جسٹس نریمن۔ (بہ شکریہ: یوٹیوب)
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن فلی نریمن نے ایس آئی آر کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے طریقہ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ دینے کا حق شدیدخطرے میں ہے، ہم ایسے الیکشن کمیشن کو قبول نہیں کر سکتے جو ٹھیک سے کام نہ کرے۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس روہنٹن فلی نریمن نےایس آئی آرسے متعلق معاملوں میں سپریم کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ایسا الیکشن کمیشن نہیں رکھ سکتا جو ٹھیک سے کام نہ کرے۔
سابق سالیسٹر جنرل رہ چکے جسٹس نریمن نے الیکشن کمیشن سے متعلق دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ووٹ دینے کا حق‘، جو ’ہماری جمہوریت کے مرکزمیں ہے‘، آج شدید خطرے میں ہے۔ 23 ستمبر کو شائع ہونے والی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ووٹر لسٹ میں کس کا نام شامل کیا جائے اور کس کا نام ہٹایاجائے، اس معاملے پر الیکشن کمیشن کے اندرہی سوال اٹھائے گئے تھے۔
جسٹس نریمن نے گزشتہ اتوار (27 ستمبر) کو راج کوٹ میں منعقد سی اے ایم جے رندانی صدی یادگاری تقریب میں ’آئین اور عام آدمی‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔
بنگال میں 90 لاکھ ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کا ذکر
مغربی بنگال میں اس سال اسمبلی انتخابات سے قبل ہوئے ایس آئی آر کا ذکر کرتے ہوئے جسٹس نریمن نے کہا کہ تقریباً 90 لاکھ ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعداد انتہائی حیران کن ہے۔
انہوں نے کہا،’آپ سب نے دیکھا ہے کہ مغربی بنگال کے انتخابات میں 90 لاکھ ووٹر حق رائے دہی سے محروم کر دیے گئے۔ 90 لاکھ ووٹروں کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کے باوجود سپریم کورٹ نے اس عمل کو روکنے کے لیے خاطر خواہ مداخلت نہیں کی۔‘
انہوں نے کہا کہ ان میں سے صرف تقریباً 22لاکھ ووٹروں نے اپیل کی۔ باقی لوگوں نے شاید اس فیصلے کو قبول کر لیا۔ جسٹس نریمن نے کہا کہ ممکن ہے کہ ان میں زیادہ تر غریب لوگ ہوں اور ان کے پاس عدالت تک پہنچنے کے ذرائع یا وسائل نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ان 22 لاکھ اپیلوں میں سے تقریباً ایک لاکھ پر فیصلہ ہوا اور ان میں 93فیصد فیصلے ووٹروں کے حق میں آئے۔
جسٹس نریمن نے کہا،’تصور کیجیے کہ عام آدمی اور ہندوستان کے شہری کو غیر قانونی طریقے سے باہر کر دیا گیا، تاکہ ایک حکومت کو وہ حاصل ہو سکے جو وہ چاہتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ آپ نے مغربی بنگال میں دیکھا، جہاں اس عمل نے اس وقت کی حکومت کو متاثر کیا اور ریاست میں حکومت تبدیل ہو گئی۔‘
الیکشن کمیشن کے اندر 14 بار اعتراضات کیے جانے کا ذکر
جسٹس نریمن نے کہا کہ ملک میں آج ’بہت، بہت پریشان کرنے والی چیزیں‘ہو رہی ہیں۔ انہوں نے دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ کام کرنے والے دونوں الیکشن کمشنروں نے جاری عمل پر 14 باراعتراضات کیے تھے۔
انہوں نے کہا،’اب ہمیں دی انڈین ایکسپریس کی وجہ سے معلوم ہوا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے دونوں جانب بیٹھے دونوں افسران نے جو کچھ ہو رہا تھا، اس پر 14 بار اعتراض کیا۔ لیکن انہوں نے نئے قانون کی دفعہ 18 کے تحت اپنے اختیار کا استعمال نہیں کیا۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم تینوں کے درمیان اکثریتی فیصلہ نافذ ہوگا اور ہم دونوں چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ دونوں بھی موجودہ حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے تھے۔‘
جسٹس نریمن نے کہا کہ اب اخباروں میں یہ خبر آئی ہے کہ ان تینوں کے درمیان کسی طرح کا سمجھوتا ہوا ہے اور انہوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ دونوں الیکشن کمشنروں کے کچھ اعتراضات درست تھے اور پرانے فارم-6 کو دوبارہ لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا،’آج آئین کے تحت عام آدمی اور ہماری جمہوریت کے مرکز میں موجود ووٹ دینے کا حق شدید خطرے میں ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ، جس کا میں کبھی حصہ رہا ہوں، فوری مداخلت کرے گی اور ان چیزوں کو ٹھیک کرے گی۔ آپ ایسا الیکشن کمیشن نہیں رکھ سکتے جو اس طرح کام کرے یا ٹھیک سے کام نہ کرے۔ یہ بے حد حیران کن ہے۔‘
