مذاکرات کے بعد بھی 3 بار حملے ہوئے، امریکا کیساتھ بات چیت اب بے معنی ہے؛ ایران

iran president freeze assets free qatar1782754656 0



ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں مذاکرات کے دوران اور بعد میں ایران پر امریکی حملوں نے ایران کا اعتماد ختم کردیا ہے۔

ایرانی سرکاری خبررساں ادارے ارنا کے مطابق صدر مسعود پزیشکیان نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے بعد ایران پر بار بار امریکی حملوں سے واضح ہوگیا کہ امریکا حقیقی طور پر بات چیت نہیں چاہتا۔

صدر مسعود پزیشکیان نے ایران میں آرمینیا کے وزیر خارجہ ارارات مرزویان سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکا نے مذاکرات کے بعد ایران پر 3 مرتبہ ہم پر حملہ کرچکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد مذاکرات نہیں بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا تختہ الٹنا ہے۔

ایرانی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایسے فریق کے ساتھ مذاکرات کا کوئی مطلب نہیں جو روزانہ قتل، پابندیوں، دباؤ اور دھمکیوں کا سہارا لیتا ہو اور اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرتا ہو۔

جب چند روز قبل خود ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا تھا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ بات چیت سے کبھی گریز نہیں کیا اور آئندہ بھی سفارتی راستہ بند نہیں کرے گا۔

یکم اکتوبر کو انھوں نے کہا تھا کہ ایران مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے تاہم ان کے بقول امریکا نے مذاکرات کے دوران تین مرتبہ ایران کو نشانہ بنایا۔ 

یاد رہے کہ صدر مسعود پزیشکیان نے مذاکرات کے ثالثوں قطر اور پاکستان سے بھی ستمبر میں کہا تھا کہ امریکا پر ایران کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں اور صرف انصاف اور برابری پر مبنی مذاکرات ہی تنازع ختم کرسکتے ہیں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی جانب سے مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے امریکا کے ساتھ موجودہ طرزِ مذاکرات پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جارہا ہے۔

 



Source link

متعلقہ پوسٹ