فرانس: طلبہ تحریک کے حق میں ۵ لاکھ افراد کا مظاہرہ، ۴۸۸ گرفتار

fra 071026 d


پیرس،
فرانس کے کئی شہروں میں منگل کو طلبہ تحریک کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً ۵ لاکھ افراد نے شرکت کی، جبکہ ۴۸۸ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ منتظمین کے مطابق احتجاج ملک گیر سطح پر پھیل چکا ہے اور ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
حکام کے مطابق تحریک مجموعی طور پر بڑی حد تک پرامن رہی ہے، تاہم بعض مقامات پر آگ لگانے، املاک کو نقصان پہنچانے اور عملے و پولیس پر حملوں جیسے پرتشدد واقعات بھی پیش آئے۔ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری کلاس بائیکاٹ، اسکولوں کی ناکہ بندی اور پولیس کارروائی کے نتیجے میں ۶۵۰۰ سے زائد گرفتاریاں ہو چکی ہیں، جن میں اکثریت نابالغ طلبہ کی ہے۔
طلبہ کی قیادت میں یہ تحریک ستمبر کے آخر میں عملے کی کمی، کلاس رومز میں حد سے زیادہ بھیڑ اور اسکولوں کی ناکافی سہولیات کے خلاف شکایات پر شروع ہوئی تھی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ برسوں سے تعلیمی نظام میں سرمایہ کاری کی کمی، اساتذہ کی قلت اور خستہ حال عمارتوں نے تعلیم کے معیار کو شدید متاثر کیا ہے۔
طلبہ، والدین کے گروپوں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکام پر نابالغوں کے خلاف غیر متناسب طاقت استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاجی تحریک کو باہر کے عناصر نے ہائی جیک کر لیا ہے اور بعض مقامات پر یہ شہری تشدد میں بدل گئی ہے۔
حالیہ دنوں میں پولیس تشدد کے دو سنگین واقعات نے عوامی غم و غصے کو مزید بڑھایا ہے۔ ایک واقعے میں فساد روکنے والی پولیس کی کارروائی کے دوران گرنیڈ پھٹنے سے ۱۵ سالہ لڑکے کا ہاتھ اڑ گیا، جبکہ دوسرے میں پولیس کی ربڑ کی گولیوں سے ۱۶ سالہ نوجوان کی آنکھ زخمی ہو گئی۔ حکام کے مطابق پولیس کے رویے کی تحقیقات کے لیے کُل ۱۰ عدالتی انکوائریاں شروع کی گئی ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک اب صرف تعلیمی مطالبات تک محدود نہیں رہی بلکہ فرانس میں نوجوانوں کی بے چینی اور حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کی علامت بن گئی ہے۔

متعلقہ پوسٹ