برلن: جرمنی میں ضمیر کی بنیاد پر فوجی سروس سے انکار کی درخواستوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق 2026ء کے پہلے آٹھ ماہ میں 12 ہزار سے زیادہ افراد نے مسلح سروس سے دستبرداری کی درخواست دی، جو 2025ء کی کل تعداد سے تین گنا زیادہ ہے۔
جرمن میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ درخواست دہندگان میں ریزروسٹ، فعال ڈیوٹی فوجی اور نوجوان شامل ہیں، حالانکہ ملک میں فوجی بھرتی معطل ہے۔ وفاقی دفتر برائے خاندانی امور اور سول سوسائٹی فنکشنز (BAFzA) کی ترجمان کے مطابق ادارے نے اس مدت میں 12,102 درخواستیں درج کیں، جبکہ 2025ء میں یہ تعداد 3,879 اور 2024ء میں 2,449 تھی۔ حکام نے اضافے کو نئے فوجی سروس قانون، بگڑتی ہوئی عالمی سیکیورٹی صورتحال اور یورپ میں فوجی تنازع کے خدشات سے جوڑا ہے۔
2026ء کے آغاز میں نافذ ہونے والے نئے قانون کے تحت 18 سال کی عمر کو پہنچنے والے تمام مردوں کو فٹنس، مہارت اور فوج میں شمولیت سے متعلق دلچسپی پر مبنی سوالنامہ مکمل کرنا ہوگا۔ سروس اگرچہ رضاکارانہ ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت سوالناموں سے آغاز کر کے مرحلہ وار بھرتی بحال کرنا چاہتی ہے۔ 2008ء یا اس کے بعد پیدا ہونے والے مردوں کے لیے طبی معائنہ لازمی ہے، تاہم محدود صلاحیت کے باعث اسے مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت شہریوں کو ضمیر کی بنیاد پر مسلح سروس سے انکار کا محفوظ حق حاصل ہے۔ انکار کرنے والوں کو بنڈس ویر کے وفاقی دفتر برائے پرسنل مینجمنٹ میں تحریری درخواست اور تفصیلی ذاتی بیان جمع کرانا ہوتا ہے، جو جائزے کے لیے اسے BAFzA کو بھیجتا ہے۔
بنڈس ویر میں اس وقت تقریباً 1,86,400 فعال فوجی ہیں۔ نیٹو کے وعدے پورے کرنے اور یورپ میں بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے لیے وزارت دفاع 2035ء تک نفری 2,60,000 سے زیادہ کرنا چاہتی ہے، جس کے لیے سالانہ 20 ہزار بھرتیاں درکار ہوں گی۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق رضاکارانہ اندراج کم ہونے کی صورت میں لازمی سروس کے بغیر یہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

