اندور میں اتوار، 25 اکتوبر 2026 کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ(آر ایس ایس)کی جانب سے نکالے گئے پتھ سنچلن کے دوران بی جے پی لیڈر کیلاش وجئے ورگیہ اور سابق رکن اسمبلی آکاش وجئے ورگیہ۔ تصویر:پی ٹی آئی
آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت کے امریکہ پہنچنے کے دو دن بعد ’آر ایس ایس فرینڈز‘ نام کے ایک گروپ نے امریکی محکمہ انصاف میں آر ایس ایس کو غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر رجسٹر کرایا۔ دستاویز کے مطابق، یہ گروپ تعلقات عامہ، تعلیم اور اطلاعات سے متعلق سرگرمیاں انجام دے گا۔ آر ایس ایس نے ہندوستان میں رجسٹریشن نہیں کرایا ہے، جبکہ اس کے کئی غیر ملکی معاونین نے ایسا کیا ہے۔
نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) چیف موہن بھاگوت کے امریکہ پہنچنے کے دو دن بعد، خود کو ’آر ایس ایس فرینڈز‘کہنے والے ایک گروپ نے امریکی محکمہ انصاف میں آر ایس ایس کے غیر ملکی ایجنٹ کے طور پر اپنا رجسٹریشن کرایا ہے۔ امریکہ کے فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (ایف اے آر اے) کے تحت جمع کرائےگئے دستاویز سے یہ جانکاری سامنے آئی ہے۔
رجسٹریشن سے متعلق دستاویز میں نئی دہلی واقع آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر کو اس گروپ کا ’غیر ملکی پرنسپل‘بتایاگیا ہے۔ رجسٹریشن کرانے والے گروپ ’آر ایس ایس فرینڈز‘نے جارجیا کے پیچ ٹری کارنرز کا پتہ دیا ہے۔ گروپ نے کہا ہے کہ اس کی مجوزہ سرگرمیوں میں بنیادی طور پر ’اطلاعات، تعلیم، تعلقات عامہ اور کمیونٹی سے رابطے‘سے متعلق کام شامل ہوں گے۔
دی وائرنے دنیا بھر میں سنگھ اور اس سے وابستہ تنظیموں کی موجودگی کی تفصیلات پر مشتمل ایک ڈیٹا سیٹ کا استعمال کرتے ہوئے پتہ لگایا تھا کہ آر ایس ایس نے ہندوستان میں رجسٹریشن کرانے سے انکار کیا ہے، لیکن اس نے خاموشی سے بیرون ملک اپنی بیشتر معاون تنظیموں کا رجسٹریشن کرا رکھا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں نے ہندوستان اور بیرون ملک کئی جگہوں پر وہاں کے قوانین کے تحت اپنا رجسٹریشن کرایا ہے، جبکہ ان کی مربی تنظیم آر ایس ایس ہندوستان میں ایسا کرنے سے انکار کرتی ہے۔ الگ الگ ملکوں اور تنظیموں کے معاملے میں رجسٹریشن کے حوالے سے اس کے الگ الگ معیارات کیوں ہیں، اس بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی گئی ہے۔
’آر ایس ایس فرینڈز‘کا کہنا ہے کہ وہ صحافیوں، محققین، تعلیمی اور پالیسی ساز اداروں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ’جہاں مناسب ہو‘سرکاری ایجنسیوں یا عہدیداروں سے بات چیت کر سکتا ہے۔ گروپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ آر ایس ایس کے بارے میں حقائق پر مبنی معلومات یا اپنے خیالات پیش کرنے کے لیے انتظامی اداروں، سرکاری ایجنسیوں اور پالیسی سازوں سے رابطہ کرے گا۔
اس کے باوجود، گروپ نے یہ پوچھے جانے پر ’نہیں‘میں جواب دیا کہ کیا اس کی سرگرمیوں میں ایف اے آر اے قانون کے تحت متعین سیاسی سرگرمیاں بھی شامل ہوں گی۔ اس قانون کے دائرے میں امریکی ایجنسیوں، عہدیداروں یا عوام کے کسی طبقے کو پالیسیوں یا کسی غیر ملکی مفادات کے بارے میں متاثر کرنے کی کوششیں شامل ہیں۔
نئے رجسٹرڈ گروپ نے اپنی مجوزہ سرگرمیوں کی تفصیلات میں کہا ہے کہ وہ ’ایسی معلومات کی اصلاح یا ان کا جواب دینے‘کا کام کرے گا، جنہیں آر ایس ایس فرینڈز غلط، نامکمل یا ضروری سیاق و سباق سے محروم سمجھتا ہے۔
دستاویز پر راجندر سوناریکر اور جینت پنت کے دستخط ہیں۔
دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس کے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہے۔ ایک ضمنی دستاویز میں گروپ نے اس متبادل پر نشان لگایا ہے، جس کے مطابق یہ انتظام نہ تو کسی باضابطہ تحریری معاہدے کا نتیجہ ہے اور نہ ہی خط و کتابت کے تبادلے کا۔
ایک ضمیمے میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس فرینڈز کا آر ایس ایس کے ساتھ روزگار، مشاورت، لابنگ، تعلقات عامہ یا ایجنسی سے متعلق کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہے، جس میں انجام دیے جانے والے کام، ادائیگی یا کام کرنے سے متعلق تفصیلی ہدایات طے کی گئی ہوں۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں نکالا جانا چاہیے کہ دونوں کے درمیان کوئی تعلق، درخواست، رضامندی، تال میل، اجازت، ہدایات یا کسی بھی نوعیت کا دوسرا متعلقہ رابطہ موجود نہیں ہے۔ گروپ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں سے متعلق حقائق کا انکشاف کرے گا۔
دستاویز میں کہا گیا ہے،’آر ایس ایس فرینڈز اپنی سرگرمیاں کھلے طور پر اور شفاف طریقے سے انجام دینا چاہتا ہے۔ اس ضمیمے میں دی گئی تفصیلات کا مقصد عوام کے سامنے یہ واضح کرنا ہے کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے ساتھ آر ایس ایس فرینڈز کا کوئی تعلق ہے یا نہیں اور اگر ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے۔‘
آر ایس ایس فرینڈز نے یہ پوچھے جانے پر ’نہیں‘ میں جواب دیا کہ کیا اس نے رجسٹریشن کرانے سے پہلے ایسی کوئی سرگرمی انجام دی تھی، جس کے لیے رجسٹریشن ضروری تھا۔
گروپ نے اس سوال کا جواب بھی ’نہیں‘میں دیا ہے کہ رجسٹریشن کی پابندی عائد ہونے سے پہلے کے 60 دنوں کے دوران اس نے آر ایس ایس کی جانب سے کی جانے والی کسی سرگرمی کے سلسلے میں کوئی رقم یا قیمتی چیز حاصل کی تھی یا خرچ کی تھی۔
’ایگزیبٹ اے‘کے نام سے منسلک دستاویز میں گروپ نے آر ایس ایس کو ’ہندوستان میں واقع لوگوں کی ایک ایسی تنظیم قرار دیا ہے، جو باضابطہ طور پر رجسٹرڈ نہیں ہے اور ہندو ثقافتی، سماجی خدمت، تعلیمی، شہری اور نظریاتی سرگرمیوں میں شامل ہے۔‘
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس ’مقامی شاخوں اور تربیتی پروگراموں کا انعقاد کرتا ہے، کمیونٹی سروس اور راحت رسانی کے کاموں کی حمایت کرتا ہے اور سماجی و ہندو ثقافتی نظریے کو فروغ دیتا ہے۔‘
پچیس اگست کو موہن بھاگوت امریکہ پہنچے تھے۔ ان کے دورے کا اہم پروگرام 29 اگست کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں خطاب کرنا تھا۔
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اس پروگرام کی پہلے ہی تنقید کر چکے تھے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس تقریب کی حمایت میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس ہندوستان میں ایسی سوچ کو فروغ دیتا ہے، جس میں بعض برادریوں کو الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔
بھاگوت کے اس دورے کے بعد امریکی مذہبی آزادی کمیشن( یو ایس سی آئی آر ایف)نے بھی واشنگٹن سے آر ایس ایس کے ارکان پر پابندیاں عائد کرنے اور بھاگوت کا ویزا رد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کمیشن نے الزام لگایا تھا کہ آر ایس ایس سے وابستہ تنظیموں کے ارکان نے عیسائیوں، دلتوں، مسلمانوں اور سکھوں جیسی مذہبی اقلیتوں پر حملے کیے ہیں۔
اس پر ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ یو ایس سی آئی آر ایف ایک جانبدار تنظیم ہے، جو کئی برسوں سے ہندوستان کے بارے میں گمراہ کن اور اشتعال انگیز بیانات دیتی رہی ہے۔

