سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی حراست میں توسیع؛ دیپکے بولے- مودی کو لگتا ہے وہ سب سے طاقتور ہیں، لیکن وہ بزدل ہیں

Saurabh Das


نئی دہلی میں عدالت کی  کارروائی کے دوران سی جے پی کے رہنما سوربھ داس اور آشوتوش رانکا۔ تصویر:ایکس/ابھیجیت دیپکے، پی ٹی آئی فوٹو

سی جے پی کے دو لیڈر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی عدالتی حراست ایک اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ نے دو دن کے لیے بڑھا دی ہے۔ انہیں 14 اکتوبر کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔ سی جے پی کی لیگل چیف رتنا سنگھ نے کہا کہ جمہوری آوازوں کو دبانے کے لیے کی جانے والی پوری کارروائی ایک تماشا بن کر رہ گئی ہے۔

نئی دہلی: دہلی میں ایک اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) نے سوموار (19اکتوبر)کو کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی)کے دو سرلیڈر سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی عدالتی حراست میں دو دن کی توسیع کردی۔ دونوں اب اپنی شروعاتی عدالتی حراست کی مدت سے دو دن زیادہ تہاڑ جیل میں رہیں گے۔ انہیں 14 اکتوبر کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا تھا۔

داس اور رانکا کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جنتر منتر کو احتجاجی مقام کی فہرست سے ہٹائے جانے کے ایک دن بعد دونوں وہاں قومی پرچم لہرانے گئے تھے۔ دونوں رہنماؤں کی پیروی کرنے والے وکیل ابھیک چمنی نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کوچیلنج دیں گے۔

چمنی نے صحافیوں سے کہا،’یاد رکھیے، یہ احتیاطی حراست کا معاملہ ہے۔ میرے موکلوں کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہے۔ انہیں اس اندیشے کی وجہ سے جیل میں رکھا گیا ہے کہ وہ باہر آکر احتجاج کریں گے۔‘

سی جے پی کی قانونی ٹیم نے حراست کی مدت پوری ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ ریتو راج نے ان کی حراست میں دو دن کی توسیع کردی۔ دہلی پولیس نے ان کی حراست میں پانچ دن کی توسیع کا مطالبہ کیا تھا۔

مجسٹریٹ نے اپنے آرڈر میں کہا کہ داس اور رانکا نے جنتر منتر پر احتجاج کرکے ’ قانون کے تئیں کوئی احترام نہیں دکھایا‘، جبکہ اس مقام کو احتجاجی مقامات کی نوٹیفائیڈ فہرست سے ہٹایا جاچکا تھا۔ ریتو راج نے کہا،’میں مناسب سمجھتا ہوں کہ ملزمین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور دونوں فریقوں کے دلائل پر غور کیا جائے۔‘

آرڈر میں یہ بھی کہا گیا کہ ضمانت داروں کے دستخط شدہ بانڈ پر لگی تصویر اور اس کے آدھار کارڈ پر موجود تصویر میں فرق تھا۔ اسے بھی دونوں رہنماؤں کو رہا نہ کرنے کی ایک وجہ بتایا گیا۔

چمنی نے کہا کہ پانچ دن کی حراست کی مدت ختم ہوچکی تھی اور سوموارکو چوتھی مرتبہ مجسٹریٹ نے ضمانت داروں کو قانونی نہیں مانا۔ انہوں نے کہا، ’آج ہم ایک نئے ضامن کو لے کر آئے اور پھر انہیں (داس اور رانکا کو)عدالت میں پیش کیا گیا۔‘ان کے مطابق، پولیس نے ضمانت داروں کی  تصویریں ایک جیسی نہ ہونے کی دلیل دی اورکہا کہ  متعلقہ شخص کے بال پہلے سے چھوٹے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے دونوں کی حراست میں توسیع کے لیے ایک ’نئی درخواست‘پیش کی، جس میں دی گئی وجوہات ’انتہائی حیران کن‘تھیں۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ امن عامہ کو ’فوری خطرہ‘لاحق ہے، اس لیے دونوں کو مزید کچھ وقت تک حراست میں رکھا جانا چاہیے۔

