غزہ میں جنگ اور انسانی بحران کو تین سال مکمل ہونے پر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے فلسطینی عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے امدادی و بحالی کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے اپنے بیان میں کہا کہ تین سال گزر گئے، مگر غزہ کا انسانی المیہ ختم نہیں ہوا۔ لاکھوں فلسطینی آج بھی بے گھری، بھوک، بیماری اور بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے کٹھن وقت میں عالمی برادری کی ذمہ داری محض اظہارِ تشویش تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ فلسطینی عوام تک امداد کی بلا تعطل رسائی اور ان کی بحالی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ الخدمت نے جنگ کے پہلے دن سے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔ اہلِ پاکستان کی امانتوں سے گزشتہ تین برسوں میں 7,413 ٹن امدادی سامان غزہ پہنچایا گیا، جبکہ خوراک، صاف پانی، ادویات، طبی سہولیات، عارضی رہائش اور دیگر ضروریات کے ساتھ تعلیم اور بحالی کے منصوبے بھی جاری ہیں۔ 2,000 سے زائد یتیم بچوں کی کفالت، 454 فلسطینی طلبا کے لیے تعلیمی معاونت اور قاہرہ میں 300 بچوں کے لیے اسکول اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کو صرف امداد نہیں، مسلسل ساتھ کی ضرورت ہے۔ الخدمت فاؤنڈیشن فلسطینی عوام کی بحالی تک ان کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی اور اہلِ پاکستان کی معاونت سے امدادی و بحالی کی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔صدر الخدمت نے ڈونرز اور رضاکاروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ غزہ میں شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

