ستھرا پنجاب پروجیکٹ؛ آپریشنل تعطل کی اصل وجوہات اور مالی حقائق کی وضاحت

ستھرا پنجاب .webp


پریس ریلیز: ستھرا پنجاب پروجیکٹ میں آپریشنل تعطل کی اصل وجوہات اور مالی حقائق کی وضاحت سامنے آگئی ہے۔

ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا شروع کردہ ’’ستھرا پنجاب‘‘ منصوبہ بلاشبہ ایک انتہائی شاندار اور دوراندیش عوامی منصوبہ ہے۔ اس عظیم منصوبے کی بدولت پنجاب کے ہر کونے، چاہے وہ کوئی دور افتادہ گاؤں ہو، چھوٹا قصبہ ہو یا بڑا شہر، ہر گلی اور محلے کو صاف ستھرا کیا گیا ہے اور عوام حکومت کے اس شاندار اقدام پر بے حد مطمئن اور خوش ہیں۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ صفائی کے اس مثالی نظام کے ساتھ ساتھ اس منصوبے نے مقامی سطح پر روزگار کے بے شمار نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں جس سے مقامی لوگوں کو باعزت روزگار ملا ہے اور ہزاروں خاندانوں کی معاشی کفالت میں بھرپور مدد ملی ہے۔

ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ ڈویژن جوائنٹ وینچر کی انتظامیہ پنجاب بھر میں صفائی کے عملے اور وینڈرز کے بقایاجات اور آپریشنل تعطل کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر حقائق اور اپنا مؤقف عوام اور میڈیا کے سامنے پیش کرنا چاہتی ہے۔ ادارے کو دانستہ طور پر تنخواہوں اور ادائیگیوں میں رکاوٹ کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں (ڈی ڈبلیو ایم سی، ایم ڈبلیو ایم سی، جی ڈبلیو ایم سی، ایف ڈبلیو ایم سی) اور متعلقہ حکام کی جانب سے گزشتہ 18 ماہ سے جائز واجبات کی عدم ادائیگی نے ایک شدید مالی بحران کو جنم دیا ہے۔

1۔ مالیاتی حقائق اور 17.5 ارب روپے کے واجبات

ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ نے حکومت پنجاب کے فلیگ شپ پروگرام ’’ستھرا پنجاب‘‘ کے تحت صوبے کی 21 تحصیلوں میں صفائی اور ویسٹ مینجمنٹ کی خدمات انجام دی ہیں۔ ادارے کے آڈٹ شدہ مالی ریکارڈ کے مطابق صورت حال درج ذیل ہے:

کل جمع کرائے گئے انوائسز: 50 ارب 7 کروڑ 64 لاکھ روپے سے زائد (50,076,402,514 روپے)۔

موصول شدہ ادائیگیاں: صرف 33 ارب 3 کروڑ روپے، جو مجموعی انوائسز کا بمشکل 66 فیصد ہیں۔

براہ راست بنیادی واجبات: 15 ارب 19 کروڑ 72 لاکھ روپے سے زائد (15,197,252,621 روپے) جو تاحال کمپنیوں کی جانب سے روکے گئے ہیں۔

اضافی کلیمز: ٹیکس، کرایہ جات اور افرادی قوت کی مد میں 2 ارب 30 کروڑ روپے سے زائد (تقریباً 2,300,743,078 روپے)۔

مجموعی واجب الادا رقم: تقریباً 17.5 ارب روپے۔

معاہدے (GCC شق 10.3) اور پنجاب پروکیورمنٹ رولز (PPR-2014 کے رول 62) کے تحت ہر بل کی ادائیگی 30 روز کے اندر لازمی ہے۔ اس کے برعکس، کمپنیوں کی جانب سے گزشتہ 6 سے 8 ماہ سے صرف 50 سے 70 فیصد کی نام نہاد ’’عبوری‘‘ (Provisional) ادائیگیاں کی گئیں جبکہ ڈی جی خان ڈویژن میں مارچ اور اپریل 2025 کے پورے بل، تقریباً 1.2 ارب روپے، 18 ماہ گزرنے کے باوجود مکمل طور پر دبا کر رکھے گئے ہیں۔

2۔ وینڈرز کی ہڑتال اور زمینی بحران کی اصل وجہ

ادارہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ ڈیزل فراہم کرنے والی کمپنیوں، کرائے کی گاڑیوں (کمپیکٹرز، ٹریکٹر ٹرالیوں) کے مالکان اور مشینری آپریٹرز نے 17 ستمبر 2026 سے کام بند کر دیا۔

کوئی بھی نجی ادارہ اپنے وسائل سے مسلسل 18 ماہ تک 6 ماہ کے مساوی حجم کا مفت پبلک سروس آپریشن نہیں چلا سکتا۔

