سعودی عرب کی ایک کمپنی نے پیر کو افغانستان میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے ’کشک تیرپل‘ نامی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔
کابل میں سعودی کمپنی ’ڈیلٹا انٹرنیشنل‘ اور افغان وزارت معادنیات کے درمیان معاہدے پر دستخط کی تقریب میں نائب وزیراعظم برائے اقتصادی امور ملا عبدالغنی برادر اخوند بھی شریک تھے۔
تقریب میں شریک سابق امریکی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے معاہدے کو افغانستان کی معیشت اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
خلیل زاد نے کہا افغانستان اب کاروبار اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
انہوں نے کہا ’افغانستان وسطی ایشیا کے وسائل اور جنوبی ایشیا کی بڑی منڈیوں کے درمیان ایک اہم زمینی پل بن سکتا ہے۔‘
وزیر پیٹرولیم ملا ہدایت اللہ بدری نے اس موقعے پر بتایا کہ یہ معاہدہ ’کشک تیرپل‘ کے نام سے یاد کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں پانچ بلاک ہیں اور یہ معاہدہ ایک بلاک پر ہوا ہے۔
’یہ بلاک22 مربع کلومیٹر پر محیط ہو گا۔ زیادہ تر بلاکس گیس کے ہیں جس سے امید ہے کہ افغانستان میں تیل و گیس کی ضرورت پورا ہو گی۔‘
انہوں نے ڈیلٹا انٹرنیشنلکو مستند کمپنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سرگرمی سے روزگار کے مواقع ملیں گے۔
افغان وزارت برائے پیٹرولیم اور معدنیات کے ترجمان ہمایوں افغان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ معاہدے کا تعلق صوبہ ہرات اور بادغیس میں واقع تِرپُل طاس میں ہائیڈروکاربنز کی تلاش اور نکاسی سے ہے۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے بتایا کہ تِرپُل طاس سات بلاکس پر مشتمل ہے اور ان کا مجموعی رقبہ تقریباً 22 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔
انہوں نے کہا ’معاہدے کے تحت کمپنی تلاش کے لیے سرگرمیاں انجام دے گی اور طے شدہ تلاش کے اہداف اور ذمہ داریاں پوری کرے گی۔
’معاہدے کی مدت 25 سال ہے جبکہ کمپنی اس شعبے میں بالخصوص تلاش اور نکاسی کی سرگرمیوں کے لیے، 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔‘
انہوں نے معاہدے کو افغانستان کی تیل اور گیس کی صنعت کی ترقی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ’ایک طرف اس سے افغانستان کو مزید سرمایہ کاری راغب کرنے میں مدد ملے گی جبکہ دوسری جانب یہ اہم تکنیکی اور مالی صلاحیت رکھنے والی بین الاقوامی کمپنیوں کو افغانستان کے تیل اور گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے لائے گا۔‘
ہمایوں افغان نے کہا ’اس طرح کی سرمایہ کاری افغانستان کو زیادہ معاشی خود کفالت حاصل کرنے اور اپنے قدرتی وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
’اس سے افغان شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، جبکہ تلاش اور نکاسی کی سرگرمیوں کے نتیجے میں براہِ راست اور بالواسطہ طور پر ہزاروں ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔

