ابوظہبی — متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 کے ہندوستانی کپتان سمت مچھار اور عملے کے تمام ارکان کو ان کی بہادری پر ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزازات میں سے ایک، فرسٹ کلاس آرڈر آف زاید دوم، سے نوازا۔ تقریب میں زخمی کپتان کے بازو پر سلنگ تھی اور سر پر زخموں کے ٹانکے نظر آ رہے تھے۔
شیخ محمد بن زاید نے کپتان مچھار سے ملاقات کے دوران ان کی صحت یابی کا جائزہ لیا اور جب معلوم ہوا کہ مکمل صحتیابی میں تقریباً دو ماہ درکار ہیں تو انہوں نے مذاق میں کہا کہ صحت یاب ہونے کے بعد وہ انہیں ذاتی طور پر لڑائی کی تربیت دیں گے۔ انہوں نے کہا: ”جب آپ صحت یاب ہو جائیں تو میں آپ کے ساتھ ایک سیشن رکھنا چاہتا ہوں تاکہ آپ کو لڑائی کی تربیت دے سکوں۔“
صدر نے فلائٹ FZ1073 کے پورے عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی ہوا، یو اے ای ان کا ملک ہے، یہاں ان کے لیے گھر ہے اور وہ ان کا خاندان ہیں۔ ان کے یہ الفاظ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئے اور صدر کے رویے کو انسانیت کی خوبصورت مثال قرار دیا گیا۔
واقعہ 30 ستمبر کو پیش آیا تھا، جب دبئی سے تل ابیب جا رہی فلائی دبئی کی FZ1073 میں سہولی پائلٹ نے کپتان مچھار پر حملہ کیا اور مبینہ طور پر طیارے کو تل ابیب کے اوپر گراکر ہلاکت خیز حادثہ کرنے کی کوشش کی۔ زخمی ہونے کے باوجود کپتان مچھار نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا، جس سے عملے، آف ڈیوٹی پائلٹس اور مسافروں کو حملہ آور کو قابو کرنے کا موقع ملا۔ طیارہ محفوظ طریقے سے سعودی عرب کے شہر تبوک منتقل ہوا اور تمام مسافر محفوظ رہے۔
یو اے ای کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بھی عملے کے ہر رکن سے ذاتی ملاقات کی، جبکہ دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد نے عملے کے ضبط و تحمل کی تعریف کرتے ہوئے اعزازات پیش کیے۔

