ایران کی امریکی ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی، ٹرمپ نے مزید حملوں کا اشارہ دیا

iran 231026 d


ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے نئے حملے کی صورت میں وہ خلیجی خطے کے سات ممالک میں امریکی مفادات سے وابستہ تیل کی تنصیبات، زیرِ سمندر کیبلز، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کے مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو تہران کا منصوبہ مزید وسیع ہوگا۔
رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط پیش کی ہیں اور ان کی تکمیل تک نہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلی جائے گی اور نہ مذاکرات بحال ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تہران اب صرف ’’سیاسی حسنِ نیت‘‘ پر مبنی معاہدوں میں دلچسپی نہیں رکھتا؛ پہلے امریکہ کو اپنے وعدے پورے کرنے ہوں گے، اس کے بعد آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور جہاز رانی بحال ہونے کا راستہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور مزید کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن نئے حملوں کے منصوبے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد پر عمل درآمد کروانے پر غور کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ نے امریکی ووٹرز کی رائے کو متاثر کیا ہے اور اس کی سیاسی قیمت بھی ہے، لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہونے دیے جاسکتے۔ فروری 2026ء میں شروع ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے اسرائیلی اہداف اور خلیجی خطے میں امریکی مفادات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا تھا، جبکہ آبنائے ہرمز میں بار بار رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تنازع کے دوبارہ پھیلنے سے عالمی توانائی کی منڈیوں، خلیجی ملکوں کے ڈیجیٹل ڈھانچے اور عالمی جہاز رانی کو سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ رضائی نے خبردار کیا کہ کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں کو مستحکم ہونے میں تین سال تک لگ سکتے ہیں۔

متعلقہ پوسٹ