شرجیل امام کی عبوری ضمانت رد کروانے عدالت پہنچی دہلی پولیس

Sharjeel Imam PTI03 20 2026 000278B scaled 1 e1784294391215


شرجیل امام۔ فوٹو: پی ٹی آئی

دہلی پولیس نے کارکن شرجیل امام کی عبوری ضمانت رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت میں عرضی دی ہے۔ پولیس نے الزام لگایا ہے کہ امام نے میڈیا اہلکاروں سے بات چیت کرکے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ اس سلسلے میں پولیس نے سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو کا حوالہ دیا ہے، جس میں مبینہ طور پر امام کو ضمانت کی مدت کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

نئی دہلی: دہلی پولیس نے سنیچر (10 اکتوبر)کو کارکن شرجیل امام کو دی گئی عبوری ضمانت رد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت کا رخ کیا۔ امام کو 2020 میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون(یو اے پی اے)کے تحت الزام لگائے جانے کے بعد سے بغیر ٹرائل کے چھ برسوں سے جیل میں رکھا گیا ہے۔

لائیو لا کے مطابق، پولیس نے الزام لگایا ہے کہ امام نے میڈیا اہلکاروں سے بات چیت کرکے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ اس سلسلے میں پولیس نے سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو کا حوالہ دیا ہے، جس میں مبینہ طور پر امام کو ضمانت کی مدت کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

امام کو کڑکڑڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج سمیر باجپئی نے 22ستمبر کو اپنے چچا زاد بھائی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے 4 اکتوبر سے 10 اکتوبر تک سات دن کی عبوری ضمانت دی تھی۔ انہیں سنیچرکو دہلی کی تہاڑ جیل لوٹناہے۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، امام کے طرز عمل کو ’جان بوجھ کر کیا گیا عمل‘قرار دیتے ہوئے پولیس نے عدالت میں دائر اپنی عرضی میں کہا ہے کہ امام نے ’اس شرط کی شدید خلاف ورزی کی ہے کہ وہ کسی بھی میڈیا اہلکار کے رابطے میں نہیں آئیں گے۔‘

عرضی میں مزید کہا گیا ہے، ’ملزم کو آزادی کی رعایت ملنے کے بعد اس سے متعلق شرائط کی پابندی کرنا ضروری تھا، لیکن اس نے اس معزز عدالت کی جانب سے دی گئی آزادی اور رعایت کا غلط استعمال کیا ہے۔ ملزم کے طرز عمل سے واضح ہے کہ وہ اس عدالت کی جانب سے دی گئی آزادی کا غلط استعمال کر رہا ہے۔‘

شرجیل امام کو 2019-20میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)کے خلاف ہوئے مظاہروں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ فروری 2020 کے آخری ہفتے میں شمال-مشرقی دہلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے پیچھے مبینہ ’بڑی سازش‘ کی جانچ شروع کیے جانے کے بعد ان کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

امام کے علاوہ، اس مبینہ ’بڑی سازش‘ کے معاملے میں کئی دیگر کارکنوں کو بھی ملزم بنایا گیا تھا۔ ان میں میران حیدر، گلفشاں فاطمہ، شفا الرحمٰن، شاداب احمد، تسلیم احمد، سلیم ملک، محمد سلیم خان، اطہر خان، دیوانگنا کلیتا، نتاشا نروال اور عمر خالد شامل ہیں۔

امام کی طرح عمر خالد کو بھی گزشتہ چھ برسوں سے جیل میں رکھا گیا ہے۔ انہیں  لگاتار غیرجانبدارانہ سماعت کے حق سے محروم رکھے جانے کا معاملہ بھی اٹھتا رہا ہے۔



Source link

متعلقہ پوسٹ