چمنی نے صحافیوں سے کہا،’پورے حلف نامے میں ریاست کی جانب سے اس اندیشے کے حوالے سے کوئی بیان درج نہیں ہے، جو ہمارے لیے انتہائی پریشان کن ہے۔ اس میں صرف پچھلے احتجاج کا ذکر ہے، جو قانونی طور پر جائز تھے۔‘

وکیل نے کہا،’آج جو ضمانت دارپیش کیے گئے، ان کے ساتھ ایس ای ایم کی عدالت نے 15 منٹ تک بیٹھ کر ان کی جانکاری اور دستاویزوں کی جانچ کی۔ اس کے بعد یہ کہتے ہوئے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا گیا کہ ان کا سوربھ پر کوئی اختیار نہیں ہے اور تصویر آپس میں میل نہیں کھا رہی۔‘

واضح ہو کہ دونوں رہنماؤں کو 14اکتوبر کوایس آئی آرکے خلاف ہوئے احتجاج کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مظاہروں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔

اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سی جے پی کی لیگل چیف رتنا سنگھ نے ایک بیان میں کہا، ’ہمارے وکیلوں نے قانونی نکات پر مضبوطی سے اپنے دلائل پیش کیے، لیکن افسران امن عامہ کے لیے کسی بھی طرح کا خطرہ ظاہر کرنے والا ایک بھی ثبوت پیش نہیں کرسکے۔‘

دہلی پولیس نے دلیل دی کہ رہائی کے بعد داس اور رانکا امن و امان میں خلل ڈال سکتے ہیں یا آئندہ احتجاج کے لیے لوگوں کو اکسا سکتے ہیں۔ پولیس نے اس سلسلے میں ان کی جانب سے ماضی میں دستخط کیے گئے امن برقرار رکھنے سے متعلق بانڈ کی مبینہ خلاف ورزی کا حوالہ دیا۔ دونوں کو مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر قصوروار قرار دینے کے بجائے احتیاطی حراست سے متعلق قانونی اختیارات کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

ضمانت کی کارروائی کے دوران بھی بار بار تاخیر ہوئی۔ رتنا سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کئی بار پوسٹ کرکے دونوں کی جانب سے پیش کیے گئے ضمانت داروں کے دستاویزوں کو مبینہ طور پر غیر واضح وجوہات کی بنا پر بار بار مسترد کیے جانے کا معاملہ اٹھایا۔

خبروں کے مطابق، مقدمے کی سماعت کرنے والے مجسٹریٹ نے اپنی جان کو خطرہ لاحق ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے خود کو سماعت سے الگ کرلیا تھا۔ ان واقعات نے مقدمے کی سماعت اور اسے سنبھالنے کے طریقے کے حوالے سے تشویش پیدا کردی ہے۔

سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے رتنا سنگھ نے کہا کہ پوری کارروائی جمہوری آوازوں کو دبانے کے مقصد سے کیاگیاایک تماشہ بن کر رہ گئی ہے۔

سنگھ نے یہ بھی کہا،’آشوتوش اور سوربھ کی عدالتی حراست کے بعد سی جے پی کی جانب سے احتجاج کی کوئی اپیل نہیں کی گئی تھی۔ ایسے میں ریاستی حکومت کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کی رہائی سے امن و امان کو خطرہ  ہے، درست نہیں ہے۔‘

’آپ صرف ایک بزدل ہیں‘

اس دوران سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے ایک بیان جاری کرکے نریندر مودی کو ’بزدل‘کہا ہے۔

سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی حراست پر بات کرتے ہوئے دیپکے نے کہا،’نریندر مودی، بہت طاقتور محسوس ہو رہا ہوگا تمہیں26سالہ سوربھ داس کو جیل میں رکھ کر۔ بہت بہت طاقتور محسوس ہورہا ہوگا راستے پر بچوں کو پیٹ کر۔ بہت طاقتور محسوس ہورہا ہوگا کہ  پوری دہلی میں بیریکیڈ لگا کر اور طلبہ کو سڑکوں پر گھسیٹ کر ۔‘

دیپکے نے کہا،’آپ کو لگتا ہے کہ آپ بہت طاقتور وزیر اعظم ہیں۔ آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن آپ صرف ایک بزدل ہیں۔‘



Source link

متعلقہ پوسٹ