اسلام آباد،(ایجنسی): حکومت سے مذاکرات بے نتیجہ رہنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی رہائی کے مطالبے پر اسلام آباد کی جانب مارچ شروع کر دیا ہے۔
پارٹی نے اپنا پہلے سے اعلان شدہ مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا پہلا مرحلہ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے شروع ہوا، جہاں سے قافلہ دیگر اضلاع کے کارکنوں کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے علاوہ انہیں اسپتال منتقل کرنے اور اہل خانہ کو ان سے ملاقات کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں جنگجوؤں کے بڑھتے حملوں کے باعث سیکوریٹی کی صورتحال تشویشناک ہے، اسی بنیاد پر مارچ موخر کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ مارچ روکنے کیلئے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان دو ادوار میں مذاکرات ہوئے، تاہم کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔ اسلام آباد جانے والے بعض اہم راستوں پر کنٹینرس اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان ۲۰۲۳ء سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے، جبکہ حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔ وہ اپریل ۲۰۲۲ء میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے گئے تھے۔ فروری ۲۰۲۴ء کے انتخابات پر بھی پی ٹی آئی نے دھاندلی کے الزامات لگائے تھے، جنہیں حکومت مسترد کرتی ہے۔ ماضی میں عمران خان کے حامیوں کے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات بھی پیش آ چکے ہیں، جس کے باعث اس مارچ کے دوران سیکوریٹی کی صورتحال پر بھی توجہ مرکوز ہے۔

