روس کا یوکرین پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ؛ زیلنسکی نے موجودہ محاذِ جنگ پر جنگ بندی کی پیشکش کی

ukrain 231026 d


یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے امریکی دباؤ کے درمیان موجودہ محاذِ جنگ کو برقرار رکھتے ہوئے جنگ بندی کی تجویز پر اظہارِ اطمینان کیا ہے، جس کے تحت روس کے زیرِ قبضہ تقریباً 25 فیصد یوکرینی علاقے فی الحال روسی کنٹرول میں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد یوکرین اپنے اتحادیوں سے مؤثر سلامتی کی ضمانتیں طلب کرے گا۔
اس دوران روس نے رات بھر کیف سمیت یوکرین کے متعدد علاقوں پر بڑے پیمانے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے۔ یوکرینی صدر کے مطابق دارالحکومت پر تین لہروں میں 21 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں کلسٹر وارہیڈ والے میزائل بھی شامل تھے۔ حملوں میں کم از کم نو افراد ہلاک اور 56 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ کیف اور آس پاس کم از کم دو افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوئے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے اسکندر-ایم، ایس-400، زیرکون اور اونکس میزائلوں کے علاوہ 210 ڈرونز استعمال کیے، جن میں 110 جیٹ انجن والے تھے۔ یوکرین نے دعویٰ کیا کہ 181 ڈرونز کو مار گرایا یا غیر فعال کر دیا گیا، تاہم 32 مقامات پر حملوں کے اثرات دیکھے گئے۔ رہائشی عمارتوں، توانائی کی تنصیبات، ریلوے اور میٹرو کے ڈھانچے، شاپنگ مراکز اور ایک خانقاہ کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، روسی صدر ولادیمیر پوتن نے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے سینٹ پیٹرزبرگ میں تقریباً تین گھنٹے ملاقات کے بعد روس، یوکرین اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر اصولی رضامندی ظاہر کی۔ کریملن کے مطابق یہ مذاکرات 10 نومبر کے بعد ابوظہبی میں ہوسکتے ہیں، جن میں جنگ کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے لیے سلامتی کے ڈھانچے پر غور کیا جائے گا۔
ماسکو کے میئر نے الزام لگایا کہ یوکرین نے روسی دارالحکومت کی جانب 630 ڈرونز داغے، جن میں سے بیشتر کو فضائی دفاع نے تباہ کیا؛ دو افراد زخمی ہوئے۔ روس نے تازہ امن تجاویز کو مؤثر قرار نہیں دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ جنگ کا خاتمہ پہلے سے زیادہ قریب ہے۔

متعلقہ پوسٹ