’ریاست مخالف‘ مواد پھیلانے کا الزام، اقرار الحسن عدالت میں پیش

399117 271441712


پاکستانی ٹی وی اینکر اور عوام راج تحریک کے سربراہ اقرار الحسن کو آخرکار منگل کو کراچی کی ایک عدالت میں پیش کر دیا گیا جہاں سے انہیں  نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا۔

اقرار الحسن کے اہل خانہ کے مطابق انہیں اتوار کو لاہور میں ان گھر سے کچھ ’لوگ‘ اپنے ساتھ لے گئے تھے جبکہ نیشنل سائبر کرائمز انویسٹیگیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ابتدا میں انہیں گرفتار کرنے کی تردید کی تھی۔

تاہم اب اقرار الحسن کو این سی سی آئی اے نے منگل کو کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ 1 ایسٹ کی عدالت میں پیش کیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار ممتاز جمالی کے مطابق عدالت نے چار روزہ ریمانڈ کی درخواست منظور کر لی جس کے بعد این سی سی آئی اے کی ٹیم نے اقرار الحسن کو واپس سیل منتقل کر دیا ہے۔

ٹی وی اینکر اقرار الحسن کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق ان پر سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد پھیلانے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

ایف آئی آر جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کراچی نے اقرار الحسن پر سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر ریاست مخالف، من گھڑت اور ہتک آمیز مواد پھیلانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ 10 اکتوبر 2026 کو درج کیا گیا۔ ملزم کے خلاف پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26-A کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’ملزم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس، انسٹاگرام اور فیس بک پر مبینہ طور پر ایسا مواد شائع اور نشر کر رہا تھا جس کا مقصد ریاست، اس کے اداروں اور عہدیداروں کے خلاف عوامی سطح پر اشتعال پیدا کرنا تھا۔‘

ایف آئی آر کے مطابق متعلقہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شائع ہونے والی پوسٹس اور ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا، جن کے بارے میں الزام ہے کہ ان میں ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف ’غلط اور من گھڑت معلومات‘ پھیلائی گئیں۔





Source link

متعلقہ پوسٹ