فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور کے مطابق ستمبر کے دوران مقبوضہ مشرقی یروشلم کی مسجدِ اقصیٰ اور الخلیل کی مسجدِ ابراہیمی سمیت اسلامی مقدسات میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا۔
وزارت کی ۶ اکتوبر کو جاری کردہ ماہانہ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں اسرائیلی فوج اور آبادکار ۲۶ مرتبہ مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض یہودی مذہبی تنظیموں کی جانب سے ہفتے کے روز بھی آبادکاروں کے داخلے کی اجازت دینے کے مطالبات بڑھے ہیں۔ وزارت کے مطابق اس کا مقصد مقدس مقام کے موجودہ انتظامی اور مذہبی نظام میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنا اور اس کی زمانی و مکانی تقسیم کو مستحکم کرنا ہے۔
وزارت نے مسجدِ اقصیٰ کے صحن میں یہودی مذہبی رسومات اور اجتماعی عبادت کے واقعات میں اضافے کی بھی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق بعض آبادکاروں نے مشرقی دیوار سے متصل باب الرحمہ قبرستان میں بھی اجتماعی رسومات ادا کیں، اس دوران مسلمانوں کی قبروں کے قریب شوفار بجایا گیا اور یہ سب سخت سکیورٹی حصار میں ہوا۔ رپورٹ میں صحن میں نام نہاد تلمودی رسومات، اجتماعی دعاؤں اور مکمل سجدہ کرنے جیسی سرگرمیوں کا بھی ذکر ہے۔ وزارت کے مطابق جمعہ کی نماز اور خطبے کے دوران اسرائیلی فورسز نے مسجد کے بعض حصوں، بالخصوص مصلیٰ القبلی اور قبۃ الصخرہ کے اطراف میں سخت پابندیاں برقرار رکھیں۔
۲۰۰۳ء سے باب المغاربہ کے راستے داخلہ
مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کے لیے اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہودی اس پورے احاطے کو ”ٹیمپل ماؤنٹ“ کہتے ہیں اور ان کا مذہبی دعویٰ ہے کہ قدیم دور میں یہاں یہودی عبادت گاہیں موجود تھیں۔ تاریخی طور پر احاطے کا انتظام یروشلم اسلامی اوقاف کے پاس ہے، جو اردن کی وزارتِ اوقاف سے منسلک ہے، اور موجودہ انتظامی صورتِ حال کے مطابق یہ احاطہ مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص ہے۔ فلسطینی وزارتِ اوقاف کے مطابق ۲۰۰۳ء سے اسرائیلی پولیس فلسطینیوں اور اردن کی مخالفت کے باوجود آبادکاروں کو باب المغاربہ کے راستے پولیس تحفظ میں احاطے میں داخل ہونے کی اجازت دے رہی ہے۔
مسجدِ ابراہیمی میں ۱۵۰ مرتبہ اذان روکی گئی
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے دوران الخلیل کی مسجدِ ابراہیمی میں ۱۵۰ مرتبہ اذان دینے سے روکا گیا اور مسجد کو یہودی تہواروں کے نام پر ۶ دن مکمل طور پر بند رکھا گیا۔ وزارت کے مطابق مسجد کا مشرقی دروازہ اب بھی بند ہے اور کھڑکیوں کو رکاوٹوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات ۲۰۲۵ء کے آغاز سے جاری ہیں۔ بعض نمازوں کے اوقات پر عائد پابندیاں مسلسل ۱۰۰ دن تک جاری رہیں۔
مسجد الخلیل کے قدیم شہر میں واقع ہے جہاں وزارت کے مطابق تقریباً ۴۰۰ اسرائیلی آبادکار رہتے ہیں، جنہیں تقریباً ۱۵۰۰ اسرائیلی فوجیوں کی سکیورٹی حاصل ہے۔ مسجد کی موجودہ تقسیم ۱۹۹۴ء کے خونریز واقعے کے بعد کی گئی تھی، جب ایک یہودی آبادکار نے مسجد میں نماز ادا کرنے والے ۲۹ فلسطینیوں کو قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد مسجد کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا، جس میں ۶۳ فیصد یہودیوں اور ۳۷ فیصد مسلمانوں کے لیے مختص ہوا۔
نابلس کی مسجد کو آگ، اریحا میں نماز ہال منہدم
وزارت نے مغربی کنارے کی دیگر مساجد کے خلاف کارروائیوں کا بھی ذکر کیا۔ اس کے مطابق نابلس میں عماد الدین زنگی مسجد کو آبادکاروں نے آگ لگائی اور دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے لکھے۔ اریحا گورنری کے علاقے الجفتلک میں اسرائیلی فورسز نے ”الدویسات“ نامی نماز ہال منہدم کر دیا۔
وزارت نے کہا کہ یہ کارروائیاں مسجدِ اقصیٰ اور مسجدِ ابراہیمی تک محدود نہیں بلکہ مغربی کنارے کی دیگر اسلامی عبادت گاہوں اور مقدس مقامات تک پھیل رہی ہیں۔ ان واقعات کو ”خطرناک اشتعال انگیزی“ قرار دیتے ہوئے وزارت نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور امدادی اداروں سے اسلامی مقدسات کے تحفظ اور ان کی تاریخی و قانونی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کی اپیل کی ہے۔

