چین اور شمالی کوریا نے جمعرات کو طویل تاخیر کے بعد اپنی اہم ترین زمینی سرحدی گزرگاہ کا باضابطہ افتتاح کر دیا۔ اس اقدام کا مقصد کئی برسوں سے خراب دوطرفہ تعلقات اور کورونا وبا کے باعث متاثر ہونے والی سرحد پار تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کو دوبارہ فروغ دینا ہے۔
تین کلومیٹر طویل نیو یالو ریور برج اور اس کے اختتام پر قائم چینی کسٹمز کے علاقے میں گزشتہ چند روز کے دوران سرگرمیاں بڑھتی دکھائی دیں۔
جمعرات کو افتتاح کے موقعے پر چینی پرچموں سے سجے ٹرک پل پر سرحد پار جانے کے منتظر تھے، جبکہ چینی جانب پل کے قریب واقع سڑک پر بھی لوگوں کا ہجوم جمع تھا۔
بلند ستونوں اور کیبلز پر قائم اس پل پر چین اور شمالی کوریا کے پرچم بھی آویزاں کیے گئے تھے۔ پل کی تعمیر 2014 میں مکمل ہو گئی تھی، تاہم اسے اب تک استعمال نہیں کیا جا رہا تھا۔ شمالی کوریا کی جانب پل تک پہنچنے والی سڑکیں اور کسٹمز کمپلیکس ابھی تک نامکمل ہیں۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی شنہوا نے جمعرات کو بتایا کہ دونوں ممالک نے نئے پل کی افتتاحی تقریب منعقد کی، تاہم شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے تاحال اس تقریب کی خبر جاری نہیں کی۔
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس پل کا افتتاح بیجنگ اور پیانگ یانگ کے تعلقات میں پیش رفت کی علامت ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان دو سربراہی ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔
چین، شمالی کوریا کا اب تک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اگرچہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اشیا اور کارکنوں کی آمدورفت محدود رہی ہے۔ یہ پابندیاں شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کو روکنے کے لیے عائد کی گئی تھیں۔
چین اور روس، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں اور 2017 تک پابندیوں کی قراردادوں کی حمایت کرتے رہے، بعد ازاں ان پابندیوں کی قانونی حیثیت اور مؤثریت پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، شمالی کوریا ممکنہ معاشی فوائد کے باوجود چین پر اپنے انحصار میں اضافے کے حوالے سے محتاط ہے۔
امریکہ اور جنوبی کوریا سمیت بعض ممالک روس پر شمالی کوریا کو حساس فوجی معاونت فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہیں، جس کے بدلے پیانگ یانگ مبینہ طور پر یوکرین میں جاری جنگ میں روس کی مدد کر رہا ہے۔
کیونگنام یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار فار ایسٹرن سٹڈیز سے وابستہ لم اَل چُل کے مطابق اس پل کے افتتاح سے فوری طور پر پابندیوں سے پہلے کی سطح پر مکمل تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کا امکان نہیں۔
تاہم، ان کا کہنا ہے کہ یہ پل شمالی کوریا کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار بھاری مشینری، خام مال اور توانائی کی مصنوعات کی ترسیل میں مدد دے گا۔
چین کی شمالی کوریا کو برآمدات گذشتہ سال بڑھ کر 2.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو چھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ یہ رقم گذشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ تھی۔

