دولت، طاقت اور مواقع: پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

wealth1791748001 1


(سابق ایسوسی ایٹ پروفیسر نمل یونیورسٹی)

دنیا کی معیشت ترقی کر رہی ہے، دولت کے نئے مراکز وجود میں آ رہے ہیں، ٹیکنالوجی نے پیداوار اور تجارت کے امکانات کو بے مثال وسعت دی ہے؛ مگر اسی دنیا میں ایک بنیادی سوال پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ ہمارے سامنے کھڑا ہے: اگر عالمی دولت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو پھر غربت اور معاشی محرومی کیوں ختم نہیں ہو رہی؟

اسی سوال کو عالمی سطح پر ایک بار پھر نمایاں کرنے والی رپورٹ کا عنوان ہے: ’’Takers not Makers: The unjust poverty and unearned wealth of colonialism i‘‘۔ آکسفیم نے یہ رپورٹ جنوری 2025 میں جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا کے ارب پتی افراد کی مجموعی دولت میں تقریباً دو ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا اور اسی سال 204 نئے ارب پتی سامنے آئے۔ آکسفیم کے تجزیے کے مطابق ارب پتی دولت کا تقریباً 60 فیصد وراثت، اجارہ داری کی طاقت یا بااثر تعلقات سے وابستہ ذرائع سے آتا ہے۔

یہ اعداد و شمار محض دولت مندوں اور غریبوں کے درمیان فرق کی داستان نہیں؛ یہ اس بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ معاشی نظام دولت پیدا کرنے والوں کو کس حد تک انعام دیتا ہے اور دولت پر پہلے سے قابض طبقات کو کس حد تک مزید طاقت فراہم کرتا ہے۔

آکسفیم کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ دنیا میں دولت کی غیرمعمولی ارتکاز کی جڑیں صرف موجودہ معاشی فیصلوں میں نہیں بلکہ تاریخ، نوآبادیاتی نظام، عالمی مالیاتی ڈھانچے، اجارہ داریوں اور طاقت کے غیر مساوی تعلقات میں بھی پیوست ہیں۔ یہ ایک ادارے کا تجزیہ ہے، جس کے تمام دعووں کو حتمی معاشی حقیقت سمجھنے کے بجائے اس کے طریقۂ کار اور مفروضوں کے ساتھ پڑھنا چاہیے؛ تاہم اس رپورٹ نے عالمی عدم مساوات کے سوال کو ایک بار پھر عالمی بحث کے مرکز میں ضرور لا کھڑا کیا ہے۔

دولت پیدا کرنا اور دولت پر قبضہ کرنا

سرمایہ داری کی اصل روح دولت پیدا کرنے، نئی مصنوعات اور خدمات متعارف کرانے، روزگار پیدا کرنے اور معاشی قدر میں اضافہ کرنے میں ہے۔ ایک کامیاب صنعت کار، برآمد کنندہ، ٹیکنالوجی کمپنی یا کاروباری شخص اگر اپنی صلاحیت، سرمایہ اور جدت سے نئی دولت پیدا کرتا ہے تو اس کا فائدہ صرف اسے نہیں بلکہ ملازمین، صارفین، حکومت اور مجموعی معیشت کو بھی پہنچ سکتا ہے۔

مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دولت پیدا کرنے کے بجائے دولت تک رسائی خود کامیابی کا بنیادی ذریعہ بن جائے۔

اگر کسی شعبے میں چند ادارے مسابقت کو محدود کر دیں، اگر مارکیٹ میں داخلہ مشکل بنا دیا جائے، اگر ریاستی وسائل چند ہاتھوں میں مرتکز ہوں، اگر وراثت نسل در نسل معاشی طاقت منتقل کرتی رہے، یا اگر قانون اور ضابطے سب کے لیے یکساں نہ رہیں تو معیشت میں مسابقت کم اور معاشی ارتکاز زیادہ ہونے لگتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ’’Takers‘‘ اور ’’Makers‘‘ کا تصور اہم ہو جاتا ہے۔

ایک صحت مند معیشت میں دولت کمانے کا سب سے مضبوط راستہ قدر پیدا کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ صرف طاقت، اجارہ داری، رعایت یا تعلقات تک رسائی۔

 پاکستان: سوال ہمارے دروازے پر بھی ہے ۔

پاکستان اس عالمی بحث سے الگ نہیں۔ عالمی بینک کے حالیہ جائزوں کے مطابق پاکستان میں غربت میں کمی کی رفتار 2015 کے بعد کم زور ہوئی اور 2020 کے بعد مختلف معاشی و قدرتی جھٹکوں نے سابقہ پیش رفت کو متاثر کیا۔ دیہی علاقوں میں غربت شہری علاقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے، جبکہ انسانی سرمائے اور عوامی خدمات میں کم سرمایہ کاری بھی ایک بنیادی چیلنج ہے۔

