افغانستان فریڈم فرنٹ نے نورستان اور کنڑ میں طالبان رجیم کی متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا

news 1790449463 9184


(احمد منصور)  افغانستان فریڈم فرنٹ نے نورستان اور کنڑ میں طالبان رجیم کی متعدد چوکیوں پر قبضہ کر لیا-

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔  مسلح کارروائیوں میں تیزی اور شدت نمایاں ہونے لگی ہے

 افغانستان فریڈم فرنٹ نے نورستان کے ضلع کمدیش اور کنڑ کے ضلع ناری میں طالبان رجیم کی چوکیوں پر بڑے حملے کیے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ  کے ذرائع نے بتایا کہ  تازہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب طالبان نے افغانستان فریڈم فرنٹ کی پوزیشنوں پر قبضے کی کوشش کی۔

 افغانستان فریڈم فرنٹ کے ذرائع نے بتایا کہ طالبان رجیم نے فریڈم فرنٹ کے ٹھکانوں پر زمینی دستوں اور متعدد ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا۔ ⁠فریڈم فرنٹ کے جنگجوؤں نے طالبان کے حملےناکام بنانے کے ساتھ بڑے جوابی حملے شروع کر دیے۔⁠ 

news 1790449466 2864

  نورستان کے ضلع کمدیش اور کنڑ کے ضلع ناری ، دونوں اضلاع میںافغان طالبان ریجیم کے ساتھ مزاحمتی فورسز کی  شدید جھڑپیں جاری ہیں ۔

 اس سے پہلے ایک ہفتے کے دوران طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمتی گروہوں کی 10 کارروائیاں ہوئیں۔ 

 کابل، سرِاۓ پل، قندھار، بدخشان، کنڑ، نورستان، پروان اور پکتیا میں طالبان رجیم کی چوکیوں، گاڑیوں اور اہلکاروں کو مسلح مزاحمتی گروہوں نے نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں میں 17 طالبان اہلکار ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔

news 1790449466 6868

افغانستان کے اندر غیر قانونی قابض طالبان ریجیم کے خلاف  تازہ کارروائیاں بڑھتی ہوئی مزاحمت کی شدت اور وسیع ہوتے دائرہ کار کی عکاس ہیں۔ 

 24 ستمبر کو سرِاۓ پل کے صوبائی دارالحکومت میں AFF کی کارروائی سامنے آئی۔ اس میں طالبان اجتماع کو نشانہ بنایا گیا، 3 طالبان اہلکار ہلاک ہو گئے اور 2 زخمی ہوئے۔

 افغانستان فریڈم فرنٹ  کے ذرائع نے بتایا کہ  23 ستمبر کو کابل-بگرام شاہراہ پر گشت کے لئے نکلی ہوئے طالبان کی فوجی گاڑی نشانہ بنی۔ افغانستان فریڈم فرنٹ  کے اس حملے میں ایک طالبان اہلکار ہلاک ہو گیا  اور 2 زخمی ہوئے۔

  سابق افغان آرمی جنرل سمیع سادات کی قیادت میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی بھی مختلف صوبوں میں طالبان رجیم کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ 

 گزشتہ ایک ہفتے کے دوران قندھار، کابل اور بدخشان میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کی متواتر کارروائیوں نے طالبان رجیم کی سیکیورٹی گرفت پر شدید دباؤ بڑھا دیا ہے۔

ستمبر میں اب تک 39 مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں 69 سے زائد طالبان اہلکار ہلاک جبکہ 30 زخمی ہوئے۔

   اب یہ نمایاں نطر آ رہا ہے کہ  افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ طلابان کے خلاف منظم مسلح کارروائیوں میں تیزی اور شدت نمایاں ہے۔ 
یہ بھی پڑھیئے:  ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملہ، 11 افراد شہید، 30 زخمی 





Source link

متعلقہ پوسٹ