جسٹس (ریٹائرڈ) ایس مرلی دھر کی تصویر (وکی میڈیا کامنس)۔ پس منظر میں انٹرنیشنل کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ۔
اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود غزہ اور ویسٹ بینک میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا سلسلہ جاری رہا۔ کمیشن کے رکن اور سابق جج ایس مرلی دھر نے رپورٹ کے نتائج پر تنقید کرنے والے امریکہ اور اسرائیل کا جواب دیا ہے۔
نئی دہلی: اقوام متحدہ (یو این)کی ایک نئی رپورٹ میں پھر کہا گیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی درج ہے کہ اکتوبر 2025 میں ہوئی ’جنگ بندی‘کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس رپورٹ کو لے کر گزشتہ کل اقوام متحدہ میں بحث ہوئی۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کے سفارت کار تھے، تو دوسری طرف رپورٹ تیار کرنے والے اقوام متحدہ کے کمیشن کے ہندوستانی سربراہ، جسٹس (ریٹائرڈ)ایس مرلی دھر تھے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حکام اور سکیورٹی فورسز نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کا سلسلہ جاری رکھا۔
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر نے اس رپورٹ کو ’تاریخی تخیل‘قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ وہیں، امریکہ نے رپورٹ کے نتائج کو بے بنیاد بتایا اور اقوام متحدہ پر ادارہ جاتی سطح پر یہود مخالف ہونے کا الزام لگایا۔
مرلی دھر نے امریکی نمائندے کے اس تبصرے پر اعتراض کیا کہ اقوام متحدہ اسرائیل کو دوسرے ممالک سے الگ رکھ کر اس کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ انہوں نے اس تبصرے کو ’بغیر سوچے سمجھے کی گئی ایک بھدی بات‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نسل پرستانہ بھی ہو سکتی ہے۔
سوموار کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں ہوئی بحث کے دوران انہوں نے کہا، ’میں امریکہ کی اس کوشش کی شدید مخالفت کرتا ہوں، جس میں وہ اس کمیشن کے کام کی ساکھ کو ختم کرنا چاہتا ہے۔‘
مرلی دھر نے کمیشن کی جانچ کے طریقے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اپنے نتائج طے شدہ معیارات کے تحت جمع کیے گئے اور جانچے پرکھے گئے شواہد کی بنیاد پر اخذ کیے ہیں۔ یہ معیارات بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے)اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی)کے طریقہ کار کے عین مطابق ہیں۔
انہوں نے کہا، ’ہم کسی نتیجے پر اس وقت تک نہیں پہنچتے، جب تک پوری طرح مطمئن نہ ہو جائیں۔‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیشن کسی بھی عدالتی ادارے کے ساتھ اپنے شواہد شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے اس الزام کو بھی مسترد کیا کہ کمیشن نے 7 اکتوبر 2023کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کو نظر انداز کیا تھا۔ انہوں نے کہا،’میں رومانیہ کے نمائندے کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ 7 اکتوبر 2023 کو جو کچھ ہوا، اس پر تفصیلی رپورٹ جاری کرنے والے ابتدائی اداروں میں یہ کمیشن شامل تھا۔‘
’اس کمیشن نے حماس کی جانب سے کیے گئے مظالم کی تفصیلات بھی پیش کی ہیں۔ اسی سال جون میں ہم نے غیر سرکاری تنظیموں اور گروہوں کی سرگرمیوں پر ایک الگ رپورٹ پیش کی تھی۔ اس میں فلسطینی مسلح گروہوں اور حماس کی سرگرمیاں بھی شامل تھیں۔‘
مرلی دھر نے کمیشن کے ارکان کے خلاف اسرائیل کی جانب سے کیے گئے ذاتی حملوں کی بھی مذمت کی۔ ان میں نوی پلے بھی شامل ہیں، جنہیں 2026کا نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ نوی پلے کی شاندار ساکھ کو اس طرح داغدار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ نوبل امن انعام کی سب سے زیادہ مستحق فاتح ہیں۔ میری رائے میں، اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔‘
