فیصل آباد میں احمدی نوجوان پر جان لیوا چاقو حملہ، جماعت احمدیہ کی شدید مذمت؛ وائس آف جرمنی کی حکومتی بے عملی پر تشویش

images 12 10

برلن/جرمنی (رپورٹ)
پاکستان میں احمدی برادری کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز مہم کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ تازہ ترین واقعے میں ۲۱ ستمبر ۲۰۲۶ء بروز سوموار تقریباً شام ۵ بجے فیصل آباد کے گاؤں کھرڑیانوالہ میں حامد جاوید نامی احمدی نوجوان پر چاقو سے وحشیانہ حملہ کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق ایک نامعلوم باریش شخص نے حامد کو روک کر اس کا نام معلوم کیا اور "تم قادیانی ہو” کہہ کر فوراً چھرا نکال کر حملہ کر دیا۔ حامد کے شور مچانے پر قریب سے گزرنے والے رحمت علی ولد سردار علی اور جاوید اکبر ولد سید علی مدد کو پہنچے۔ کشمکش کے دوران ملزم نے حامد کے پیٹ پر وار کیا، جس سے قمیض پھٹ گئی اور جسم پر زخم کا نشان پڑ گیا۔ مددگاروں کو دیکھ کر ملزم آلہ قتل اٹھا کر یہ کہتے ہوئے فرار ہو گیا: "میں نے کسی طور تمہیں معافی نہیں دینی، تمہیں قتل کر کے ہی رہوں گا۔”
جماعت احمدیہ کی پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں یہ تیسرا واقعہ ہے: منڈی بہاؤالدین میں ایک احمدی کو گولی مار کر شہید کیا گیا، سرگودھا میں ایک باپ بیٹے کو ہدف بنا کر فائرنگ سے زخمی کیا گیا، اور اب حامد جاوید پر چھرے سے حملہ کیا گیا۔ واقعے کی ایف آئی آر نمبر 1670/26 تھانہ کھرڑیانوالہ، ضلع فیصل آباد میں درج کی گئی ہے، جس کا ای-ٹیگ نمبر KHW-22/09/2026-5845 ہے۔ جماعت احمدیہ پاکستان نے اس بزدلانہ حملے کو الگ تھلگ واقعہ قرار دینے کے بجائے احمدیوں کے خلاف جاری سلسلے کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے اور مزید حملوں کو روکا جا سکے۔
اسی تناظر میں وائس آف جرمنی کے عرفان احمد خان نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ واقعات میں ایف آئی آرز تو درج کرائی گئیں، مگر تاحال کسی ملزم کی گرفتاری کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز مہم کی روک تھام اور شہریوں کا تحفظ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے، اور وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے اشتعال انگیز پوسٹرز و بینرز کے بعد احمدیوں کے قتل یا قاتلانہ حملوں کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔عرفان احمد خان نے جرمنی میں مقیم احمدی برادری کی "النصرت” اور "ہیومینیٹی فرسٹ” جیسے اداروں کے ذریعے فلاحی خدمات کا بھی حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ آزاد دنیا میں مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کو بنیادی اصول تسلیم کیے جانے کے باوجود پاکستان میں احمدیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نظر نہیں آتے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایسے واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور تمام شہریوں کو بلاامتیاز امن و تحفظ فراہم کیا جائے۔

متعلقہ پوسٹ