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر بھی سوال
جسٹس نریمن نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری سے متعلق 2023 کے قانون کو چیلنج کرنے والی عرضی کا بھی ذکر کیا۔ حال ہی میں دو ججوں کی بنچ نے اس معاملے میں الگ الگ رائے دی تھی اور کہا تھا کہ اسے پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جتنی جلدی آئینی بنچ یہ طے کرتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور ہندوستان کے چیف جسٹس یا ان کی جانب سے نامزد شخص کو شامل کرنے والا نظام ہونا چاہیے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔
انہوں نے کہا،’ان لوگوں کو مل کر سب سے زیادہ اہل اور آزاد شخص کا انتخاب کرنا چاہیے، تاکہ ووٹ واقعی اسی نتیجے میں تبدیل ہوں جس کے لیے وہ ڈالے گئے ہیں۔ یہ جتنی جلدی ہوگا، اتنا ہی بہتر ہوگا۔‘
فی الحال چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کرنے والی کمیٹی میں وزیر اعظم، لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما اور وزیر اعظم کی جانب سے مقرر کردہ ایک مرکزی وزیر شامل ہیں۔ اہم اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس سسٹم کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے حکومت کو غیر مناسب فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
الیکشن کمیشن کی تقرری کے نظام پر نریمن نے کیا کہا؟
جسٹس نریمن نے کہا کہ شروعات میں الیکشن کمیشن میں صرف چیف الیکشن کمشنر ہوتے تھے۔ ان کی تقرری حکومت کرتی تھی، لیکن یہ تقرری پارلیامنٹ کے بنائے ہوئے قانون کے تحت ہوتی تھی۔
بعد میں قانون میں تبدیلی کرکے دو مزید الیکشن کمشنروں کو شامل کیا گیا اور اب کمیشن میں تین ارکان ہوتے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کی مدت کار پانچ سال مقرر تھی اور انہیں اسی طریقہ کار سے ہٹایا جا سکتا تھا جس طریقے سے سپریم کورٹ کے کسی جج کو عہدے سے ہٹایا جاتا ہے۔ یعنی دونوں ایوانوں میں موجود اور ووٹنگ کرنے والے ارکان کی دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانا مشکل بنایا گیا تھا، لیکن اگر ان کی تقرری حکومت کے ہاتھ میں ہو تو ہٹانے کا یہ مشکل طریقہ کار کمیشن کی آزادی اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے میں زیادہ مدد نہیں کرتا۔ انہوں نے اسے پہلا بڑا سوال قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے دونوں الیکشن کمشنروں کی تقرری بھی حکومت کرتی ہے اور انہیں چیف الیکشن کمشنر کی رضامندی کے بغیر عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔
جسٹس نریمن نے 2023کے انوپ برنوال کیس کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس بات پر غور کیا تھا کہ آئین نافذ ہونے کے اتنے برس بعد بھی پارلیامنٹ نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے عارضی طور پر دہلی اسپیشل پولیس اسٹیبلشمنٹ ایکٹ کی دفعہ 4اےکی مثال دیتے ہوئے تجویز پیش کی تھی۔ اس قانون کے تحت سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری کے لیے وزیر اعظم، اپوزیشن کے رہنما اور چیف جسٹس پر مشتمل ایک سلیکشن کمیٹی ہوتی ہے۔ عدالت نے تجویز دی تھی کہ جب تک پارلیامنٹ اس سلسلے میں قانون نہیں بناتی، تب تک ان تینوں پر مشتمل کمیٹی ایک آزاد اور غیر جانبدار شخص کا انتخاب کر سکتی ہے۔
’پارلیامنٹ نے 2023 میں ہی نیا نظام بنا دیا‘
جسٹس نریمن نے کہا کہ اس کے بعد پارلیامنٹ نے 2023میں ہی تقرری سے متعلق قانون بنا دیا، لیکن اس میں چیف جسٹس کی جگہ وزیر اعظم کی جانب سے مقرر کردہ ایک مرکزی وزیر کو شامل کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا،’یہ حیران کن ہے۔ عدالت کی تجویز کے فوراً بعد 2023 میں پارلیامنٹ نے ان لوگوں کی تقرری کے لیے قانون بنا دیا۔ لیکن ان تین لوگوں کی جگہ وزیر اعظم نے اپنے ہی وزیر کو دوسرے رکن کے طور پر شامل کر دیا اور پھر اپوزیشن کے رہنما کو شامل کیا۔ اس طرح ہم دوبارہ وہیں پہنچ گئے جہاں پہلے تھے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس نظام کو حال ہی میں سپریم کورٹ کے سامنے چیلنج کیا گیا۔ دو ججوں نے الگ الگ رائے دی اور اب یہ معاملہ ممکنہ طور پر پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے جائے گا، جو یہ طے کرے گی کہ موجودہ قانون درست ہے یا نہیں۔
جسٹس نریمن نے کہا،’لیکن تب تک ان تقرریوں کا عمل موجودہ حکومت کے ہاتھ میں ہی بنا ہوا ہے۔‘

