صحافیوں کے جنسی ہراسانی کے الزامات پر دہلی پولیس کو این ایچ آر سی کا نوٹس

Women Detained


نئی دہلی میں اتوار، 4 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران انڈیا گیٹ کے پاس پولیس اہلکار مظاہرین کو حراست میں لیتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

گزشتہ3 اکتوبر کو قومی راجدھانی میں احتجاجی مظاہرے کے دوران تین خاتون صحافیوں نے دہلی پولیس کے اہلکاروں پر جنسی ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔ اب نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے اور دو ہفتے کے اندر مفصل رپورٹ طلب کی ہے۔

نئی دہلی: نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) نے جمعرات (8 اکتوبر) کو کہا کہ اس نے ایک میڈیا رپورٹ کا نوٹس لیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 3 اکتوبر کو راجدھانی میں احتجاجی مظاہرے کے دوران دہلی پولیس کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر تین خاتون صحافیوں کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا۔

کمیشن نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے دہلی پولیس کمشنر کو نوٹس جاری کرکے دو ہفتے کے اندر اس معاملے پر مفصل رپورٹ طلب کی ہے۔

بیان میں کہا گیا، ’5 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی میڈیا رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی ضلع پولیس کو مبینہ واقعات کے سلسلے میں شکایات موصول ہوئی تھیں، جنہیں جانچ کے لیے دہلی پولیس کی کرائم برانچ کو منتقل کر دیا گیا۔‘

صحافیوں نے 3 اکتوبر کی شام پارلیامنٹ اسٹریٹ پولیس تھانے میں دھرنا دیا اور اگلے دن، 4 اکتوبر کو بھی ان کا دھرنا جاری رہا۔ اسی دوران علاقے میںایس آئی آر کے خلاف اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے پر دو دن تک  احتجاجی مظاہرے جاری تھے۔

دھرنے کے دوران دہلی پولیس نے 17 طلبہ اور آزاد صحافیوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ لوگ اے سی پی وویک بھگت کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ الزام ہے کہ بھگت نے ایک خاتون صحافی کے ساتھ مارپیٹ کی تھی۔

سوموار  (5 اکتوبر) کی رات پٹیالہ ہاؤس عدالت نے گرفتار کیے گئے تمام 17 لوگوں کو ضمانت دے دی۔ گرفتار مظاہرین کی جانب سے عدالت میں پیش ہونے والے وکیل سائمن فاروقی کے مطابق، عدالت نے دہلی پولیس کے ڈپٹی کمشنر کو مظاہرین کے ساتھ مارپیٹ کیے جانے کے الزامات پر رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت دی۔ عدالت نے پارلیامنٹ اسٹریٹ پولیس تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے کا حکم بھی دیا۔

صحافیوں کا دھرنا رات بھر جاری رہا۔ اگلی صبح دہلی پولیس نے خواتین کی شکایات موصول ہونے کی تصدیق کی۔

اگلی صبح پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا،’نئی دہلی ضلع پولیس کو ان کی شکایتیں موصول ہوئی ہیں اور غیر جانبدارانہ اور آزادانہ جانچ کے لیے انہیں کرائم برانچ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

شکایت درج کرانے والی خواتین کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ساتھ ساتھ کانگریس کے رکن پارلیامنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔ راہل گاندھی نے کہا کہ پولیس کا سب سے بنیادی کام ایف آئی آر درج کرنا ہے، لیکن اس معاملے میں وہ ایسا نہیں کر رہی تھی۔

کانگریس کی رکن پارلیامنٹ پرینکا گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا،’جس پولیس کا کام تحفظ فراہم کرنا ہے، وہی خواتین کو عدم تحفظ کا احساس کروا رہی ہے۔ کالج کی طالبات سے لے کر صحافیوں تک- ہر جگہ خواتین عدم تحفظ کا سامنا کر رہی ہیں۔ نریندر مودی جی، امت شاہ جی، کیا خواتین کے ساتھ یہ سلوک مناسب ہے؟ اگر نہیں، تو آپ اس کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟‘

سی جے پی کے ابھیجیت دیپکے نے دہلی پولیس کے ملزم اے سی پی کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

شکایتوں میں سے ایک میں خصوصی طور پر وویک بھگت پر احتجاج کے دوران جنسی ہراسانی اور دھکا دینے کا الزام لگایا گیا ہے۔ شکایت کنندہ نے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا، جب وہ پولیس کی جانب سے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا) کی صدر نہا بورا کو حراست میں لیے جانے کے واقعہ کو ریکارڈ کر رہی تھیں۔

سی جے پی نے یہ الزام بھی لگایا کہ تین شکایت کنندگان میں سے ایک خاتون کو 5 اکتوبر کو کئی دیگر لوگوں کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔ تنظیم کی قانونی امور کی سربراہ رتنا سنگھ نے ایکس پر کہا کہ دہلی پولیس متاثرہ خاتون اور دیگر لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہی تھی اور ان کے فون ضبط کرنے پر بھی غور کر رہی تھی۔

دریں اثنا، بھگت کے خلاف شکایتیں عوامی غم و غصہ کے باوجود کارروائی زیر التوا رہنے کے درمیان، دہلی پولیس نے منگل (6 اکتوبر) کو ایک شخص کو گرفتار کیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے بھگت کے ذریعے ایک خاتون کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنائے جانے کی اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو پوسٹ کی اور اسے پھیلایا۔

پولیس کا الزام ہے کہ گرفتار شخص ندیم احمد امین، جو ایک صحافی ہے، نے یہ ویڈیو سوشل میڈیا نیوز چینل ’نیوز آئینہ ٹوڈے‘ سے وابستہ ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا تھا۔



Source link

متعلقہ پوسٹ