رپورٹ کے مطابق، کمیشن کے نتائج مئی 2026میں بورڈ آف پیس کی جانب سے سلامتی کونسل کو پیش کی گئی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ بورڈ آف پیس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنگ بندی بڑی حد تک برقرار رہی ہے اور اس سے ’عام شہریوں کو بڑی راحت‘ملی ہے۔
کمیشن نے نومبر 2023سے جون 2026کے درمیان ویسٹ بینک میں ہوئی ہلاکتوں اور لوگوں کو جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانے کے سات معاملوں کی جانچ کی۔ ان میں سے چھ معاملوں کی دستاویزی تفصیلات جمع کی گئیں۔ کمیشن نے پایا کہ متاثرین نہتے تھے اور ان سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔ کمیشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جان بوجھ کر ان کو قتل کیا۔ مہلوکین میں اکثر بچے تھے، جن میں ایک نوزائیدہ بھی شامل تھا۔
ایک معاملہ سات ماہ کے بچے کی ہلاکت کا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، 5جون 2026کو ویسٹ بینک کے ہیبرون (الخلیل) میں بچے کی جان گئی۔ بچے کے والد نے اپنی کار کی رفتار کم کی اور اسے روک دیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے۔ لیکن ایک اسرائیلی فوجی نے کار پر دو گولیاں چلائیں۔ ان میں سے ایک گولی بچے کے سر میں لگی۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ کار تیزی سے فوجیوں کی جانب بڑھ رہی تھی۔
ایک اور معاملے میں 15مارچ 2026 کو طمون میں کار سے سفر کر رہے ایک خاندان پر فائرنگ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، اس واقعہ میں ماں، باپ اور ان کے دو چھوٹے بیٹوں کی سر میں گولیاں لگنے سے موت ہو گئی۔ خاندان کے دو بڑے بیٹے زخمی ہوئے اور ان کے ساتھ مارپیٹ بھی کی گئی۔
کمیشن نے ویسٹ بینک میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں تیزی سے اضافے کا ذکر کیا۔ 2008سے 6 اکتوبر 2023کے درمیان ان حملوں میں چھ فلسطینی مارے گئے تھے۔ اس کے برعکس، 7اکتوبر 2023 سے 30 ستمبر 2026 کے درمیان 254 فلسطینیوں کی جان گئی۔ اگست 2026 تک اسرائیلی فوجی حملوں کے باعث 34,176 فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے تھے۔
رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ویسٹ بینک میں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں اور اسرائیلی بستیوں کے مکینوں کا تشدد، عام شہریوں کے خلاف کیے جانے والے ’وسیع پیمانے پر اور منظم حملوں‘کا حصہ تھے۔ رپورٹ کے مطابق، ان کارروائیوں کے پیچھے مشترکہ مقاصد کارفرما تھے۔ ان میں اسرائیلی بستیوں کو مزید مستحکم کرنا، فلسطینی علاقوں پر قبضہ کرنا اور فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنا شامل تھا۔کمیشن نے یہ بھی پایا کہ اسرائیل نے ویسٹ بینک میں انسانیت کے خلاف جرائم کیے۔ ان میں بڑے پیمانے پر لوگوں کا قتل، تشدد، ریپ اور طرح طرح سے جنسی تشدد کے ساتھ ساتھ ظلم و جبر بھی شامل تھے۔
حراست کے دوران جنسی تشدد کے معاملوں پر کمیشن نے بتایا کہ مارچ 2025 کی اپنی رپورٹ کے بعد سے اس نے ایسے چار اور معاملوں کی تصدیق کی ہے۔ ان میں گینگ ریپ،پرائیویٹ پارٹس پر تشدد، غلط طریقے سے چھونا، دھمکیاں دینا، زبردستی برہنہ کرنا اور جسم کے اندرونی حصوں کی تلاشی لینا شامل تھا۔ بعض معاملوں میں ویسٹ بینک سے حراست میں لیے گئے لوگ بھی شامل تھے۔رپورٹ کے مطابق، جنسی تشدد کا استعمال ’فلسطینی عوام کو ان کی زمینوں سے بے دخل کرنے، انہیں محکوم بنانے اور عدم استحکام سے دوچار کرنے‘کے لیے کیا گیا۔

