افغانستان میں تین اہداف پر کارروائی میں ’28 دہشت گرد‘ مارے گئے: پاکستان

398599 1288697486


پاکستان نے پیر کو کہا ہے کہ اس نے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں ’دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں‘ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ’28 دہشت گردوں سمیت متعدد خودکش بمبار‘ مارے گئے۔

وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستانی فورسز نے ’تین اہداف کو انتہائی درستگی سے تباہ کیا جن میں خودکش بمباروں کی تربیت کا ایک مرکز بھی شامل تھا۔‘

اس سے قبل افغان طالبان حکومت نے پیر کو دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی طیاروں نے افغانستان کے صوبوں کنڑ اور پکتیکا میں مبینہ طور پر شہری علاقوں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ صوبہ کنڑ میں ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور دو مرد جان سے گئے جبکہ دو خواتین اور دو مرد زخمی ہوئے۔

افغان حکام کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والے تمام افراد عام شہری تھے۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق صوبہ پکتیکا میں بھی ایک گھر اور ایک مقامی دکان کو مبینہ طور پر فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

طالبان ترجمان نے خبردار کیا کہ ان حملوں کا ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔

تاہم اب پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغانستان میں تین اہداف پر کارروائی میں 28 ’دہشت گردوں‘ کے مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں خیبرپختونخوا میں ہونے والے عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں کے تناظر میں کی گئی ہیں جن میں ’خیبر پختونخوا کے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سکیورٹی فورسز نے کوہاٹ، ہنگو اور تھل کے اطراف میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ایک منظم زمینی کارروائی کی، جس کے بعد ان دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں اور محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف محدود اور ہدفی فضائی حملے کیے گئے جو ان حملوں کی ذمہ دار تھیں۔‘

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ ’20 ستمبر 2026 کو سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے اضلاع کوہاٹ اور ہنگو میں دہشت گردوں کے ایک گروہ کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر زمینی کارروائی کی۔

’درست اور پیشہ ورانہ انداز میں کی گئی کارروائی کے نتیجے میں انڈین پراکسی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 9 خوارج جہنم واصل کر دیے گئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے مسلسل کشیدہ رہے ہیں، جبکہ رواں سال فروری میں دونوں ملکوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان، یعنی ٹی ٹی پی، کے جنگجو پاکستان میں حملے کرتے ہیں اور کابل ان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہا۔ افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

پاکستان کی طرف سے ایسے حملوں کو آغاز رواں سال 26 فروری کو ایسے وقت شروع ہوا جب افغان طالبان کی جانب سے سرحد پر پاکستانی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد سے پاکستان نے اسے ’کھلی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی جوابی کارروائیاں کیں۔

پاکستان ماضی میں بھی افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتا رہا ہے۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں عسکریت پسندوں اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف ہوتی ہیں، جبکہ افغان حکام متعدد مرتبہ شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔

حالیہ کشیدگی کی وجہ پاکستان میں سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر ہونے والے متعدد حملے ہیں۔ گزشتہ جمعے کو کوہاٹ پولیس لائن میں مسجد پر حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت 31 افراد جان سے گئے تھے۔

گذشتہ ہفتے عرب نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ اگر افغان طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکے تو دونوں ملکوں کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کابل پاکستان کے سکیورٹی خدشات دور نہیں کرتا تو اسلام آباد اپنے دفاع میں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