چھ سال سے جیل میں قید ایکٹوسٹ عمر خالد کو ملا انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ایوارڈ

1791566422 Umar Khalid Illustration Pariplab The Wire


السٹریشن: پری پلب چکرورتی/دی وائر

سال 2026 کے فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ایوارڈ فار ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز ایٹ رسک کے لیے ایشیائی زمرے میں انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کو منتخب کیا گیا ہے۔ ایوارڈ یافتگان کو اعزاز سے سرفراز کرنے کے لیے ڈبلن کے ٹرینٹی کالج میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جہاں خالد کی جانب سے ان کے والد نے شرکت کی۔ خالد 2020 کے فسادات سے متعلق الزامات میں بغیر ٹرائل کے گزشتہ چھ سال سے جیل میں ہیں۔

نئی دہلی: گزشتہ چھ سال سے جیل میں قید انسانی حقوق کے کارکن عمر خالد کو 2026 کے فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ایوارڈ فار ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز ایٹ رسک کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

فرنٹ لائن ڈیفنڈرز نے جمعرات (8 اکتوبر) کو ایک بیان میں کہا،’عمر خالد 2026 میں ایشیا کے لیے فرنٹ لائن ڈیفنڈرز ایوارڈ کے فاتح ہیں۔ جو لوگ ان کے کام کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ انہیں ’اسٹیٹ کا دشمن‘ اور ’اینٹی نیشنل‘ مانتے ہیں۔ لیکن دوسروں کے لیے وہ قومی ہیرو، عوام کی آواز اور انسانی حقوق کے محافظ ہیں۔ ہندوستان کے شہریت قوانین میں کی گئی غیر آئینی اور مسلم مخالف ترامیم کے خلاف پرامن اور جمہوری شہری تحریک میں قائدانہ کردار ادا کرنے کی وجہ سے عمر خالد گزشتہ چھ سال سے جیل میں ہیں۔‘

واضح ہو کہ دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے 14 ستمبر 2020 کو عمر خالد کو 2020 کے دہلی فسادات کے معاملے میں ’کلیدی سازش کار‘ قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ تب سے وہ جیل میں ہیں۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے)، سیڈیشن اور آئی پی سی کی 18 دیگر دفعات کے تحت الزامات لگائے گئے ہیں۔ ان میں قتل اور قتل  کی کوشش سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔

گرفتاری کے وقت خالد اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ تھے۔ انہوں نے 2019-2020 میں شہریت ترمیمی ایکٹ(سی اے اے) کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے انعقاد میں اہم رول ادا کیا تھا۔

فرنٹ لائن ڈیفنڈرز کے بیان میں بتایا گیا کہ سی اے اے کےہندوستان کی مسلم برادری پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے تھے اور عمر خالد نے اس ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

بیان میں کہا گیا،’یہ قانون ایسے وقت میں لایا گیا تھا، جب ملک میں ہندو قوم پرستی کے فروغ کے ساتھ ماحول تیزی سے مسلم مخالف ہوتا جا رہا تھا۔ اس سے مسلمانوں کی دستاویزی اور قانونی حیثیت غیر متناسب طور پر متاثر ہونے کا خطرہ تھا۔ طلبہ، اقلیتوں اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل آواز اٹھانے والے عمر خالد ان نمایاں افراد میں شامل ہیں جنہوں نے اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے ساتھ کئی بڑے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں نے بھی ان کی گرفتاری اور من مانی حراست کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔‘

خالد کے علاوہ اس سال کے دیگر ایوارڈ یافتگان میں افریقہ کے لیے لورینڈا مینوئل گوویا (انگولا)، امریکی براعظم کے لیے اڈا وکٹوریا کیٹانو (برازیل)، یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے لیلیانا نیشچ (سربیا) اور مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ کے لیے احمدرضا ہیری (ایران) شامل ہیں۔

تمام ایوارڈ یافتگان کو اعزاز سے سرفراز کرنے کے لیے ڈبلن کے ٹرینٹی کالج میں ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ عمر خالد کی جانب سے ان کے والد سید قاسم رسول الیاس نے تقریب میں شرکت کی۔

اس سے پہلے، گزشتہ 20 ستمبر کو دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے شمال-مشرقی دہلی فسادات کی بڑی سازش سے متعلق معاملے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ شرجیل امام بھی چھ سال سے زیادہ سے جیل میں  ہیں۔

عمر خالد کو آخری بار 22 مئی کو دہلی ہائی کورٹ نے تین دن کی عبوری ضمانت دی تھی۔ یہ راحت انہیں سرجری کے بعد اپنی والدہ سے ملاقات کے لیے دی گئی تھی۔



Source link

متعلقہ پوسٹ