آسٹریلیا کی قومی فٹبال ٹیم کے بین الاقوامی فارورڈ ٹیٹی ینگی نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان انہوں نے اپنی ٹیم کے مصر کے خلاف فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے راؤنڈ آف ۳۲ کے اہم مقابلے سے چند روز قبل کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر یہ خبر وسیع پیمانے پر زیرِ بحث آئی۔
ینگی نے ’’قلبی اسٹوڈیوز‘‘ (Qalby Studios) کے ذریعے انسٹاگرام پر نشر ہونے والے ایک بیان میں بتایا کہ اسلام کی طرف ان کا سفر اُس وقت شروع ہوا جب وہ تجسس کے تحت ایڈیلیڈ کی ایک مسجد گئے تاکہ مسجد کا ماحول دیکھ سکیں اور مسلمانوں کو نماز ادا کرتے ہوئے قریب سے مشاہدہ کریں۔ ان کے بقول یہ دورہ ان کی فکری و روحانی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ مسجد میں ان کی ملاقات زمبابوے سے تعلق رکھنے والے معروف اسلامی داعی مفتی اسماعیل مینک سے ہوئی، جو وہاں خطبۂ جمعہ دے رہے تھے۔ گفتگو کے دوران مفتی مینک نے پوچھا کہ کیا انہوں نے کلمۂ شہادت پڑھا ہے؟ نفی میں جواب ملنے پر مفتی مینک نے انہیں شہادتین پڑھنے کی دعوت دی، جس پر انہوں نے مسجد ہی میں اسلام قبول کر لیا۔
ینگی نے واضح کیا کہ ان کا یہ فیصلہ کسی وقتی جذبے کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل تحقیق، مطالعے اور غور و فکر کے بعد کیا گیا ایک پختہ ذاتی فیصلہ ہے۔
۲۶ سالہ ٹیٹی ینگی سن ۲۰۰۰ء میں ایڈیلیڈ، آسٹریلیا میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان اصل میں جنوبی سوڈان سے تعلق رکھتا ہے جو بعد ازاں آسٹریلیا منتقل ہو کر آباد ہوا۔ وہ اپنی جسمانی صلاحیتوں اور فنی مہارت کے باعث آسٹریلوی قومی ٹیم کے نمایاں فارورڈز میں شمار ہوتے ہیں اور اس وقت جاپانی کلب ماچیدا زیلویا کی نمائندگی کر رہے ہیں، جو گزشتہ سیزن ایشین چیمپئنز لیگ ایلیٹ کا رنر اپ رہا۔
آسٹریلیا کی قومی ٹیم نے جمعہ کی شام فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے راؤنڈ آف ۳۲ میں مصر کا مقابلہ کیا، جس میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