جب کلائنٹ کمپنیوں نے ہی معاہدے کے تحت طے شدہ رقم ادا نہیں کی تو اس کے نتیجے میں آئل کمپنیوں اور گاڑیوں کے مالکان کے بقایاجات جمع ہوتے چلے گئے جس کی وجہ سے وینڈرز نے ہڑتال کی۔

کنٹریکٹ ایکٹ 1872 کی دفعہ 54 (باہمی وعدوں کی پاسداری) کے تحت، جب بنیادی فریق (حکومت/کمپنی) وقت پر ادائیگیاں کرنے میں ناکام رہے تو وہ سروس فراہم کرنے والے پر تعطل کا الزام لگا کر یکطرفہ کارروائی یا سزائیں عائد کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں رکھتے۔

3۔ غیر قانونی کٹوتیاں، غیر شفاف سزائیں اور زمین کی عدم فراہمی

ادارے کے فنڈز کو قانونی جواز کے بغیر روکا گیا ہے۔

غیر واضح اور پوشیدہ کٹوتیاں: کمپنیوں نے کسی سرٹیفکیٹ آف پے منٹ (COP) یا حساب کتاب کے بغیر تقریباً 4 ارب روپے (3.97 ارب روپے) ’’دیگر کٹوتیوں‘‘ کے نام پر کاٹ لیے۔

حکومتی زمین نہ دینا اور پھر جرمانے لگانا: معاہدے کے تحت ویسٹ ٹرانسفر پوائنٹس (TCPs) کے لیے سرکاری زمین فراہم کرنا ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کی ذمہ داری تھی۔ زمین نہ ملنے پر ادارے نے اپنی جیب سے کروڑوں روپے خرچ کرکے نجی زمینیں حاصل کیں، مگر اس کے باوجود سسٹم سے غیر قانونی طور پر ایک لاکھ روپے یومیہ کے خودکار جرمانے عائد کیے گئے۔

سرکاری ملازمین کا نہ ملنا: معاہدے کے تحت میونسپل کمیٹیوں کے صفائی ملازمین کنٹریکٹر کے حوالے کیے جانے تھے، جو نہیں دیے گئے۔ ادارے نے شہریوں کو تعطل سے بچانے کے لیے مارکیٹ سے متبادل افرادی قوت ہائر کی جس پر ادارے کے اربوں روپے اضافی خرچ ہوئے۔

ٹیکس کا فرق: فنانس ایکٹ 2025 کے تحت سروسز پر ودہولڈنگ ٹیکس 11 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کر دیا گیا۔ کنٹریکٹ کی شق 12.1(c) کے تحت یہ 4 فیصد فرق ادا کرنا لازمی تھا، مگر اس مد میں 1.5 ارب روپے سے زائد دبا لیے گئے۔

پورٹل کی خرابیاں: ابتدائی مہینوں میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے حاضری پورٹل کی تکنیکی خرابیوں اور چہرے کی شناخت نہ ہونے کے مسائل کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی عملے کی حاضری غائب ظاہر کرکے کروڑوں کے ناجائز جرمانے لگائے گئے۔

4۔ قانونی نوٹس اور ہمارا مطالبہ

ادارے نے 5 اکتوبر 2026 کو تمام متعلقہ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو معاہدے کی شق 14(B) اور شق 24 کے تحت ڈیفالٹ اور باقاعدہ تنازع (Dispute Notice) کے نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔

1۔ 7 یوم کے اندر: بلا تنازعہ رقوم، ودہولڈنگ ٹیکس کا فرق اور مارچ و اپریل 2025 کے بقایاجات فوری جاری کیے جائیں تاکہ سینی ٹیشن اسٹاف اور آئل سپلائرز کو ادائیگیاں کی جا سکیں۔

2۔ 14 یوم کے اندر: روکے گئے 15.19 ارب روپے کی مفاہمت اور ادائیگی کا عمل شروع کیا جائے۔

3۔ 28 یوم کے اندر حتمی فیصلہ: بصورت دیگر ادارہ معاہدہ منسوخ کرنے اور تمام سروسز مکمل طور پر ختم کرکے نقصانات کے ازالے کے لیے ثالثی عدالتوں سے رجوع کرنے کا قانونی حق محفوظ رکھتا ہے۔

ہم وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب اور سیکریٹری بلدیات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ حقائق کا فوری نوٹس لیں اور فنڈز کے فوری اجرا کے احکامات صادر فرمائیں تاکہ ہم اپنے غریب سینی ٹیشن ورکرز کی تنخواہیں اور وینڈرز کے واجبات فوری طور پر ادا کرکے پنجاب کے شہریوں کو معمول کے مطابق صاف ستھرا ماحول فراہم کر سکیں۔

