہ پر ٹھنڈے دل سے غور کریں تو اس میں ان کے لئے ایک سبق ہے ۔ اسلام کے لبادہ میں سیاست کر نا ہر ایک کے بس کی بات نہی ۔ جماعت اسلامی نے اب تک کیا حاصل کیا ۔ فضل الرحمان ایوارڈوں کے پیچھے نہی پیسہ کے پیچھے بھاگتے ہیں اور کما رہے ہیں ۔ اپ اور کتنے حکمراانوں کی قمیض کا دامن پکڑیں گے ۔ فیصلہ کریں سیاست کرنی ہے یا مذہبی خدمت ۔ لیکن مذہبی راہنما چاہے وہ عیسائیت کا ہو یا اسلام کا ، کم گو ، با اخلاق ، نرم گفتار ،حلیم الطبع ،باکردار اتنا کہ لوگوں کے سر تعظیم سے جھک جایں ۔ مولانا اشرفی صاحب کیا آپ اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کر سکیں گے –

متعلقہ پوسٹ