سربیا میں طلبہ تحریک کی تاریخی کامیابی، ووچیچ نے پارلیمانی انتخابات میں شکست تسلیم کرلی

aleksandar vucic d


بیلگریڈ — سربیا کے سابق صدر الیگزینڈر ووچیچ نے پارلیمانی انتخابات میں طلبہ کی قیادت میں قائم ’’اسٹوڈنٹ لسٹ‘‘ کے ہاتھوں شکست تسلیم کرلی ہے، جس سے ملک میں تقریباً ۱۴؍ سال پر محیط ان کے سیاسی اقتدار کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
۲۵؍ اکتوبر کو ہونے والے قبل از وقت انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق اسٹوڈنٹ لسٹ کو ۲۵۰؍ رکنی پارلیمان میں ۱۳۵؍ سے ۱۴۰؍ نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ ووچیچ کی سربیئن پروگریسو پارٹی (ایس این ایس) تقریباً ۱۰۵؍ نشستوں تک محدود رہنے کی توقع ہے۔ ووچیچ نے کہا کہ نمونہ جات کی بنیاد پر واضح ہے کہ ان کی جماعت انتخابات ہار گئی ہے اور اسٹوڈنٹ لسٹ کامیاب ہوئی ہے۔
انتخابی مہم کے دوران ووٹرز کی شرکت تقریباً ۷۰؍ فیصد رہی، جو ۱۹۹۲ء میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ نتیجے کے اعلان کے بعد بیلگریڈ سمیت مختلف شہروں میں طلبہ تحریک کے حامیوں نے جشن منایا۔
اس تحریک کی بنیاد یکم نومبر ۲۰۲۴ء کو نووی ساد میں ریلوے اسٹیشن کی چھت کے حصے کے گرنے سے رکھی گئی، جس میں ۱۶؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ طلبہ نے شفاف تحقیقات، احتساب اور اداروں کی جواب دہی کا مطالبہ کیا تھا؛ بعد ازاں یہ احتجاج بدعنوانی اور جمہوری اداروں کی کمزوری کے خلاف وسیع تحریک میں بدل گیا۔
اسٹوڈنٹ لسٹ میں روایتی سیاستدانوں کے بجائے اساتذہ، ڈاکٹرز، فنکاروں، کسانوں اور دیگر پیشہ ور افراد شامل تھے۔ تحریک نے بدعنوانی کے خلاف کارروائی، اداروں کو سیاسی اثر سے آزاد کرانے اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے کو اپنا مرکزی ایجنڈا بنایا۔
نئی حکومت کے سامنے حکومت سازی، انتظامی اصلاحات اور چین، روس اور یورپی یونین کے ساتھ توازن قائم رکھنے جیسے بڑے چیلنجز ہوں گے۔ یورپی یونین کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے طلبہ اتحاد کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔
انتخابی نگرانی ادارے سی آر ٹی اے کے مطابق نگرانی کیے گئے پولنگ اسٹیشنوں میں ووٹروں یا انتخابی عملے پر دباؤ ڈالنے کے واقعات بھی ریکارڈ ہوئے، تاہم حتمی نتائج کے بعد حکومت سازی کا عمل شروع ہوگا۔

متعلقہ پوسٹ