واشنگٹن — امریکہ کے سابق صدر بارک اوبامہ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جنگ، ٹیرف پالیسیوں اور امیگریشن پر سختی کو بڑھتی مہنگائی کی بڑی وجوہات قرار دیا ہے۔ انہوں نے ۳؍ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کو ’’نظام کا سرکٹ بریکر‘‘ قرار دیتے ہوئے ووٹرز سے ٹرمپ انتظامیہ کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا۔
اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن اور سینیٹ امیدوار شیروڈ براؤن کی حمایت میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اوبامہ نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کے فیصلے عوام کے اخراجات میں اضافے کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیرفز سے درآمدی اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں، جبکہ ایران جنگ نے تیل اور ڈیزل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے۔
ایران کے معاملے پر اوبامہ نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں تھے کیونکہ ان کی انتظامیہ نے ۲۰۱۵ء کا جوہری معاہدہ کیا تھا، جس نے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس مقصد کے لیے میزائل داغنے کی ضرورت نہیں پڑی، صرف سفارتکاری کا راستہ اپنانا پڑا۔
انہوں نے ٹرمپ پر ۲۰۱۵ء کے معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنے اور پھر ’’غیر ضروری جنگ‘‘ شروع کرنے کا الزام لگایا۔ اوبامہ کے مطابق جنگ کے نتیجے میں امریکی اتحادیوں اور اڈوں پر حملے ہوئے، امریکی شہری ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ اسٹریٹ آف ہرمز میں رکاوٹ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
یہ ریلی کلیولینڈ پبلک آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جہاں اوبامہ نے اوہائیو گورنرشپ کی ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن اور سینیٹ کے امیدوار سابق سینیٹر شیروڈ براؤن کی مہم کے لیے ووٹرز سے اپیل کی۔