چند افراد کی بدعنوانی اور بدقِسمتی نے اس شاندار منصوبے کی شفافیت کو آلودہ کر دیا ہے جس کے باعث آج یہ سنگین صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ ڈویژن پر غیر واضح وجوہات اور بے جا، غیر منصفانہ اور ناجائز جرمانے عائد کرکے پورے نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے ہزاروں افراد اور ان سے وابستہ خاندانوں کا معاشی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے، جو ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ ڈویژن کے پیدا کردہ مواقع سے اپنا گھر چلا رہے ہیں۔

مزید برآں، ادارے نے اس قومی منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے گاڑیاں، مشینری اور اراضی کرائے پر لینے سمیت دیگر مدات میں اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو اب ضائع ہونے کے خدشے سے دوچار ہے۔ ان تمام تر گمبھیر مشکلات کے باوجود، ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ ڈویژن اپنے تمام ملازمین، فیلڈ اسٹاف اور وینڈرز کو مکمل یقین دلاتا ہے کہ ادارہ ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے تمام جائز واجبات مکمل طور پر ادا کیے جائیں گے۔

پنجاب کی 21 تحصیلوں جن میں ڈیرہ غازی خان، کوٹ چھٹہ، تونسہ، چوک سرور شہید، کوٹ ادو، کروڑ لعل عیسن، لیہ، علی پور، جتوئی، مظفرگڑھ، جام پور، راجن پور، پھالیہ، ملکوال، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، پنڈی بھٹیاں، میلسی، بورے والا، لودھراں اور شجاع آباد شامل ہیں، کے حوالے سے مجموعی صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں اور متعلقہ حکام کی جانب سے ان تحصیلوں کے 15 ارب 19 کروڑ روپے سے زائد کے جائز واجبات کی مسلسل عدم ادائیگی نے پورے صوبے میں صفائی کے نظام کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔

ان سنگین حالات، کلائنٹ کی جانب سے مسلسل معاہدے کی خلاف ورزی اور اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہم نے معاہدے کی شق 14(B) اور شق 24 کے تحت متعلقہ کمپنیوں کو باقاعدہ طور پر ڈیفالٹ نوٹسز (Notices of Default by Client) جاری کر دیے ہیں اور ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (DRC) میں درخواست دائر کر دی ہے۔

یہاں یہ بتانا بھی انتہائی اہم ہے کہ ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ ڈویژن نے ان علاقوں کے شہریوں کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کے لیے اربوں روپے کی بھاری سرمایہ کاری کی ہے جو اب کلائنٹس کی عدم ادائیگیوں کی وجہ سے شدید خطرے میں ہے۔

اس مجموعی سرمایہ کاری میں ڈائیوو کی اپنی ملکیتی مشینری، جس میں رکشے، آرم رول گاڑیاں، ڈمپرز، کمپیکٹرز اور دیگر گاڑیاں شامل ہیں، کی فراہمی پر 2 ارب 52 کروڑ 49 لاکھ روپے لگائے گئے ہیں۔ کلیکشن پوائنٹس اور ڈمپ سائٹس جیسی تعمیرات پر 1 ارب 28 کروڑ 27 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں جبکہ کوڑے کے کنٹینرز پر 54 کروڑ 7 لاکھ روپے کی لاگت آئی ہے۔

اس بھاری سرمایہ کاری کے علاوہ آپریشنز کو بلاتعطل جاری رکھنے کے لیے ادارے نے بھاری اخراجات بھی خود برداشت کیے جن میں عملے اور دیگر اسٹاف کی مجموعی تنخواہوں پر 1 ارب 13 کروڑ 35 لاکھ روپے، کرائے پر لی گئی مشینری کی مد میں 39 کروڑ 51 لاکھ روپے اور تمام گاڑیوں کے فیول پر 39 کروڑ 2 لاکھ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

اس طرح ان تحصیلوں میں ادارے کی جانب سے کی گئی کل سرمایہ کاری اور اخراجات کا تخمینہ 6 ارب 26 کروڑ 73 لاکھ روپے بنتا ہے جو اب مکمل طور پر داؤ پر لگا ہوا ہے۔

مسلسل 6 سے 8 ماہ تک ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث مشینری وینڈرز اور فیول سپلائرز کے کروڑوں روپے کے بقایاجات جمع ہو چکے تھے جس کی وجہ سے وینڈرز نے مجبوراً اپنی سروسز روک دیں۔ پنجاب بھر میں حالیہ تعطل اور آپریشنز کا مکمل طور پر رک جانا براہ راست انہی عدم ادائیگیوں کا نتیجہ ہے۔

ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ ڈویژن اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ اگر حکومت پنجاب اور ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (DRC) ہمارے مؤقف اور حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی مثبت اور منصفانہ حل تک پہنچتی ہے تو ہم ان تمام علاقوں کے شہریوں کو پہلے کی طرح اپنی بہترین اور بلاتعطل سروسز فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہیں۔



Source link

متعلقہ پوسٹ