امریکی وزیر کینیڈی کا عربوں پر متنازع دعویٰ، عالمی سطح پر شدید تنقید

Inquilab 20261028 171536 0000 d


واشنگٹن: امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات کے سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے مشی گن میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی انتخابی مہم کے دوران کہا کہ دنیا میں 50 کروڑ عرب ہیں مگر وہ سائنس پیدا نہیں کرتے، نوبیل، فیلڈز یا وولف انعام نہیں جیتتے اور ادب تخلیق نہیں کرتے۔ ان کے اس بیان پر سائنسدانوں، حقوقِ انسانی تنظیموں اور سیاسی شخصیات نے سخت ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
کینیڈی نے یہ تبصرے گرانڈ ریپڈز میں منعقدہ انتخابی تقریب میں کیے، جہاں انہوں نے مسلم برادران کے اثرات کو عرب معاشروں کی مبینہ "جمود” کا سبب قرار دیا۔ انہوں نے ڈیموکریٹک سینیٹ امیدوار عبدالسید پر اخوان المسلمون سے مبینہ تعلقات کے الزامات کے تناظر میں یہ دعویٰ کیا۔
بین الاقوامی میڈیا اور فیکٹ چیکنگ رپورٹس کے مطابق کینیڈی کا دعویٰ تاریخی ریکارڈ کے برعکس ہے۔ مصری مصنف نجیب محفوظ نے 1988ء میں ادب کا نوبیل انعام جیتا، جبکہ مصری نژاد امریکی سائنسدان احمد زیویل کو 1999ء میں کیمیا کا نوبیل انعام ملا۔
اردن میں پیدا ہونے والے کیمیا دان عمر یاغی کو 2025ء میں کیمیا کا نوبیل انعام دیا گیا؛ وہ 2018ء میں وولف پرائز برائے کیمیا بھی جیت چکے ہیں۔ لبنانی نژاد ریاضی دان سر مائیکل عطیہ نے 1966ء میں ریاضی کا معتبر فیلڈز میڈل حاصل کیا تھا۔
عرب نوبیل انعام یافتگان میں امن کے انعام کے لیے محمد البرادعی (2005ء) اور توکل کرمان (2011ء) بھی شامل ہیں، جبکہ 1978ء میں انور سادات اور 1994ء میں یاسر عرفات کو بھی امن کا نوبیل انعام ملا تھا
کونسل آن امریکن-اسلامک ریلیشنز (کیئر) نے کینیڈی کے ریمارکس کو "کھلے عام نسل پرستی اور تعصب کی مثال” قرار دیتے ہوئے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ یہ بیانات نصف ارب انسانوں کی تذلیل کی کوشش ہیں۔
صحت کے شعبے سے وابستہ تنظیم "پروٹیکٹ آور کیئر” کے صدر بریڈ ووڈ ہاؤس نے بیان کو کینیڈی کے "نسل پرستانہ بیانیے کا اب تک کا سب سے بدصورت باب” کہا۔ معروف ویکسین ماہر ڈاکٹر پیٹر ہوٹیز نے یاد دلایا کہ قرونِ وسطیٰ کے عرب سائنسدانوں نے ارسطو، بقراط اور جالینوس کے علمی کاموں کو محفوظ رکھا، جو بعد میں یورپی نشاۃِ ثانیہ تک پہنچا۔
تاریخی شراکت
ماہرین نے اسلامی عہدِ زریں میں الجبرا، مثلثیات، بصریات اور فلکیات میں عرب و مسلم سائنسدانوں کی بنیادی خدمات کی طرف اشارہ کیا۔ "الجبرا” اور "الگورتھم” جیسی عالمی سائنسی اصطلاحات کا ماخذ بھی عربی زبان ہے۔
کینیڈی کے دعوے پر محکمہ صحت اور انسانی خدمات نے فوری طور پر کوئی باقاعدہ جواب نہیں دیا، جبکہ ان کے بیان کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد تنقید میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ پوسٹ