بشار الاسد حکومت کے حامی سابق مفتیٔ اعظم احمد بدرالدین حسون عدالت کے کٹہرے میں


دمشق (بین الاقوامی ڈیسک) — شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد اب سابق حکومت سے وابستہ شخصیات کے خلاف مقدمات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی ضمن میں سابق مفتیٔ اعظم احمد بدرالدین حسون کے خلاف مقدمے کی پہلی سماعت گزشتہ دنوں دمشق کے محلِ انصاف میں ہوئی۔
۷۷ سالہ حسون پر الزام ہے کہ اپنے سرکاری منصب پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور قتل پر اکسانے میں کردار ادا کیا۔ عدالت میں پیش کی گئی چارج شیٹ کے مطابق ان کے بیانات نے مسلح تنازع کے دوران اہلکاروں کی جانب سے کیے جانے والے مظالم کو قانونی و اخلاقی جواز فراہم کیا۔ حسون کو ’بیرل مفتی‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے شام کے مختلف علاقوں، خصوصاً حلب پر بیرل بموں کے استعمال کی حمایت کی تھی۔
احمد بدرالدین حسون ۲۵ اپریل ۱۹۴۹ء کو حلب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد شیخ ادیب حسون ایک صوفی عالم تھے۔ انہوں نے ۱۹۶۷ء میں مصر جا کر جامعہ الازہر سے شافعی فقہ میں تعلیم اور بعد ازاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ حلب کی مساجد میں امام و خطیب کے فرائض انجام دینے کے بعد ۱۹۹۰ء میں وہ شامی پارلیمان کے رکن منتخب ہوئے اور ۱۹۹۸ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ۲۰۰۵ء میں انہیں شام کا مفتیٔ اعظم مقرر کیا گیا، تاآنکہ ۲۰۲۱ء میں ایک صدارتی حکم کے تحت یہ عہدہ ہی ختم کر دیا گیا۔
حسون کا عروج بعث پارٹی اور اسد خاندان کے اقتدار سے جڑا رہا اور وہ شامی سیکیورٹی اداروں کے قریبی سمجھے جاتے تھے۔ ۲۰۱۱ء کی شامی بغاوت کے آغاز سے ہی انہوں نے بشار الاسد حکومت کی حمایت کی اور مظاہروں کو ’غیر ملکی سازش‘ قرار دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان کا منصب سزائے موت کی منظوری کے عمل میں بھی استعمال ہوتا رہا۔
دسمبر ۲۰۲۴ء میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد حسون کو نئی قیادت کے سامنے جواب دہ ہونا پڑا۔ فروری ۲۰۲۵ء میں مظاہرین نے ان کے گھر پر دھاوا بولا، اور مارچ ۲۰۲۵ء میں گرفتاری کا وارنٹ جاری ہونے کے بعد انہیں دمشق ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔ جولائی ۲۰۲۵ء میں ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ شروع ہوا، اور اب پہلی سماعت کے بعد کارروائی ۱۶ جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
سماعت کے دوران ایک واقعہ بھی پیش آیا: بتایا جاتا ہے کہ جب مفتی احمد بدرالدین اپنی صفائی میں بیان دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو قرآن شریف کی ایک آیت پڑھنے لگے، جس پر جج نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ ’’آپ یہاں واعظ کرنے کے لیے نہیں بلکہ عدالت کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے کھڑے ہیں۔‘‘ اس منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس پر رائے منقسم ہے — کچھ صارفین اس کارروائی کو درست قرار دے رہے ہیں جبکہ کچھ کے نزدیک ایک عالمِ دین کے ساتھ ایسا سلوک مناسب نہیں۔

متعلقہ پوسٹ