یورپ میں سالانہ صرف ساڑھے تین لاکھ چینی ہائبرڈ گاڑیاں درآمد ہوں گی

399104 1503737728


یورپی یونین اور چینی حکام پیر کو یورپ چینی ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد کو ساڑھے تین لاکھ تک محدود کرنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

یورپی یونین کے ایک سینیئر عہدیدار نے پیر کو کہا: ’اس سے فیصلے سے یورپی یونین کو موجودہ امپورٹس نصف سے بھی زیادہ کم ہو جائیں گی جن کے بارے میں ہمارا اندازہ ہے کہ 2026 میں یہ آٹھ لاکھ یونٹس تک پہنچنے کا امکان ہے۔‘

اس معاہدے کا اطلاق   2027 سے چار سال کے لیے ہوگا اور دوسرے سال کے بعد سے اس میں ہر سال چھ فیصد اضافہ ہوگا۔

یورپی یونین اپنے حفاظتی اقدام استعمال کرے گی، جو اسے کسی مخصوص پروڈکٹ کی یورپ میں بھرمار روکنے کے لیے درآمدات محدود کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

ہائبرڈ گاڑیوں کا معاملہ حساس ہے کیونکہ اس کے ذریعے چینی مینوفیکچررز یورپی یونین کی مارکیٹ میں داخل ہونے کے کوشش کرتے ہیں۔

یورپی یونین نے 2024 میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر بھاری اضافی ٹیرف یہ الزام لگاتے ہوئے نافذ کیے تھے کہ یہ ناجائز سرکاری سبسڈیز سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

برسلز اور بیجنگ نے گذشتہ ہفتے چین کی طرف سے یورپی یونین کو ہائبرڈ اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد کو ’معتدل‘ کرنے پر اتفاق کیا تھا، لیکن اس منصوبے کی تفصیلات فوری طور پر عام نہیں کی گئی تھیں۔

چین کی وزارت تجارت نے پیر کو کہا کہ یورپ نے 2025 میں 302,000 ہائبرڈ گاڑیاں امپورٹ کی تھیں اور گذشتہ ہفتے ہونے والا معاہدہ اس ہی کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔

وزارت نے کہا کہ ’فریقین نے 2025 کی بنیاد پر اضافے کا ایک انتظام طے کیا، جس سے چینی کاروباری اداروں کے لیے امپورٹس کی گنجائش اور مستحکم ترقی کو یقینی بنایا گیا۔‘

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ معاہدہ گذشتہ جمعہ کو اس وقت طے پایا جب یورپی تجارتی کمشنر ماروش شیفچووچ نے ایک نقصان دہ تجارتی جنگ کو روکنے کے لیے بیجنگ میں دو روزہ مذاکرات کیے۔

یورپی یونین چین سے بڑھتی ہوئی امپورٹس کے بارے میں مسلسل پریشان ہے، کیونکہ اس ایشیائی طاقت کے ساتھ اس کا تجارتی خسارہ روزانہ تقریبا ایک ارب یورو (1.1 ارب ڈالر) تک پہنچ رہا ہے۔

یورپ میں بہت سے لوگ چین پر غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا الزام لگاتے ہیں، جن میں قیمتیں گرا کر مصنوعات فروخت کرنا، کرنسی کی ہیرپھیر اور کمپنیوں کو بھاری سبسڈیز کے ذریعے مدد فراہم کرنا شامل ہے۔ حکام اور کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اس سے یورپی یونین کی کمپنیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔

چین ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی وجہ اس کی صنعتی مہارت ہے۔

درآمد سے متعلق یہ معاہدہ جمعرات کو یورپی یونین کے رہنماؤں کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہوگا، جس کے دوران وہ اس بات کا جائزہ لیں گے کہ یورپ کو اگلے کون سے اقدامات کرنے چاہیں۔

یورپی یونین کے ایک دوسرے اہلکار نے کہا کہ برسلز اپنی انڈسٹری یا خطے کو محفوظ بنانے کے طریقوں پر بات کر رہا ہے۔





Source link

متعلقہ پوسٹ