یہاں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ملک میں کتنی دولت پیدا ہو رہی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ پیدا ہونے والی دولت کے ثمرات کتنے وسیع طبقے تک پہنچ رہے ہیں۔

پاکستان میں ٹیکس کا مسئلہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ IMF کی 2026 کی جائزہ رپورٹ کے مطابق FY2025 میں پاکستان کا ٹیکس ریونیو تقریباً 12.3 فی صد GDP تک پہنچا، جو گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں بہتری کے باوجود ہم مرتبہ ممالک کے مقابلے میں اب بھی کم ہے۔ IMF نے اس بات کی نشاندہی بھی کی ہے کہ پاکستان کا ٹیکس بیس چند شعبوں تک محدود ہے اور زراعت ایک بڑا کم ٹیکس شدہ شعبہ ہے۔

یہ اعداد ایک بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: ریاست اگر وسیع اور منصفانہ بنیاد پر آمدنی جمع نہیں کرے گی تو نہ معیاری تعلیم و صحت فراہم کی جا سکے گی، نہ انفرااسٹرکچر بہتر ہوگا اور نہ ہی کمزور طبقوں کے لیے مؤثر سماجی تحفظ ممکن ہوگا۔

 پاکستان کو کیا کرنا چاہیے؟

مسئلے کا حل محض ’’امیر کو غریب کر دو‘‘ یا ’’ٹیکس بڑھا دو‘‘ نہیں۔ اصل ضرورت ایسے نظام کی ہے جس میں دولت پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی بھی ہو اور دولت کے غیر منصفانہ ارتکاز کو روکنے کے لیے مضبوط ادارے بھی موجود ہوں۔

 پہلا قدم: ٹیکس کا منصفانہ نظام

پاکستان کو ایسا ٹیکس نظام درکار ہے جس میں تنخواہ دار طبقہ مسلسل بوجھ اٹھانے کے بجائے معیشت کے تمام بڑے شعبے اپنی حقیقی استعداد کے مطابق حصہ ڈالیں۔ جائیداد، بڑے تجارتی مفادات، زیادہ آمدنی، منافع اور غیر معمولی معاشی فوائد کو مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے۔ تاہم ٹیکس پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو پیداواری سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمی کو ختم کرنے کے بجائے غیر پیداواری مراعات اور ٹیکس چوری کو نشانہ بنائے۔

 دوسرا قدم: اجارہ داریوں کے خلاف مؤثر مسابقت

معیشت میں حقیقی مقابلہ صارف کو بہتر قیمت، بہتر معیار اور زیادہ انتخاب فراہم کرتا ہے۔ اس لیے Competition Commission اور دیگر متعلقہ اداروں کو سیاسی یا کاروباری دباؤ سے آزاد، مضبوط اور مؤثر بنانا ضروری ہے۔ کسی بھی شعبے میں مارکیٹ پر غیر ضروری ارتکاز innovation اور چھوٹے کاروبار دونوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

 تیسرا قدم: چھوٹے اور درمیانے کاروبار کو حقیقی مواقع

پاکستان میں معاشی مواقع کو بڑے کاروباری مراکز تک محدود رکھنے کے بجائے SMEs، نوجوان کاروباری افراد، خواتین اور ٹیکنالوجی پر مبنی نئے کاروباروں کو سستے قرض، تربیت، ڈیجیٹل سہولت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کرنا ہوگی۔ دولت کی وسیع تر تقسیم کا بہترین ذریعہ یہ نہیں کہ ریاست ہر شخص کو امداد دے؛ بلکہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پیداواری معاشی سرگرمی میں داخل ہونے کا موقع دیا جائے۔

 چوتھا قدم: انسانی سرمایہ کو قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا

تعلیم، صحت، غذائیت اور فنی تربیت محض سماجی شعبے کے اخراجات نہیں بلکہ مستقبل کی معاشی پیداوار میں سرمایہ کاری ہیں۔ جب ایک بچہ معیاری تعلیم سے محروم رہتا ہے تو ملک صرف ایک طالب علم نہیں بلکہ مستقبل کا ایک ہنرمند، انجینئر، استاد، ڈاکٹر یا کاروباری شخص کھو دیتا ہے۔

 پانچواں قدم: زراعت کو اصلاحات کے دائرے میں لانا ہوگا

پاکستان کی معیشت میں زراعت کی اہمیت کے باوجود اس شعبے سے مؤثر ٹیکس وصولی اور پیداواری اصلاحات ایک مستقل مسئلہ ہیں۔ عالمی بینک نے بھی حالیہ جائزے میں نشاندہی کی ہے کہ زرعی آمدنی کا بڑا حصہ مؤثر ٹیکس نظام سے باہر ہے، جب کہ زراعت GDP کا 20 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ چھوٹے کسان کو غیر ضروری بوجھ سے بچاتے ہوئے بڑے اور زیادہ آمدنی والے زرعی مفادات کو شفاف اور منصفانہ ٹیکس نظام میں لایا جائے۔ ساتھ ہی پانی کے مؤثر استعمال، جدید ٹیکنالوجیValue-added agriculture اور زرعی برآمدات پر توجہ دی جائے۔

