فرانس کے بعد یونان میں تعلیم اور مہنگائی کے خلاف احتجاج، ۱۵ ہزار اساتذہ کی کمی

greece d


ایتھنز: فرانس میں جاری احتجاجی تحریک کے بعد یونان میں بھی ہزاروں طلبہ، اسکول کے بچے، اساتذہ اور سرکاری ملازمین مہنگائی، کم اجرتوں اور تعلیمی سہولیات کی کمی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
فرانس پریس کے مطابق دارالحکومت ایتھنز میں تقریباً ۵ ہزار افراد نے مارچ کیا، جبکہ سرکاری ٹیلی ویژن ای آر ٹی کے مطابق ایتھنز میں مظاہرین کی تعداد ۱۰ ہزار سے زیادہ رہی۔ تھیسالونیکی میں تقریباً ۲ ہزار سے ۳ ہزار افراد اور مغربی شہر پاتراس میں ۳ ہزار سے زیادہ مظاہرین شریک ہوئے۔
مظاہرین نے اسکولوں میں عملے کی کمی، بنیادی سہولتوں کے فقدان اور خستہ حال عمارتوں کی شکایت کرتے ہوئے تعلیم کے شعبے کے لیے سرکاری اخراجات میں اضافے کا مطالبہ کیا۔ سیکنڈری اسکول ٹیچرز یونین او ایل ایم ای کے مطابق ملک بھر میں تقریباً ۱۵ ہزار اساتذہ کے عہدے خالی ہیں۔
تھیسالونیکی کی ارسطو یونیورسٹی کے طلبہ نے کہا کہ یونان اور فرانس سمیت مختلف یورپی ممالک میں نوجوانوں کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ مظاہرین نے ’یونان اور فرانس، ہر جگہ انقلاب، وہی مسائل اور وہی دشمن‘ جیسے نعروں پر مشتمل بینر بھی اٹھائے۔
منگل کی شام ایتھنز اور تھیسالونیکی میں درجنوں طلبہ نے احتجاج کے طور پر خیمے نصب کیے۔ پبلک سیکٹر کے ملازمین کی یونین اڈیڈی نے بھی اجرتوں میں اضافے اور اساتذہ کے لیے بہتر سہولتوں کے مطالبات کی حمایت کی۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا جب یونان میں مہنگائی یورو زون کی اوسط سے زیادہ ہے۔ یورپی شماریاتی دفتر کے مطابق گزشتہ ستمبر میں یونان کی سالانہ افراط زر 1.5 فیصد رہی، جبکہ یورو زون کی اوسط 3.8 فیصد تھی۔ یونان نے 2023ء میں اپنی مجموعی ملکی پیداوار کا 3.3 فیصد تعلیم پر خرچ کیا، جو یورپی یونین کی اوسط 4.7 فیصد سے کم ہے۔
اس دوران مغربی تھریس ترک اقلیت مشاورتی کونسل کے صدر اور اسکیچے کے منتخب مفتی مصطفی ترامپا نے اعلان کیا کہ 2026-27ء تعلیمی سال میں رودوپ میں ۵، اسکیچے میں ۲ اور مریچ میں ایک، یعنی کل ۸ ترک اقلیتی پرائمری اسکولوں کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے اس فیصلے پر تنقید بھی کی۔

متعلقہ پوسٹ