صدر پاکستان نے اتوار کو وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق بھجوائی گئی ایڈوائس پر دستخط کر دیے ہیں۔
وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وفاقی کابینہ نے وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دی تھی۔
اس کے بعد اب ایوان صدر سے جاری ایک بیان کے مطابق صدر آصف زرداری نے خیبر پختونخوا میں کی سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کر دیے ہیں۔
ایوان صدر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے۔‘
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں کی سلامتی کی صورتحال پر وزیراعظم کی ایڈوائس پر دستخط کر دیے ہیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکلز 232 اور 234 کے تحت صدرِ مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس منظور کرتے ہوئے دستخط کیے۔ وفاقی کابینہ کے فیصلے، وزیراعظم کی ایڈوائس، متعلقہ اداروں کی امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹس اور حکومتی وفود کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدرِ مملکت نے سمری پر دستخط کیے۔
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 11, 2026
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وفاقی کابینہ کے فیصلے، وزیراعظم کی ایڈوائس، متعلقہ اداروں کی امن و امان کی صورتحال سے متعلق رپورٹس اور حکومتی وفود کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد صدرِ مملکت نے سمری پر دستخط کیے۔‘
دوسری جانب چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیر جمہوری‘ اقدام قرار دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایمرجنسی کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ یہ انتہائی تشویشناک اور سنگین سیاسی غلطی ہے۔
اس سے قبل وفاقی کابینہ نے وزیر اعظم کو تجویز دی تھی کہ ’وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی نافذ کریں۔‘
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر اعظم ہاؤس کے مطابق اس ضمن میں ایڈوائس ایوان صدر بھجوائی۔
اس سے قبل اسلام آباد میں اتوار کو وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس سے خطاب میں شبہاز شریف نے کا کہنا تھا کہ ’ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ’دہشت گردی کا مقابلہ کرنا وفاق کے ساتھ مل کر اس صوبے (خیبر پختونخوا) کی پولیس، انتظامیہ کا فرض ہے۔‘
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وفاقی کابینہ کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دھشتگردی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی. کابینہ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دھشتگردی کے خلاف جنگ سے صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی کے پیش نظر حالات کا تفصیلی جائزہ لیا. کابینہ نے وزیرِ اعظم کو تجویز دی کہ وہ صدر مملکت کو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظر صدر مملکت آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی کا نفاذ کریں. اس ضمن میں وزیرِ اعظم ہاؤس سے ایڈوائس ایوان صدر بھجوا دی گئی ہے.
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) October 11, 2026
انہوں نے کہا کہ ’بجائے اس کے وہ دہشت گردی کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑی ہو وہ نہ صرف خاموش ہے بلکہ صورت حال ہر روز مزید خراب ہوتی جا رہی ہے، اور اسلام آباد پر چڑھائی کا منصوبہ بنایا ہے۔‘
وزیر اعظم نے کہا کہ ’کیا آپ بار بار یہ کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستان کو لاچار کرنا چاہتے ہیں؟ یہ نہیں ہوگا قانون اپنا راستہ اپنائے گا اور ہر صورت اپنائے گا۔‘
انہوں نے وفاقی کابینہ کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ ان حالات میں پانی اب سر سے گزر رہا ہے۔ جو میں نے تصویر کشی کی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ یہ فیصلہ آپ کا ہے تاریخ ہمیں انہی فیصلوں سے یاد رکھے گی۔‘
دوسری جانب اب سے کچھ دیر قبل وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا تھا کہ ’ہماری ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔‘
سہیل آفریدی نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنی آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
’آئین قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔‘

