بنگال میں ’مسلم افسران کو بیٹھکوں سے باہر رکھنے‘ کی رپورٹ پر مکتوب میڈیا کے خلاف ایف آئی آر

MMAS


بائیں سے: مہوا موئترا، مکتوب میڈیا کا لوگو اور امت شاہ۔ (تصویریں: پبلک ڈومین اور مکتوب میڈیا)

ترنمول کانگریس کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا کی جانب سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے مغربی بنگال کے دورے کے دوران مسلم آئی پی ایس افسران کو بیٹھکوں سے باہر رکھنے کے الزامات سے متعلق خبر چلانے کے لیے مغربی بنگال پولیس نے مکتوب میڈیا کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ پریس کلب آف انڈیا نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ملک میں آزاد صحافت کو روکنے کی کوششوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔

نئی دہلی:مغربی بنگال پولیس نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کےسلسلے میں ڈیجیٹل میڈیا پورٹل ’مکتوب میڈیا‘ کے خلاف معاملہ درج کیا ہے۔ اس پوسٹ میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا کے ان الزامات کی رپورٹ کی گئی تھی، جن میں انہوں نے کہا تھا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے مغربی بنگال کے دورے کے دوران مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو بیٹھکوں  سے باہر رکھا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ میں دی گئی جانکاری جھوٹی ہے۔ تاہم، موئترا کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے کئی ہفتے بعد بھی ان الزامات کی تردید کرنے والا کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ موئترا نے اس واقعہ سے متعلق جانکاری اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی۔

مکتوب کو ایف آئی آر کے بارے میں ایکس کی جانب سے بھیجے گئے ایک مواصلاتی پیغام کے ذریعے جانکاری ملی۔ پولیس نے ویب سائٹ کے ایکس اکاؤنٹ بنانے سے متعلق جانکاری، لاگ اِن کی تفصیلات اور اینڈرائیڈ ڈیوائس سے متعلق جانکاری طلب کی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ معاملہ بھارتیہ نیائے سنہتا(بی این ایس)کی دفعات 196(1)، 299، 353(1)(بی)، 353(1)(سی)، 353(2) اور 356(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔ یہ دفعات مبینہ طور پر برادریوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے، عوامی بدامنی پیدا کرنے والے بیانات اور ہتک عزت سے متعلق ہیں۔

ایف آئی آر میں ملزمین کے نام کی جگہ ’نامعلوم 1‘ لکھا گیا ہے۔ اس میں مکتوب کے کسی صحافی یا مدیر کا نام نہیں ہے۔

مکتوب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ایف آئی آر 19 ستمبر کو بدھان نگر سائبر کرائم تھانے میں سوربھ بنرجی کی تحریری شکایت کی بنیاد پر درج کی گئی۔ اس میں ایکس پر مکتوب کی ایک پوسٹ اور مکتوب کے یوٹیوب چینل پر شائع کی گئی ایک پوسٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ان پوسٹس میں مرکزی وزیر داخلہ کے ریاستی دورے کے دوران سینئر مسلم آئی پی ایس افسران کو مبینہ طور پر بیٹھکوں سے باہر رکھنے سے متعلق جانکاری دی گئی تھی۔

ایف آئی آر کے مطابق، شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ ان پوسٹس میں ’قابل اعتراض گرافیکل مواد‘ اور ایسے تبصرے تھے، جو برادریوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دے سکتے ہیں اور عوامی امن و امان میں خلل ڈال  سکتے ہیں۔

ایکس کو بھیجے گئے اپنے خط میں پولیس نے مکتوب کی پوسٹ کو ’مکمل طور پر من گھڑت‘ اور ’بدنیتی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ پوسٹ میں ایک عوامی شخصیت کے خیالات کو غلط طریقے سے  پیش کیا گیا ہے۔

ایکس سے طلب کی گئی جانکاری میں 1فروری سے 5 فروری 2026 کے درمیان کی لاگ ان جانکاری اور مکتوب میڈیا کے ایکس ہینڈل سے منسلک اینڈرائیڈ ڈیوائس کی کنفیگریشن سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ تاہم، خط میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان تاریخوں کی لاگ اِن معلومات کیوں طلب کی گئی ہیں، جبکہ یہ دونوں تاریخیں مبینہ واقعات کی مدت سے کئی ماہ پہلے کی ہیں۔

یہ ایف آئی آر ایسے وقت میں درج کی گئی ہے جب ترنمول کانگریس کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے مسلم افسران کو مبینہ طور پر بیٹھکوں سے باہر رکھے جانے کا معاملہ باضابطہ طور پر اٹھایا ہے۔

گزشتہ18ستمبر کو قومی اقلیتی کمیشن کو دی گئی شکایت میں موئترا نے مغربی بنگال میں مرکزی وزیر داخلہ کے دوروں کے دوران سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے ساتھ مذہبی طور پر  امتیازی سلوک  کا الزام لگایا تھا۔

گزشتہ21ستمبر کو لکھے گئے ایک خط میں قومی اقلیتی کمیشن نے مغربی بنگال حکومت سے موئترا کی شکایت پر 10 دن کے اندر رپورٹ طلب کی۔

موئترا نے الزام لگایا تھا کہ جولائی اور اگست 2026 میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے مغربی بنگال کے دوروں کے دوران ریاست کے سینئر مسلم آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کو سرکاری بیٹھکوں  اور پروٹوکول سے متعلق ذمہ داریوں سے ’جان بوجھ کر باہر رکھا گیا۔‘

ان الزامات کے سلسلے میں مغربی بنگال پولیس نے موئترا کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی تھی۔ یہ ایف آئی آر ان کے 1 ستمبر کے سوشل میڈیا پوسٹ کی بنیاد پر درج کی گئی تھی، جس میں انہوں نے یہ الزامات لگائے تھے۔

مکتوب کے بانی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ سوشل میڈیا کمپنی میٹا نے بھی آئی ٹی قوانین کے تحت قانونی مطالبے کے بعد ہندوستان میں انسٹاگرام سے اس خبر سے متعلق پوسٹ ہٹا دیے ہیں۔ ایک اور پوسٹ میں انہوں نے بتایا کہ ان کو دوبارہ اپلوڈ کر دیا گیا ہے۔

پریس کلب نے تنقید کی

دوسری جانب، پریس کلب آف انڈیا نے مکتوب میڈیا کی رپورٹنگ کے سلسلے میں اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے مغربی بنگال پولیس کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

پریس کلب نے کہا کہ یہ ایف آئی آر پریس کی آزادی پر حملہ ہے اور ملک میں آزاد صحافت کو روکنے کی کوششوں کے سلسلے کا حصہ ہے۔

پریس کلب آف انڈیا نے مغربی بنگال پولیس سے اپیل کی ہے کہ اس ایف آئی آر کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور یہ یقینی بنایا جائے کہ صحافی بغیر کسی خوف کے اپنا کام کر سکیں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا، ’یہ الزام ترنمول کانگریس کی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا نے عوام کے سامنے رکھے تھے اور میڈیا میں ان کی وسیع پیمانے پر رپورٹنگ ہوئی ہے۔ ان الزامات کی اب تک کوئی سرکاری تردید نہیں ہوئی، اس کے باوجود پولیس نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کی۔‘





Source link

متعلقہ پوسٹ