سان ڈیاگو: امریکی بحریہ کا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن 8 اکتوبر کو تقریباً 321 دن کی طویل تعیناتی کے بعد کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں اپنے اڈے پر واپس پہنچ گیا۔ جہاز اور اس کے ساتھ تعینات بحری دستے نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ واپسی پر اہل خانہ نے اپنے عزیزوں کا استقبال کیا، تاہم مشن کے دوران خوراک اور بنیادی سہولتوں کی کمی اور عملے کی ذہنی صحت سے متعلق اطلاعات نے بحریہ کے انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
برطانوی اخبار دی گارجین نے 3 اکتوبر کی رپورٹ میں اہلکاروں کے اہل خانہ کی تشویش بیان کی۔ تقریباً 5 ہزار اہلکاروں پر مشتمل عملے نے کئی ماہ غیر معمولی حالات میں خدمات انجام دیں۔ جہاز نے مسلسل 265 دن سمندر میں گزارے، جس دوران بندرگاہی قیام اور آرام کے مواقع محدود رہے۔ بعض اہل خانہ کے مطابق انہیں کئی ہفتوں تک اپنے عزیزوں سے رابطہ نہیں ہو سکا۔
سب سے سنگین انکشاف خودکشی کی کوششوں سے متعلق ہے۔ بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ نے سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ کو بھیجے گئے خط میں تصدیق کی کہ تعیناتی کے دوران ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ کے اہلکاروں میں خودکشی کی 8 کوششیں رپورٹ ہوئیں۔ ان میں طیارہ بردار جہاز، اس کے فضائی دستے اور ساتھ چلنے والے جنگی جہازوں کے اہلکار شامل تھے۔ حکام کے مطابق کسی کی موت واقع نہیں ہوئی۔ سی بی ایس نیوز نے بھی ستمبر میں اس خط کی تفصیلات شائع کی تھیں۔
اہل خانہ نے خوراک، پلمبنگ اور بنیادی ضروریات سے متعلق شکایات بھی کیں۔ بعض اہلکاروں نے تھائی لینڈ میں قیام کے دوران کھانے کے معیار پر تحفظات ظاہر کیے۔ تاہم رپورٹ کے مطابق تمام اہلکاروں کے تجربات یکساں نہیں تھے اور بعض خاندانوں کا خیال تھا کہ جہاز کے حالات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ بحریہ نے اپریل میں خراب کھانے کی گردش کرتی تصاویر کے بعد خوراک کی قلت کے بعض دعووں کو مسترد کیا تھا۔
ابراہم لنکن نومبر 2025ء میں سان ڈیاگو سے روانہ ہوا۔ ابتدا میں اسے بحرالکاہل میں تعینات ہونا تھا، لیکن فروری 2026ء کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے پر اسے مشرق وسطیٰ بھیج دیا گیا۔ امریکی نیول انسٹی ٹیوٹ کے مطابق اس کی تعیناتی میں توسیع کی گئی۔ اگست میں یو ایس ایس جارج واشنگٹن نے اس کی جگہ سنبھالی۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق جہاز کے اسٹرائیک گروپ نے 3,693 فضائی مشن انجام دیے، 77 یک طرفہ حملہ آور ڈرون مار گرائے، 21 اینٹی شپ کروز میزائل تباہ کیے اور 64 ایرانی بحری جہاز غرق کیے۔ یہ اعداد و شمار امریکی فوج نے فراہم کیے ہیں۔ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے 7 اکتوبر کو عملے سے خطاب میں کارکردگی کو سراہا اور صدر ٹرمپ کی جانب سے صدارتی یونٹ سائٹیشن کا اعلان کیا۔ انہوں نے توسیع کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مشن کی ضرورت اور کارروائیوں کی شدت کو وجہ قرار دیا۔
بحریہ کے لیے اب ایک اہم مرحلہ اہلکاروں کی معمول کی زندگی میں واپسی اور ذہنی صحت کی معاونت ہے۔ امریکی نیول انسٹی ٹیوٹ کے مطابق عملے کو واپسی کے بعد رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔

