
(ویب ڈیسک)سنگاپور اور سعودی آرامکو نے2027 سے سعودی خام تیل کو سنگاپور میں زیر زمین واقع تنصیبات میں ذخیرہ کرنےکا منصوبہ بنایا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی فراہمی میں رکاوٹوں کے پیش نظر توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سنگاپور کے وزیر برائے توانائی، تجارت اور صنعت تان سی لینگ نے پیر کے روز سنگاپور انرجی لیکچر 2026 کے دوران اس مشترکہ منصوبے کا اعلان کیا۔
منصوبےکے تحت سعودی آرامکو 2027 کی دوسری ششماہی سے سعودی خام تیل کو سنگاپور میں زیر زمین (سمندر کے نیچے) واقع تنصیبات میں ذخیرہ کرےگی۔ یہ فیصلہ سپلائی سے متعلق خدشات کے پیش نظر کیا جارہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد رواں سال عالمی توانائی کے شعبے کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حوثیوں کے حالیہ حملوں نے عالمی توانائی کی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
تان سی لینگ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کا موجودہ بحران تیل اور توانائی کی فراہمی میں آنے والی آخری رکاوٹ نہیں، بلکہ مستقبل میں بھی ایسی صورت حال پیدا ہوسکتی ہے۔
اس کے علاوہ سنگاپور نے 2030 تک ایک دوسرے ٹرمینل کی تعمیر کے ذریعے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ذخیرہ کرنے اور اس کی فراہمی کی اپنی صلاحیت میں 50 فیصد اضافہ کرنےکا منصوبہ بھی بنایا ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی نےکہا ہےکہ ایندھن کی فراہمی کی صورتحال بدستور خدشات کا شکار ہے اور لگتا نہیں کہ2027 میں بھی تیل کی عالمی مارکیٹ اس سطح پر آسکےگی جہاں وہ فروری میں امریکا اسرائیل کے ایران پر حملے سے شروع ہوئی جنگ سے پہلے تھی۔