 چھٹا قدم: ریاستی اخراجات میں شفافیت

ٹیکس وصول کرنا کافی نہیں؛ عوام کو یہ یقین بھی ہونا چاہیے کہ ان کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ سرکاری خریداری، ترقیاتی منصوبوں، سرکاری اداروں اور عوامی خدمات میں شفافیت اور نتائج کی بنیاد پر نگرانی ضروری ہے۔ اگر عوام ٹیکس دیں مگر انہیں تعلیم، صحت، پانی، ٹرانسپورٹ اور انصاف کی مناسب سہولت نہ ملے تو ٹیکس کلچر مضبوط نہیں ہو سکتا۔

 ساتواں قدم: مقامی حکومتوں کو مضبوط کیا جائے

پاکستان میں وسائل کی تقسیم اور عوامی خدمات کی فراہمی کو مقامی سطح تک مؤثر انداز میں پہنچانا ضروری ہے۔ عالمی بینک کی 2026 کی رپورٹ نے بھی پاکستان کے مالیاتی وفاقیت کے نظام میں اصلاحات، آمدنی میں بہتری اور وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان بہتر وسائل و ذمہ داریوں کی تقسیم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 صرف دولت کی تقسیم نہیں، مواقع کی تقسیم

پاکستان کے لیے سب سے اہم سبق شاید یہی ہے کہ عدم مساوات کا حل صرف دولت چھین کر تقسیم کرنا نہیں، بلکہ مواقع کو وسیع کرنا ہے۔

ایک غریب خاندان کے بچے کو معیاری اسکول، ایک نوجوان کو فنی تربیت، ایک چھوٹے کاروباری کو آسان قرض، ایک کسان کو جدید ٹیکنالوجی، ایک خاتون کو محفوظ معاشی مواقع اور ایک باصلاحیت شخص کو میرٹ پر آگے بڑھنے کا موقع مل جائے تو معاشی عدم مساوات خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔

ہمیں ایسی معیشت بنانی ہوگی جہاں امیر ہونا جرم نہ ہو، لیکن امیر ہونے کے لیے نظام کو اپنے حق میں موڑنا بھی ممکن نہ ہو۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔

کاروباری کام یابی، سرمایہ کاری، جدت اور دولت پیدا کرنے کی حوصلہ افزائی ایک ترقی پسند معیشت کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو، مارکیٹ میں مسابقت ہو، ریاستی وسائل شفاف طریقے سے استعمال ہوں اور وراثتی یا اجارہ دارانہ طاقت معاشی مواقع کے دروازے بند نہ کر دے۔

’’Makers‘‘ کی معیشت

دنیا کو ایسے معاشی نظام کی ضرورت ہے جو دولت پیدا کرنے والوں کو انعام دے، مگر دولت پر قبضے کے راستے محدود کرے۔

پاکستان کے لیے بھی راستہ یہی ہے۔

ہمیں ایسی معیشت درکار ہے جہاں دولت صرف چند خاندانوں، اداروں یا مراکز میں مرتکز نہ ہو بلکہ لاکھوں لوگوں کے لیے نئے مواقع پیدا کرے؛ جہاں ٹیکس نظام منصفانہ ہو؛ جہاں قانون کی حکم رانی معاشی طاقت سے بالاتر ہو؛ جہاں تعلیم اور ہنر سب کے لیے قابلِ رسائی ہوں؛ جہاں اجارہ داری کے بجائے مسابقت ہو؛ اور جہاں ریاست کا کردار کسی مخصوص طبقے کا محافظ بننے کے بجائے منصفانہ معاشی میدان فراہم کرنے والے ادارے کا ہو۔

Oxfam کی رپورٹ کا عنوان ’’Takers not Makers‘‘ ایک تلخ سوال ضرور اٹھاتا ہے، مگر پاکستان کے لیے اس کا جواب صرف شکایت نہیں ہونا چاہیے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری معیشت کا مستقبل Takers کے لیے مزید مواقع پیدا کرے گا یا Makers کی ایک وسیع، باصلاحیت اور خود انحصار نسل تیار کرے گا۔

ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ چند افراد کتنے امیر ہوئے؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ کتنے لوگوں کو اپنی محنت، صلاحیت اور ہنر سے باعزت زندگی بنانے کا موقع ملا۔ 





Source link

متعلقہ پوسٹ