شہباز شریف کی آئی ایم ایف سربراہ سے ملاقات، معاشی اصلاحات جاری رکھنے کا عزم

398653 1289820619


وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ علاقائی تنازعات اور مہنگائی کے بیرونی دباؤ کے باوجود، محتاط مالیاتی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کامیابی کے ساتھ مجموعی معاشی استحکام سے بحالی کے راستے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقعے پر نیویارک میں ہیں۔

23 ستمبر کو وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق نیویارک میں شہباز شریف نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی۔

آئی ایم ایف مینیجنگ ڈائریکٹر سے بات چیت میں وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستانی معیشت کے لیے آئی ایم ایف کی مسلسل حمایت کو سراہا اور فنڈ کی معاونت سے جاری اصلاحاتی پروگرام پر کامیابی سے عملدرآمد کے لیے اپنی حکومت کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ 

انہوں نے خاص طور پر فنڈ کے ساتھ پاکستان کی تعمیری شراکت داری کو مضبوط بنانے میں منیجنگ ڈائریکٹر کے کردار کی تعریف کی۔

وزیر اعظم نے معاشی اصلاحات کے ایجنڈے پر حکومت کی مکمل عملداری کا اعادہ کیا اور کہا کہ ’پاکستان نے معیشت کو مضبوط بنانے نیز پائیدار اور جامع ترقی کی بنیادیں رکھنے کے لیے اصلاحات کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور ساختی اقدامات کو آگے بڑھانے کے پختہ عزم کر رکھا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’علاقائی تنازعات اور مہنگائی کے بیرونی دباؤ کے باوجود، محتاط مالیاتی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کامیابی کے ساتھ مجموعی معاشی استحکام سے بحالی کے راستے کی جانب بڑھ رہا ہے۔‘

اس موقعے پر انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی مالیاتی تحفظ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کو اجاگر کیا۔ انہوں نے پاکستان کی کوششوں کی مثال کے طور پر نیشنل ٹیرف رجیم، ملکی محصولات کی وصولی میں اضافے اور نجکاری پر پیش رفت کا حوالہ دیا۔

وزیر اعظم نے معاشی اصلاحات کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ کے حکومتی عزم پر بھی زور دیا۔

آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان کی کارکردگی اور معاشی استحکام کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہا، جن کے ٹھوس نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دونوں رہنماؤں نے پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام کے آئندہ جائزے، نیز اصلاحات کو آگے بڑھانے، معاشی لچک کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان اور فنڈ کے درمیان مسلسل تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب پاکستان کے معاشی حالات کا جائزہ لینے کے لیے آئے آئی ایم ایف کے مشن نے 23 ستمبر سے اسلام آباد کے ساتھ مذاکرات شروع کردیے ہیں اور حکام مشن کے ساتھ تعمیری بات چیت کے منتظر ہیں۔

تقریباً دو ہفتے جاری رہنے والے ان مذاکرات میں پاکستانی معیشت کی مجموعی صورت حال کے ساتھ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ 

یہ آئی ایم ایف کے 37 ماہ پر محیط سات ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کا چوتھا جائزہ ہوگا، جبکہ پاکستان کے لیے ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) پروگرام کا تیسرا جائزہ بھی اسی دوران ہوگا۔

آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت جائزے ہر چھ ماہ بعد کیے جاتے ہیں اور ان میں طے شدہ معاشی اہداف اور دیگر شرائط کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

آئی ایم ایف کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس جائزے میں بنیادی طور پر 30 جون 2026 تک پاکستان کی اقتصادی کارکردگی اور پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد دیکھا جائے گا۔





Source link

متعلقہ پوسٹ