فلائی دبئی طیارے میں ہائی جیکنگ خدشہ: نیتن یاہو پر انتخابی حربے کا الزام

yahu 210926 d


دبئی/تل ابیب — دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کے دوران ہائی جیکنگ کا خدشہ پیدا ہونے اور طیارے کے سعودی عرب کے شہر تبوک میں ہنگامی لینڈنگ کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سیکوریٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے ان پر اس واقعے کو انتخابی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
طیارے نے اردن کی فضائی حدود میں پرواز کے دوران پہلے جنرل ایمرجنسی کوڈ 7700 اور کچھ دیر بعد ہائی جیکنگ کوڈ 7500 بھیجا، جس کے بعد اسرائیل میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔  طیارے میں تقریباً 174 مسافر سوار تھے، جن میں تقریباً 100 اسرائیلی شہری شامل تھے۔  طیارہ کچھ دیر اردن کے اوپر چکر لگاتا رہا، پھر اسے سعودی عرب کی جانب موڑ دیا گیا اور شمال مغربی سعودی عرب کے شہر تبوک میں اتار لیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا میں متضاد دعوے سامنے آئے: بعض چینلوں نے دعویٰ کیا کہ معاون پائلٹ نے طیارہ گرانے یا ہائی جیک کرنے کی کوشش کی، جبکہ دیگر رپورٹس کے مطابق روسی کپتان اور یوکرینی معاون پائلٹ کے درمیان جھگڑے کے بعد ایمرجنسی سگنل جاری کیا گیا۔  بعض ذرائع نے کہا کہ معاون پائلٹ (جسے عمانی شہری بتایا گیا) نے کپتان پر چاقو سے حملہ کیا، جس کے بعد کیبن عملے اور مسافروں نے کاک پٹ کا دروازہ توڑ کر مداخلت کی۔  تاہم بعد میں اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا کہ یہ واقعہ طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش نہیں تھا۔
واقعے کے فوراً بعد نیتن یاہو نے سیکوریٹی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلایا۔  اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے دورے کے بعد اور ان کے اس دعویٰ کے ایک روز بعد پیش آیا کہ اسرائیل کو بیرونی حملے کی تیاریوں کا سامنا ہے، اور 27 اکتوبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل یہ سیاسی ماحول کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش ہے۔
ایک الگ پیش رفت میں قطر کے وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایک انٹرویو میں نیتن یاہو کو “جنگی مجرم” قرار دیا اور کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران قطر نے ایک ایسا معاہدہ پیش کیا تھا جس کے تحت تمام شہری یرغمالیوں کی رہائی ممکن تھی اور حماس اس پر آمادہ ہو گئی تھی، تاہم نیتن یاہو نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

متعلقہ پوسٹ