اسرائیل: پروفیسر پر فلسطینیوں کے قتلِ عام کی منصوبہ بندی کا الزام، فردِ جرم عائد

isr 061026 d 1


تل ابیب،
ایک اسرائیلی یونیورسٹی لیکچرار پر اسرائیل کے اندر اور مقبوضہ مشرقی یروشلم و مقبوضہ مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینیوں کو نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اسے یونیورسٹی سے معطل بھی کر دیا گیا ہے۔
ہاریٹز کی رپورٹ کے مطابق ملزم بار ایلان یونیورسٹی کے شعبۂ ریاضی کا لیکچرار ہے۔ اس کی عمر ۶۰ سال سے زائد ہے اور قانونی پابندی کے باعث اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ اس نے ”آپریشن ٹرانسفر“ کے نام سے ایک منصوبہ بنایا، جس کا بنیادی مقصد فلسطینیوں کو اردن، لبنان اور غزہ کی طرف بھاگنے یا نقل مکانی پر مجبور کرنا تھا۔ سرکاری وکلاء کے مطابق اس نے تین سال سے زائد عرصہ منصوبہ بندی، تفصیلی دستاویزات کی تیاری اور لوگوں کو شامل کرنے کی کوششوں میں صرف کیا۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسٹیٹ پراسیکیوٹر کے دفتر نے بتایا کہ ملزم نے اسرائیلی فضائیہ، توپ خانے اور ٹینک یونٹوں میں موجود ”تخریبی عناصر“ سے مدد لینے کی کوشش کی۔
فردِ جرم کے مطابق یہ ایک انتہائی منظم منصوبہ تھا جس میں ۷۲ یہودی کارکن شامل تھے، جنہیں ۱۲ گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان کا مقصد مشترکہ یہودی-فلسطینی شہروں اور اسرائیل میں فلسطینی بستیوں پر بیک وقت ہم آہنگ حملے کرنا تھا۔ منصوبے میں عام شہریوں کو نشانہ بنانا شامل تھا اور ہدایت تھی کہ خواتین اور بچوں سمیت کسی پر رحم نہ کیا جائے۔ اندازہ لگایا گیا تھا کہ ۶۰۰ سے ۷۰۰ افراد ہلاک ہوں گے، جبکہ کم از کم نصف حملہ آوروں، بشمول پروفیسر، کے پاس بندوق کا لائسنس ہونا شرط تھی۔ منصوبے میں فوج کے اندر موجود عناصر سے مدد کی امید بھی رکھی گئی تھی اور مقصد یہ تھا کہ حملوں کی سوشل میڈیا کوریج کے ذریعے خوف و ہراس پھیلایا جائے تاکہ اسرائیل کے فلسطینی شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔
پروفیسر نے سابق سکیورٹی اہلکاروں، صحافیوں، ماہرینِ تعلیم اور دائیں بازو کے سیاسی رہنماؤں کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی، جن میں سابق رکنِ پارلیمنٹ موشے فیگلن شامل ہیں۔ ان کے زیہوت گروپ نے ۲۷ اکتوبر کے پارلیمانی انتخابات سے قبل وزیرِ خزانہ بیزالیل سموتریچ کی رلیجیس صیہونزم پارٹی سے اتحاد کیا ہے۔ تقریباً جون کے مہینے میں اس نے اپنی بیٹی سے کہا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے غیر قانونی انتہا پسند آبادکاروں ”ہل ٹاپ یوتھ“ میں اپنے واقف کاروں کو شامل کرے، مگر بیٹی نے انکار کر دیا۔
سینٹرل ڈسٹرکٹ اٹارنی کے دفتر نے لود ڈسٹرکٹ کورٹ میں فردِ جرم دائر کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ کارروائی مکمل ہونے تک ملزم کو حراست میں رکھا جائے۔ بار ایلان یونیورسٹی نے لیکچرار کو معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ الزامات سے ”شدید صدمے“ میں ہے اور ایسے رویے کے خلاف اس کی ”زیرو ٹالرنس“ پالیسی ہے۔ اسرائیل کی ایک کروڑ سے زائد آبادی میں فلسطینی شہریوں کا حصہ تقریباً ۲۱ فیصد ہے۔

متعلقہ پوسٹ