دمشق (بین الاقوامی ڈیسک) — ۷ جولائی کو شام کے دارالحکومت دمشق میں اس وقت زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون شام کے دورے پر موجود تھے۔ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد یہ کسی بھی بڑے یورپی یونین رہنما کا شام کا پہلا دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جیسے ہی صدر میکرون صدارتی محل میں اپنے شامی ہم منصب صدر احمد الشرع سے ملاقات کے لیے داخل ہوئے، دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دھویں کا بڑا بادل، ایک جلتی ہوئی گاڑی اور سڑک پر خون کے نشانات دکھائے گئے ہیں۔
شامی ذرائع کے مطابق دھماکہ فور سیزنز ہوٹل کے قریب ہوا، جہاں فرانسیسی صدر قیام پذیر تھے، اور رپورٹس میں دھماکہ خیز مواد کے استعمال کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم شامی حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، اور نہ ہی کسی گروہ نے ذمہ داری قبول کی ہے۔ ہلاکتوں یا زخمیوں کی تعداد کے بارے میں بھی حتمی معلومات موجود نہیں۔
فرانسیسی صدر کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ صدر میکرون محفوظ ہیں اور ان کا دورۂ شام معمول کے مطابق جاری ہے۔ یہ واقعہ شام کی نازک سیاسی منتقلی کے دوران سیکیورٹی صورتحال پر نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔

